فیصل آباد میں مشترکہ پاک-چین آئل سیڈز لیبارٹری کا افتتاح

پاک-چین زرعی اشتراک میں نئی پیش رفت: چینی وفد کا ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کا دورہ

آئل سیڈز لیبارٹری کا افتتاح، تحقیقاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ

نارتھ ویسٹ ایگریکلچر اینڈ فاریسٹری یونیورسٹی، یانگلنگ، چین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، فیصل آباد کا دورہ کیا۔ وفد کی قیادت ممتاز چینی سائنسدان پروفیسر ژانگ لیشن اور پروفیسر سن ڈاؤیانگ نے کی۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے مابین زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ منصوبہ جات میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔

دورے کے دوران آئل سیڈز ریسرچ انسٹیٹیوٹ، فیصل آباد میں قائم "مشترکہ پاک-چین آئل سیڈز لیبارٹری” کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ یہ لیبارٹری دونوں اداروں کے درمیان سائنسی ہم آہنگی کی عملی مثال ہے، جس کا مقصد تیل دار اجناس کی نئی اقسام کی تیاری، معیار کی بہتری اور صنعتی ویلیو چین کو ترقی دینا ہے۔ اس لیبارٹری کے قیام سے آئل سیڈز کی کوالٹی میں نمایاں بہتری آئے گی اور نئی ورائٹیز کی ڈویلپمنٹ میں خاطرخواہ مدد ملے گی۔ اس کے نتیجے میں بہتر اور موسمیاتی اثرات کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اقسام دستیاب ہوں گی۔ برآمدات کے حوالے سے بھی، بالخصوص تل کی برآمد، اعلیٰ معیار کے ساتھ ممکن ہو سکے گی، جس سے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔

چینی وفد نے "مشترکہ تل کے نمائشی پلاٹس” کا بھی دورہ کیا، جہاں جاری تحقیقی سرگرمیوں اور تجرباتی فصلوں کا جائزہ لیا گیا۔ وفد کو جدید طریقۂ کاشت، تحقیقاتی نتائج اور عملی اطلاق کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے چیف سائنٹسٹ ایگریکلچر ریسرچ پنجاب، ڈاکٹر ساجد الرحمٰن نے کہا”زراعت کا مستقبل کپاس، گندم اور ہائی ویلیو ایگریکلچر خصوصاً تیلدار اجناس، سبزیات اور پھلوں کی زیادہ پیداوار سے منسلک ہے۔ زرعی سائنس دانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی قوتِ مدافعت والی نئی اقسام کی دریافت پر توجہ دینی چاہیے، جن سے پیداوار میں اضافہ ہو سکے اور ملکی درآمدی بل میں کمی لائی جا سکے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ چینی اداروں کے ساتھ اشتراک سے پاکستان کو جدید تحقیق میں مدد ملے گی، جس سے کسان براہِ راست مستفید ہوں گے۔

چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ڈاکٹر جاوید احمد نے کہا کہ مشترکہ تحقیقی منصوبے فصلوں کی پیداوار بڑھانے، بیماریوں کی مزاحمت پیدا کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

چیف سائنٹسٹ، آئل سیڈز ریسرچ انسٹیٹیوٹ، محمد یونس نے چینی وفد کو تیل دار اجناس سے متعلق جاری تحقیق، نئی اقسام کی تیاری اور کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نئی لیبارٹری نہ صرف تحقیق کے عمل کو تیز کرے گی بلکہ مقامی پیداوار اور خودکفالت کی راہ بھی ہموار کرے گی۔

چیف ایگزیکٹو پارب، ڈاکٹر عابد محمود اور پرنسپل سائنٹسٹ، تیلدار اجناس، حافظ سعد بن مصطفی بھی اس موقع پر موجود تھے اور انہوں نے دورے کی کامیابی اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

زرعی ماہرین کے مطابق یہ دورہ پاک چین زرعی تعاون میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جو سائنسی ترقی، تحقیق میں جدت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو نئی جہت دے گا۔