درآمد شدہ گوشت کے ذریعے H5N1 وائرس کی منتقلی پر سوالات

بین الاقوامی پولٹری کونسل (IPC) اور برازیلین ایسوسی ایشن آف اینیمل پروٹین (ABPA) کے صدر ریکارڈو سانتن نے کہا ہے کہ برڈ فلو (H5N1) کے پھیلاؤ کے تناظر میں عائد کی جانے والی موجودہ تجارتی پابندیاں غیر متناسب ہیں اور سائنسی شواہد سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی کسی ملک میں برڈ فلو کا پھیلاؤ سامنے آتا ہے تو کئی ممالک فوراً اس ملک سے پولٹری مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دیتے ہیں، لیکن یہ اقدامات عالمی تجارت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بیماری کے پھیلاؤ کو مؤثر طور پر نہیں روکتے۔

انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ جنگلی پرندے وائرس کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرتے ہیں اور اس عمل کو کسی انتظامی اقدام کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا۔ اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ H5N1 وائرس منجمد گوشت میں -18 ڈگری سیلسیس پر 60 دن سے زیادہ عرصہ زندہ رہ سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انفیکشن پھیلانے کا ذریعہ بنے گا۔ اگر گوشت صنعتی کنٹرول شدہ ماحول میں پروسیس ہو یا انسانی استعمال کے لیے 74 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ پر پکایا جائے تو وائرس غیر فعال ہو جاتا ہے۔

ریکارڈو سانتن کے مطابق عالمی ادارہ برائے حیوانی صحت (WOAH) تسلیم کرتا ہے کہ اگر مصنوعات متاثرہ علاقے سے نہ ہوں اور ان کا معائنہ ہو تو متاثرہ ملک سے بھی پولٹری مصنوعات کی محفوظ تجارت ممکن ہے۔ اسی لیے ممالک کو زوننگ اور کمپارٹمنٹلائزیشن جیسے اصول اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ غیر ضروری تجارتی رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا پولٹری برآمد کنندہ برازیل اب براہِ راست ان غیر حقیقت پسندانہ اقدامات سے متاثر ہو رہا ہے۔ پولٹری انڈسٹری کئی برسوں سے اس قسم کے مسائل کا سامنا کر رہی ہے لیکن برازیل میں HPAI کی تصدیق کے بعد اب عالمی پولٹری تجارت کے اصول بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کئی برائلر فارمرز ویکسینیشن کو پسند نہیں کرتے لیکن کچھ نے اسے حقیقت کے طور پر قبول کیا ہے۔ پولٹری صرف مرغی کا گوشت ہی نہیں بلکہ انڈے، ٹرکی اور جینیاتی مواد بھی ہے اور جنگلی پرندے اب بھی وائرس پھیلانے میں آزاد ہیں۔ اسی لیے ایک نئے ضابطہ جاتی فریم ورک کی ضرورت ہے جو حقیقی خطرات، سائنسی شواہد اور متناسب اصولوں پر مبنی ہو۔