
لاہور: سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور سیکرٹری جنگلات کیپٹن طاہر ظفر عباسی کی ہدایت پر پنجاب میں طوطوں کی منضبط کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ڈی جی وائلڈ لائف کیپٹن محمد وسیم کے احکامات پر تمام زونل، ریجنل اور ضلعی افسران کو مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف نے صوبے بھر میں گھروں میں رکھے جانے والے مقامی طوطوں کی چار انواع کیلئے آن لائن لائسنسنگ کا نظام شروع کر دیا ہے۔ ان میں راء طوطا، گانی دار طوطا، سلیٹی سر والا طوطا اور جامنی سر والا طوطا شامل ہیں۔
لائسنس کی تین کیٹیگریز
محکمہ نے طوطوں کی ملکیت اور افزائش کیلئے تین مختلف کیٹیگریز متعارف کروائی ہیں
- شوقیہ افراد کیلئے قبضہ لائسنس
- سمال کاٹیج بریڈر لائسنس
- لارج کاٹیج بریڈر لائسنس
ہر درخواست گزار کو لائسنس کے حصول کیلئے محکمہ کے پاس حلف نامہ جمع کروانا لازمی ہوگا۔
لائسنس کے بعد شناختی نظام
لائسنس کے اجرا کے بعد محکمہ کی جانب سے ہر طوطے کو منفرد شناختی کوڈ کے ساتھ رنگ پہنایا جائے گا تاکہ ان کی نگرانی اور رجسٹریشن کو یقینی بنایا جا سکے۔
حلف نامے کی شرائط
شوقیہ افراد کو حلف نامے میں یہ بیان دینا ہوگا کہ
- درج شدہ طوطے ان کی ملکیت ہیں
- وہ ان سے کاروبار نہیں کریں گے
- کسی دوسرے کو منتقل نہیں کریں گے
- جنگلی طوطوں سے افزائش یا تبادلہ نہیں کیا جائے گا
اس کے علاوہ محکمہ کے طلب کرنے پر مکمل ریکارڈ فراہم کرنا اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی قبول کرنا بھی لازمی ہوگا۔
بریڈرز کیلئے خصوصی شرائط
سمال اور لارج کاٹیج بریڈرز کو درج ذیل ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی
- افزائش نسل کا مکمل ریکارڈ رکھنا
- لائسنس کی تجدید کے وقت ریکارڈ پیش کرنا
- پرندوں کی مناسب دیکھ بھال کرنا
- محکمہ کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنا
سمال کاٹیج بریڈر کو اپنی افزائش کا 10 فیصد اور لارج کاٹیج بریڈر کو 20 فیصد طوطے محکمہ کی اجازت سے قدرتی ماحول میں چھوڑنا ہوں گے۔
لائسنس فیس کی تفصیل
- شوقیہ قبضہ لائسنس فیس ایک ہزار روپے
- سمال کاٹیج بریڈر لائسنس فیس بیس ہزار روپے
- لارج کاٹیج بریڈر لائسنس فیس تیس ہزار روپے
یہ اقدام جنگلی حیات کے تحفظ، غیر قانونی تجارت کے خاتمے اور طوطوں کی افزائش کو منظم بنانے کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔