
فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر مہرالنسا نے پاکستان میں پولٹری مصنوعات کے حوالے سے مستند اور سائنسی معلومات عام کرنے میں غیر معمولی علمی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی سرگرمیاں صرف لیبارٹری ریسرچ تک محدود نہیں بلکہ پولٹری نیوٹریشن، مصنوعات کے معیار، انسانی غذائیت، انڈسٹری اکیڈیمیا روابط اور صارفین کی رہنمائی تک پھیلی ہوئی ہیں۔
انہوں نے پولٹری فیڈ فارمولیشن، غذائی مداخلتوں، انڈے اور مرغی کے گوشت کی غذائی افادیت پر گرانقدر کام کیا۔ ان کا بنیادی ہدف یہ رہا کہ سائنسی علم کو ریسرچ پیپرز سے نکال کر عام فہم انداز میں معاشرے کے ہر طبقے تک منتقل کیا جائے۔
سال 2012 سے وہ ورلڈز پولٹری سائنس ایسوسی ایشن اور پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارمز کے ذریعے اکیڈیمیا اور پولٹری انڈسٹری کے تعلق کو استوار کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔ ان کا فوکس تحقیق، معیاری تعلیم اور سائنسی حقائق کی مؤثر ترسیل پر رہا ہے۔
ان کی جدوجہد کا ایک نمایاں حصہ مرغی کے گوشت اور انڈوں کے بارے میں عوامی سطح پر پائی جانے والی غلط فہمیوں اور بے بنیاد افواہوں کا سائنسی رد کرنا ہے۔ سیمینارز، ورکشاپس اور مختلف میڈیا چینلز کے ذریعے انہوں نے مسلسل یہ باور کرایا کہ غذائی اشیاء سے متعلق رائے محض سنی سنائی باتوں پر نہیں بلکہ ٹھوس سائنسی شواہد پر مبنی ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر مہرالنسا نے پولٹری سیکٹر کو صرف ایک تجارتی شعبہ سمجھنے کے بجائے معیاری اور سستی پروٹین کی فراہمی کا کلیدی ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے خواتین ماہرین، نیوٹریشنسٹس، اساتذہ اور طلبہ کو اس مہم کا حصہ بنایا۔ ایگ ڈے اور ویمنز ڈے کے موقع پر ان کی خصوصی کاوشوں کا مقصد خواتین پروفیشنلز کو پولٹری انڈسٹری کے قریب لانا تھا تاکہ وہ اپنے گھروں اور کمیونٹیز میں متوازن غذا کے حوالے سے درست شعور اجاگر کر سکیں۔
ان کا علمی اور عملی سفر دراصل پولٹری سائنس، انسانی غذائیت اور کنزیومر ایجوکیشن کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جس نے صنعتی پیداوار اور عام صارف کے درمیان موجود فاصلے کو کم کیا ہے۔