اداریہ ڈیری فارمرز کی آواز دبانا: ریاستی سنجیدگی کا امتحان

اداریہ: ڈیری فارمرز کی آواز دبانا – ریاستی سنجیدگی کا اصل امتحان

نیشنل ڈیری کانفرنس جیسے اعلیٰ سطحی فورم پر اگر ریاست کے باقاعدہ مدعو کردہ اسٹیک ہولڈر کو بات مکمل کرنے کی اجازت نہ دی جائے، بار بار ٹوکا جائے اور تضحیک کا نشانہ بنایا جائے تو یہ محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پورے شعبے کے وقار اور ریاستی طرزِ عمل پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر شاکر عمر گجر کا یہ مؤقف کہ انہیں بار بار مداخلت کے ذریعے خاموش کرایا گیا اور کھلے عام دھمکی دی گئی—ایک سنجیدہ الزام ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ الزام درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پالیسی سازی کے نام پر منعقدہ فورمز مکالمے کے بجائے طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری اور آئینی ریاست کے شایانِ شان نہیں۔

ڈیری سیکٹر پاکستان کی معیشت، غذائی تحفظ اور دیہی روزگار کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ایسے میں ڈیری فارمرز کی قیادت کی آواز دبانا دراصل زمینی حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ اختلافِ رائے سے گھبرانا یا سوال اٹھانے والوں کو “غیر متعلقہ” کہہ کر خاموش کرانا نہ مسئلے حل کرتا ہے اور نہ ہی اعتماد قائم رکھتا ہے۔

اس معاملے میں سب سے مناسب، سنجیدہ اور تعمیری راستہ غیر جانبدار انکوائری کمیٹی کا قیام ہے—ایسی کمیٹی جو شواہد، ویڈیو ریکارڈنگ اور تمام فریقین کا مؤقف سن کر یہ طے کرے کہ خرابی کہاں ہوئی اور ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ ادارہ جاتی شفافیت اسی سے ممکن ہے۔

مزید برآں، اگر کسی افسر کا رویہ واقعی توہین آمیز ثابت ہوتا ہے تو بہترین حل محض سزا نہیں بلکہ کھلے دل سے معذرت اور رویے کی اصلاح ہے۔ ریاستی اداروں کی اصل طاقت جوابدہی اور اخلاقی جرات میں ہوتی ہے۔ ایسے افسران کو آئندہ اس نوعیت کی عوامی یا اسٹیک ہولڈر انگیجمنٹ کی ذمہ داریاں سونپنے سے بھی گریز کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ جنم نہ لیں۔

آخر میں، یہ واضح ہونا چاہیے کہ پالیسی مکالمہ احسان نہیں، آئینی ذمہ داری ہے۔ اگر ڈیری فارمرز کو نہیں سنا جائے گا تو ترقیاتی فریم ورک محض کاغذی دعوے بن کر رہ جائیں گے۔ ریاست کی سنجیدگی اسی دن ثابت ہوگی جب وہ اختلاف کو برداشت کرے، غلطی تسلیم کرے اور شراکت داری کو وقار کے ساتھ آگے