
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) 18 ستمبر 2025 – پاکستان اور چین نے گدھا انڈسٹری کو باضابطہ شعبہ بنانے کے لیے چار اہم معاہدوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں کا سب سے نمایاں پہلو "چائنا-پاکستان جوائنٹ لیبارٹری فار ڈونکی انڈسٹری انوویشن” کا قیام ہے جس کا مقصد گدھوں کی نسل میں بہتری، ویٹرنری ہیلتھ ریسرچ اور جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے فارمنگ کے نئے طریقے متعارف کرانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) اور سنگ یانگ انڈسٹریل (بیجنگ) گروپ کے درمیان ایک لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے گئے جس میں کانٹریکٹ فارمنگ ماڈل اور سپلائی چین کو باضابطہ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی طرح چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز اور متعدد چینی اداروں کے ساتھ تحقیق اور ویلیو ایڈڈ بائی پراڈکٹس کی تیاری کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی معاہدے ہوئے۔
اس موقع پر وزارتِ غذائی تحفظ و تحقیق پاکستان نے ایک پالیسی بیان جاری کیا جس میں ایکسپورٹ ریگولیشنز، غیرقانونی ذبح کی روک تھام اور صنعت کی نگرانی کے اقدامات شامل ہیں۔ چینی سفارتکار شی یوان چیانگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تعاون چین-پاکستان اقتصادی شراکت داری کا ایک نیا ستون ثابت ہو سکتا ہے جو زرعی جدیدیت اور دیہی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ شراکت داری پاکستان کو اربوں ڈالر کے ایکسپورٹ مواقع فراہم کر سکتی ہے تاہم جانوروں کی فلاح اور مقامی کمیونٹیز کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک ناگزیر ہے۔