
ڈاکٹر محمد طارق
ایسوسی ایٹ پروفیسر لائیوسٹاک مینجمنٹ
شعبہ لائیو سٹاک مینجمنٹ سب کیمپس ٹوبہ ٹیک سنگھ ایگریکلچرا یونیورسٹی آباد فیصل
ہمالیہ کے علاقے میں آزاد جموں و کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جو قدرتی وسائل اور ثقافتی تنوع سے بھرپور ہے۔ یہاں کی مقامی برادریاں جنگلی حیات کو نہ صرف کھانے بلکہ روایتی علاج کے طور پر بھی استعمال کرتی ہیں۔ اس علاقے میں 41 مختلف جنگلی جانوروں کی نسلوں کا استعمال مقامی افراد کی صحت کے مسائل کے حل کے لیے کیا جاتا ہے۔
جنگلی حیات کا ثقافتی استعمال
مقامی لوگوں کے لیے جنگلی جانوروں کا استعمال ثقافتی عقائد اور روایات سے جڑا ہوا ہے۔ یہ جانور نہ صرف کھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، بلکہ انہیں تفریح، مذہبی رسوم، اور حتیٰ کہ تجارتی مقاصد کے لیے بھی پکڑا اور فروخت کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر، کچھ پرندے اور ممالیہ جیسے ہمالیائی بلی (Snow Leopard)، براؤن بیئر (Brown Bear)، اور ہمالیائی مونال (Himalayan Monal) کو ثقافتی اہمیت حاصل ہے۔
ادویاتی استعمال
مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی میں جنگلی جانوروں کے مختلف حصے استعمال ہوتے ہیں۔ ان جانوروں کے گوشت، کھال، ہڈیاں اور چمڑا متعدد بیماریوں جیسے دمہ، جوڑوں کے درد، جگر کی بیماریوں، اور زخموں کی علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جنگلی جانوروں کے جسمانی حصے، جیسے کہ ہمالیائی بلی کا گوشت اور ہڈیاں، آسمہ اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
نیا علم اور تحقیق
اس تحقیق میں کئی نئی جنگلی انواع کے استعمالات کا پتہ چلا ہے جو پہلے کبھی نہیں رپورٹ ہوئیں۔ مثلاً کشمیر کی مچھلی (Kashmir Catfish) اور کشمیر کا لوچ (Kashmir Loach) ان بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو پہلے مقامی طور پر نہیں جانی جاتی تھیں۔
ماحولیاتی تحفظ اور چیلنجز
اگرچہ جنگلی حیات کا یہ استعمال کمیونٹی کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن ان جانوروں کا شکار اور ان کا غیر قانونی تجارت ان کی بقا کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ خاص طور پر ان اقسام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو خطرے سے دوچار ہیں، جیسے ہمالیائی بلی اور ہمالیائی بلیئر (Brown Bear)۔
نتیجہ
یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی مقامی کمیونٹیز جنگلی حیات پر اپنی ثقافتی اور دوائی انحصار کرتی ہیں۔ اس علم کی اہمیت کو سمجھنا اور اسے محفوظ کرنا ضروری ہے تاکہ نہ صرف مقامی روایات کو زندہ رکھا جا سکے بلکہ ان جنگلی انواع کو بھی بچایا جا سکے جو قدرتی وسائل کی کمی اور غیر قانونی شکار کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔
تجاویز
جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کمیونٹی کی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
مقامی افراد کے ذریعے جنگلی حیات کے استعمالات کے حوالے سے آگاہی بڑھانی چاہیے۔
ان دوائی اجزاء کی سائنسی بنیاد پر تحقیق کی جانی چاہیے تاکہ ان کے اثرات اور استعمال کی تصدیق ہو سکے۔
یہ بیان مقامی کمیونٹی کی روایات، ثقافتی اہمیت اور جنگلی حیات کے تحفظ پر مرکوز ہے، اور آسان زبان میں معاشرتی اور سائنسی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے تاکہ عوام کو ان مسائل سے آگاہ کیا جا سکے۔