
پاکستان کا برائیلر پولٹری سیکٹر ایک بار پھر ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ایک غلط یا غیر مربوط اجتماعی فیصلہ پورے نظام کو شدید نقصان سے دوچار کر سکتا ہے۔ گزشتہ چار ماہ سے تیار برائیلر کی قیمتیں مسلسل پیداواری لاگت سے کم سطح پر موجود ہیں۔ اس صورتحال نے فارمرز کا کیش فلو تقریباً ختم کر دیا ہے، قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور سب سے بڑھ کر اعتماد ٹوٹ رہا ہے۔
اسی دوران پاک–افغان سرحد کی بندش نے ایک اور سنگین عنصر کو جنم دیا ہے: وہ اوور پروڈکشن پریشر جو اب مکمل طور پر ملکی مارکیٹ پر منتقل ہو چکا ہے۔ برائیلر چوزے کی پیداوار، مارکیٹ کی حقیقی طلب سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے — ایک ایسا فرق جو آہستہ آہستہ فارمر کو معاشی طور پر مفلوج کر دیتا ہے، جبکہ پیداواری چین کے طاقتور حلقے نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب سپلائی حد سے تجاوز کرتی ہے تو قیمت کا پہلا وار ہمیشہ فارمر پر پڑتا ہے، نہ کہ کمپنی پر۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تحریریں، جن میں چوزہ پلیسمنٹ روکنے یا اوور پروڈکشن کو “ڈمپ” ہونے دینے جیسے سخت الفاظ سامنے آئے، درحقیقت کسی سازش کا اعلان نہیں بلکہ ایک ٹوٹتے ہوئے سسٹم کی چیخ ہیں۔ یہ تحریریں فارمر کے اندر جمع ہونے والے غصے، خوف اور بے بسی کی عکاس ہیں۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ دانستہ ضیاع نہ صرف اینیمل ویلفیئر کے اصولوں سے متصادم ہے بلکہ اس کے قانونی اور اخلاقی پہلو بھی نہایت حساس اور پیچیدہ ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ غصہ جائز ہے یا نہیں – اصل سوال یہ ہے کہ اس بحران سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
اداریہ کی رائے میں، جب تک:
چِکس کی پیداوار کو حقیقی ڈیمانڈ، قابلِ اعتماد ڈیٹا اور ریجنل پلاننگ سے منسلک نہیں کیا جاتا
فارمر اور کمپنی کے درمیان رسک کی منصفانہ تقسیم کو تسلیم نہیں کیا جاتا
اور ریگولیٹری ادارے فعال کردار ادا کرنے کے بجائے محض تماشائی بنے رہتے ہیں
تب تک ہر چند ماہ بعد یہی بحران، یہی چیخیں اور یہی معاشی نقصانات خود کو دہراتے رہیں گے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر فارمر ہر بار خوف یا وقتی امید کے تحت غیر ضروری پلیسمنٹ کرتے رہے تو مارکیٹ کبھی خود کو درست نہیں کر پائے گی۔ سپلائی چین میں توازن نہ تو جذباتی ردِعمل سے قائم ہوتا ہے اور نہ ہی تباہی یا ضیاع سے۔ یہ توازن صرف اجتماعی نظم، وقتی ضبط، شفاف معلومات اور مؤثر پالیسی مداخلت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ:
پولٹری انڈسٹری کے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک میز پر بیٹھیں
حقیقی اور قابلِ تصدیق پیداواری اعداد و شمار سامنے لائے جائیں
اور فارمر کو محض آخری کڑی نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا شراکت دار تسلیم کیا جائے
ورنہ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جس انڈسٹری میں صرف طاقتور زندہ رہیں اور کمزور مسلسل قربان ہوتے رہیں، وہ انڈسٹری زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔
یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ اجتماعی عقل، ذمہ دار فیصلوں اور دور اندیشی کا ہے کیونکہ اگر آج بھی توازن قائم نہ کیا گیا تو کل شاید صرف بحران بچے… اور فارمر نہیں۔
اداریہ
ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز
—