لاہور میں غیر رجسٹرڈ سیمنز کی فروخت پر چھاپہ – گودام سے بھاری مقدار میں غیر قانونی سیمن ڈوز برآمد

لاہور، 28 جولائی 2025:
وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے ویژن اور صوبائی وزیر لائیوسٹاک سید عاشق حسین کرمانی کی زیر سرپرستی، محکمہ لائیوسٹاک پنجاب کی ہدایات پر اور وفاقی سطح پر جاری انسدادی مہم کے تحت جعلی سیمن ڈسٹری بیوٹرز مافیا کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔

اسی سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک تحصیل و سٹی لاہور ڈاکٹر مجاہد فاروق کی سربراہی میں 28 جولائی کو ایک اہم چھاپہ مار کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ان کے ہمراہ ویٹنری افسران ڈاکٹر عبدالغفار (ویٹرنری آفیسر) اور حافظ فرقان علی (آرٹیفیشل انسیمینیشن ٹیکنیشن) بھی شامل تھے۔

یہ ٹیم لاہور میں ایک گودام پر پہنچی، جہاں سے بھاری مقدار میں غیر رجسٹرڈ افزائشی مواد (سیمن ڈوز) اور لیکویفائیڈ نائٹروجن برآمد کی گئی، جنہیں پنجاب لائیوسٹاک بریڈنگ ایکٹ 2014 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ذخیرہ اور فروخت کیا جا رہا تھا۔

یہ تمام سیمن ڈوز پنجاب لائیوسٹاک بریڈنگ ایکٹ 2014 کی شق 32 اور 33 کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ذخیرہ و فروخت کیے جا رہے تھے، جو جانوروں کی صحت، افزائش نسل کے معیار اور کسانوں کے مفاد کے خلاف جرم تصور کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر مجاہد فاروق نے ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز سے گفتگو میں کہا:

وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی ہدایات اور سیکرٹری لائیوسٹاک کے احکامات پر، پنجاب بھر میں محکمہ لائیوسٹاک کی جانب سے لائیوسٹاک بریڈنگ ایکٹ 2014 کے تحت ناقص، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ سیمن کی فروخت و تقسیم کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد جانوروں کی اعلیٰ نسل کشی کو فروغ دینا، کسانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ کرنا، اور قومی زرعی معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔