پولٹری فیڈ پر 81 ارب روپے کی سیلز ٹیکس چھوٹ

اسلام آباد (ویٹ نیوز اینڈ ویوز رپورٹر) – فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پولٹری فیڈ کی مقامی فراہمی پر 81 ارب روپے کی سیلز ٹیکس چھوٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ بات ایف بی آر کی جاری کردہ سالانہ ٹیکس اخراجات کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جس کے مطابق یہ اقدام غذائی تحفظ اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔

ایف بی آر کے مطابق یہ چھوٹ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے چھٹے شیڈول کے تحت دی گئی ہے۔ اس میں نہ صرف پولٹری فیڈ شامل ہے بلکہ اس کا دائرہ کار مویشیوں کی خوراک، سورج مکھی کے بیجوں کا کھانا، کینولا سیڈ میل اور ریپ سیڈ میل تک پھیلا ہوا ہے، جو صحت مند مویشی اور پولٹری پیداوار کے لیے ضروری اجزاء تصور کیے جاتے ہیں۔

اگرچہ اس ٹیکس چھوٹ سے پولٹری فارمز کی پیداواری لاگت میں کمی متوقع تھی، تاہم پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق برائلر چکن کی قیمت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2024 میں زندہ برائلر چکن کی قیمت 462.65 روپے فی کلو تھی جو 2025 میں بڑھ کر 535.48 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

مارکیٹ میں قیمتوں کے اس اضافے نے صارفین اور معاشی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بہت سے حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹیکس چھوٹ کے باوجود قیمتوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صنعت سے ملنے والا فائدہ صارفین تک منتقل نہیں ہو رہا۔