پاکستان میں پی ایچ ڈی نظام پر سوالات، روایتی تحقیق سے معاشی ترقی کیوں ممکن نہ ہو سکی؟

پاکستان میں پی ایچ ڈی نظام ناکام کیوں، تحقیق سے معیشت کو فائدہ کیوں نہیں ہو رہا

پاکستان میں ہر سال سینکڑوں طلبہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرتے ہیں اور ہزاروں تحقیقی مقالے شائع ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود ملک کی معیشت، صنعت اور زراعت میں نمایاں بہتری نظر نہیں آتی۔ یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر تحقیق کے اس وسیع نظام کے باوجود عملی ترقی کیوں ممکن نہیں ہو پا رہی۔

ماہرین کے مطابق اس کا بنیادی سبب روایتی پی ایچ ڈی نظام اور جدید پراڈکٹ بیسڈ تحقیق کے درمیان واضح فرق ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر تحقیق نظریاتی بنیادوں تک محدود رہتی ہے جہاں تحقیق کا مقصد صرف مقالہ لکھنا اور ڈگری حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس طرز تحقیق کے نتائج عموماً عملی میدان میں نظر نہیں آتے اور نہ ہی یہ صنعت یا عام شہری کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی لا پاتے ہیں۔

دوسری جانب دنیا کے ترقی یافتہ ممالک، خاص طور پر China، نے تحقیق کو براہ راست صنعت سے جوڑ دیا ہے۔ وہاں پی ایچ ڈی کا مطلب صرف علمی مقالہ نہیں بلکہ ایک قابل استعمال پراڈکٹ یا حل تیار کرنا ہوتا ہے۔ چینی ماڈل میں تحقیق لیبارٹری سے نکل کر فیکٹری تک پہنچتی ہے، جہاں اسے تجارتی سطح پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے سستی ٹیکنالوجی، جدید مصنوعات اور عالمی مارکیٹ میں مسابقتی برتری حاصل کی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ ایک سنجیدہ لمحہ فکریہ ہے۔ ملک اب بھی بڑی حد تک درآمدی مشینری، سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو معاشی استحکام حاصل کرنا ہے تو تحقیق کو عملی میدان سے جوڑنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ یونیورسٹیاں صرف ڈگری دینے والے ادارے نہ رہیں بلکہ انہیں انوویشن ہب میں تبدیل کیا جائے۔ طلبہ کو ایسی تحقیق کی طرف راغب کیا جائے جو زراعت، ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور صنعتی شعبوں کے حقیقی مسائل کا حل پیش کرے۔ نئی اقسام کے بیج، جدید مشینری اور مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری ہی وہ راستہ ہے جس سے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔

تعلیمی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نوجوانوں کو یہ سکھایا جائے کہ کامیابی صرف مقالہ شائع کروانے میں نہیں بلکہ ایسا حل پیدا کرنے میں ہے جو ملک کی معیشت کو مضبوط کرے۔ اگر پاکستان نے اپنے تعلیمی اور تحقیقی نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق نہ بدلا تو ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہے۔