لمپی سکن وائرس – مویشیوں کی جان کا دشمن!

تحریر ڈاکٹر سرتاج خان

لمپی اسکین بیماری پہ 2 سال پہلے بھی میں نے بہت لکھا تھا ، اس دفعہ بھی لکھ رہا ہوں ، یہ بیماری اب پاکستان میں 3 سے 7 سال کے بعد تباہی مچائے گی.

وجوہات یہ ہیں

1) جن جانوروں کو لمپی ویکسین یا بیماری کے صورت میں قدرتی مدافعت ہوتا ہے وہ 3 سے 7 سالوں میں ختم ہوجاتا ہے 

2) ہمارے لوگ تحقیق نہیں کرتے نہ ہی کوشش کرتے ہیں، یہ مسائل کو ابتدا میں ہلکا لیتے ہیں جب مسئلہ آتا ہے تب پورا زور لگاتے ہیں.
پاکستان میں پچھلے 2 سال پہلے لمپی اسکین بیماری اندرونی سندھ سے شروع ہوئی تھی ، اس دفعہ بھی سب سے پہلا کیس سندھ میں ہی آیا ہے ، اس کے بعد ملتان کے منڈی سے پورے پاکستان میں لمپی اسکین پھیل گئی تھی ، واحد وجہ بیوپاری حضرات تھے ، اس دفعہ غلطی نہ دہرایا جائے ، بیمار جانور کی خرید و فرخت پہ مکمل پابندی لگائی جائے یا ایسا جانور قصائی کے ہاتھوں ذبحہ کیا جائے.

3) ہمارے ملک میں عید کے لیے جانوروں کا بڑے پیمانے پہ جانوروں کا نقل و حرکت ہوتا ہے اس وجہ سے بیماری بہت تیزی سے پھیلتے ہیں

4) ہمارے فارمرز چیچڑ اور مچھر کو بہت عام اور معمولی شے سمجھتے ہیں .حالانکہ یہ گرمیوں کے امراض کی ماں ہے.

5) ہمارے فارمرز ویکسین ڈیورمنگ اور دوسرے حفاظتی اقدامات کو اول مانتے نہیں اگر مانتے ہے تو عمل نہیں کرتے یا دیر کرتے ہیں.

حل کیا ہے؟

لمپی اسکین ، منہ کھر اور گھل گھوٹو تھیلریا ، ریڈ واٹر بیماریوں کے خلاف موثر کثیر الجہتی اقدامات سے چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے.

1) بروقت ویکسین کرے ، ہر سال کرے اور موسم کے مطابق کرے.

2) مچھر مکھیاں قابو کرنے کے لیے Cypermethrin اور Deltamethrin اسپرے کرنا ، صبح اور شام چارے کی کھرلی سے جانور کا چھوڑا ہوا چارہ اٹھانا فارم کے ارد گرد بوٹی اور پودے ختم کرنا.

3) علاقے میں وباء کی صورت میں Visitors کی Entry محدود کرنا ، فارم کے گیٹ پہ چونا اور فارمالین کی Dip بنانا جس سے گاڑی کے ٹائر ڈپ ہوسکے فارم میں صبح شام فارمالین کی اسپرے کرتے رہنا ۔

UVAC FMD

4) فارم میں وباء آنے کی صورت میں ، بیمار جانور کو تندرست جانوروں سے الگ کرنا بیمار جانور کی چارہ ، پانی اور جگہ مکمل الگ کرنا علاج کے لیے ملازم الگ رکھنا جو تندرست جانوروں میں نہ جاتا ہو۔
اگر باہر سے ڈاکٹر علاج کے لیے بلاتے ہو تو اس کو صرف بیمار جانور دیکھنا ، تندرست جانور کے پاس ڈاکٹر نہ جائے ، کوشش کرے کہ فارم پہ ڈاکٹر کے لیے الگ وردی یا کپڑے ہو

5) علاج کسی مستند ڈاکٹر سے کرنا ، پاکستان میں مستند ڈاکٹر صرف اور صرف DVM ڈاکٹرز ہوتے باقی سب غیر مستند ہیں وقتی فائدے یا بخار ختم کرنے کے لیے Dexamethasone Prednisone بلکل بھی نہ لگانا کیونکہ یہ سب سٹرائیڈ ہیں.

6) مشاہدے میں آیا ہے کہ پاکستان بھر فارمرز Pencillin یا 40 لاکھ کا انجکشن لگاتے ہیں جس سے ایک تو جانور کا دودھ خشک ہوتا ہے دوسرا یہ دوائی بے اثر ہوچکی ہے لہذا 40 لاکھ پہ مکمل پابندی لگانا چائیے.

اگر صرف فارم کی صفائی اور مچھر مار اسپرے بھی گرمیوں باقاعدہ ہوتا رہے تو فارمرز کے 90 فیصد مسائل ختم ہوجاتے ہیں میرے کسان بھائیوں یہ ہماری زمہ داری ہے کہ ہم خود ہی اپنی کسان بھائی کی مدد کرے ، باقی کسی ادارے یا حکومت سے مدد کا انتظار بعد میں کرے.

جواب دیں