ایران امریکہ اسرائیل کشیدگی کے اثرات خلیجی پولٹری انڈسٹری اور خوراکی نظام پر

ایران امریکہ اسرائیل کشیدگی کے اثرات خلیجی پولٹری انڈسٹری اور خوراکی نظام پر

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب صرف سیاسی یا عسکری معاملہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات براہِ راست خوراک کے نظام تک پہنچ چکے ہیں۔ خلیجی ممالک جہاں خوراک کی بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، وہاں پولٹری انڈسٹری ایک نہایت حساس اور اسٹریٹجک حیثیت رکھتی ہے۔

پولٹری کو عام طور پر سستی پروٹین کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس صنعت کی بنیاد عالمی سپلائی چین پر کھڑی ہے۔ مکئی، سویابین، وٹامنز، پری مکس، ویکسینز اور دیگر فیڈ اجزاء زیادہ تر بیرونِ ملک سے آتے ہیں۔ جیسے ہی آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں میں خلل پیدا ہوتا ہے، پورا نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

فیڈ بحران اصل خطرہ

پولٹری انڈسٹری کی مجموعی لاگت کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ فیڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ جنگی صورتحال کے باعث اگر مکئی اور سویابین کی ترسیل متاثر ہو یا شپنگ اخراجات بڑھ جائیں تو اس کا براہِ راست اثر مرغی اور انڈے کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

خلیجی ممالک مقامی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم فیڈ میں خود کفالت اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

سپلائی چین اور لاجسٹکس کے مسائل

کشیدگی کے باعث شپنگ روٹس میں تبدیلی، انشورنس لاگت میں اضافہ اور بندرگاہوں پر تاخیر جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ یہ مسائل صرف فیڈ تک محدود نہیں بلکہ ہیچری آلات، ادویات اور کولڈ چین سسٹمز کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

اس صورتحال میں پولٹری کمپنیوں کو بڑھتی لاگت کے ساتھ ساتھ بروقت سپلائی کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

توانائی بحران کا دباؤ

پولٹری فارمز، ہیچریز، پراسیسنگ یونٹس اور کولڈ اسٹوریج مکمل طور پر توانائی پر انحصار کرتے ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے پیداوار کی مجموعی لاگت بڑھ رہی ہے، جس کا اثر بالآخر صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔

صارفین پر ممکنہ اثرات

ابتدائی طور پر حکومتیں سبسڈی اور ذخائر کے ذریعے صورتحال کو کنٹرول کر سکتی ہیں، مگر اگر کشیدگی طویل ہو جائے تو مرغی اور انڈے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔

چونکہ پولٹری خلیجی ممالک میں بنیادی خوراک ہے، اس لیے طلب برقرار رہے گی، مگر اس کی خریداری کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

پانی اور پولٹری انڈسٹری

پولٹری انڈسٹری میں پانی ایک اہم مگر اکثر نظر انداز کیا جانے والا عنصر ہے۔ ایک بروائلر مرغی اپنی زندگی میں فیڈ سے تقریباً دو گنا زیادہ پانی استعمال کرتی ہے۔

خلیجی ممالک میں پانی کی دستیابی پہلے ہی محدود ہے اور زیادہ تر پانی ڈی سیلینیشن یا زیر زمین ذخائر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ توانائی بحران بڑھنے سے پانی کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر پولٹری فارمز پر پڑے گا۔

ہیٹ سٹریس اور کولنگ سسٹمز

گرم موسم میں پولٹری فارمز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے فوگنگ سسٹمز، کولنگ پیڈز اور وینٹیلیشن استعمال کی جاتی ہے، جو پانی پر منحصر ہوتے ہیں۔ پانی کی کمی سے پرندوں میں ہیٹ سٹریس بڑھتا ہے، جس سے پیداوار اور صحت متاثر ہوتی ہے۔

بایو سیکیورٹی کے خدشات

پانی صفائی، جراثیم کشی اور بیماریوں کے کنٹرول کے لیے بھی ضروری ہے۔ پانی کی کمی یا ناقص معیار بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا دیتا ہے، جو پوری انڈسٹری کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ اور پالیسی سمت

موجودہ جیوپولیٹیکل کشیدگی نے واضح کر دیا ہے کہ خلیجی پولٹری انڈسٹری بظاہر مضبوط ہونے کے باوجود بنیادی طور پر بیرونی عوامل پر منحصر ہے۔ اگر فیڈ، پانی، توانائی اور لاجسٹکس کے مسائل ایک ساتھ شدت اختیار کریں تو یہ سیکٹر شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

ضروری اقدامات

مقامی فیڈ متبادل کی ترقی
پانی کے مؤثر استعمال اور ری سائیکلنگ سسٹمز کا فروغ
قابلِ تجدید توانائی جیسے سولر اور بایو گیس کا استعمال
اسٹریٹجک فیڈ ذخائر اور سپلائی چین کی متنوع حکمت عملی

آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ پولٹری انڈسٹری صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ خلیجی ممالک کی فوڈ سیکیورٹی کا بنیادی ستون ہے۔ اگر اس شعبے کو بروقت مضبوط نہ کیا گیا تو مستقبل میں خوراک کا بحران ایک حقیقی خطرہ بن سکتا ہے۔