
پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (PVMC) نے سوشل میڈیا پر زیرِ گردش طلبہ کی رجسٹریشن اور مبینہ اضافی فیس یا دباؤ سے متعلق خبروں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اپنی باضابطہ وضاحت جاری کر دی ہے۔
کونسل کے جاری کردہ بیان کے مطابق کسی بھی طالب علم یا ویٹرنری ڈاکٹر کو اضافی فیس ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ PVMC اپنے تمام امور PVMC Act 1996 اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیتی ہے اور ویٹرنری شعبے کی بہتری کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کونسل منظور شدہ نشستوں کے مطابق یونیورسٹیوں کو داخلوں کی اجازت دیتی ہے، تاہم بعض تعلیمی اداروں کی جانب سے مقررہ حد سے زائد داخلے کیے گئے جو بعد ازاں ایک ریگولیٹری مسئلہ بن گئے۔ اس معاملے کا جائزہ ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی اور متعلقہ حکام نے لیا، جس کے بعد PVMC کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایسے کیسز پر قانونی کارروائی کرے۔
طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے PVMC نے ایک سہولت کار حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے متعلقہ یونیورسٹیوں کو اجازت دی کہ وہ اضافی داخلوں کو جرمانہ ادا کر کے ریگولرائز کروا لیں۔ کونسل نے واضح کیا کہ یہ جرمانہ طلبہ پر نہیں بلکہ متعلقہ اداروں پر عائد کیا گیا ہے اور اس کا مقصد طلبہ کو داخلوں کی منسوخی یا قانونی پیچیدگیوں سے بچانا تھا۔
مزید بتایا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بارہا یاد دہانیوں کے باوجود بعض یونیورسٹیاں ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد نہیں کر سکیں۔ اسی وجہ سے PVMC نے بطور ریگولیٹری اقدام صرف انہی اداروں کے طلبہ کی رجسٹریشن عارضی طور پر روک رکھی ہے جو عدم تعمیل کا شکار ہیں۔
کونسل نے متاثرہ طلبہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ جیسے ہی متعلقہ یونیورسٹی جرمانہ ادا کرے گی، طلبہ کی رجسٹریشن فوری طور پر مکمل کر دی جائے گی۔ ساتھ ہی طلبہ کو تاخیر کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہو۔
PVMC نے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ یونیورسٹیوں سے رابطہ کریں تاکہ عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور رجسٹریشن کا عمل مزید تاخیر کے بغیر مکمل ہو سکے۔
کونسل سیکرٹریٹ کی جانب سے ای میل، ہیلپ لائن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے طلبہ اور ویٹرنری پروفیشنلز کو بروقت رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ PVMC نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شفافیت اور ذمہ داری کے ساتھ ویٹرنری شعبے کی خدمت جاری رکھے گی۔