ویٹرنری طلبہ رجسٹریشن بحران: یونیورسٹیز اور PVMC تنازع کا بوجھ طلبہ پر منتقل

Pakistan Veterinary Medical Council کے اقدامات کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے ویٹرنری طلبہ اور فیکلٹی میں شدید تشویش

Pakistan Veterinary Medical Council کے اقدامات کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے ویٹرنری طلبہ اور فیکلٹی میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ موجودہ صورتحال ایک سنجیدہ بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔

موصولہ ذرائع کے مطابق، یونیورسٹیوں میں مبینہ over-admissions کے معاملے کے باعث یکم اپریل 2026 سے سرٹیفکیٹس اور رجسٹریشن سے متعلق عمل روک دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اگر یہ صورتحال درست ہے تو اس کے سب سے سنگین اثرات ان طلبہ اور اساتذہ پر پڑ رہے ہیں جو خود اس انتظامی یا ادارہ جاتی تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔

طلبہ سے ہونے والے رابطوں اور دستیاب معلومات کے مطابق بعض یونیورسٹیوں میں قواعد و ضوابط سے ہٹ کر داخلے کیے گئے، جس پر PVMC نے گزشتہ ایک سے ڈیڑھ سال کے دوران متعدد بار متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کیے اور ہدایت کی کہ وہ مقررہ ضوابط کے مطابق جرمانے اور دیگر قانونی تقاضے پورے کریں۔ تاہم ذرائع کے مطابق یونیورسٹیوں کی جانب سے ان ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں یکم اپریل کے بعد رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹس کے اجرا کا عمل متاثر ہوا۔

اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر وہ طلبہ ہو رہے ہیں جنہوں نے اپنی فیسیں ادا کر کے باقاعدہ داخلہ حاصل کیا، مگر اب وہ ایک ایسے تنازع کا شکار ہیں جس میں وہ براہِ راست فریق نہیں۔ طلبہ کے مطابق جب انہوں نے PVMC سے رابطہ کیا تو انہیں یونیورسٹی سے رجوع کرنے کا کہا گیا، جبکہ یونیورسٹیوں کی جانب سے بھی واضح اور فوری حل فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث طلبہ شدید ذہنی دباؤ، بے یقینی اور اپنے تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں۔

یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر قواعد کی خلاف ورزی یونیورسٹیوں کی سطح پر ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، اور اس کا بوجھ طلبہ کیوں برداشت کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں طلبہ کے حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے، جبکہ ادارہ جاتی خلاف ورزیوں کا حل متعلقہ اداروں کے درمیان طے کیا جانا ضروری ہے۔

PVMC کے ذرائع کے مطابق کونسل اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر کارروائی ضروری ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں یونیورسٹیوں اور ریگولیٹری باڈی کے درمیان تناؤ بڑھ چکا ہے، جس کا براہِ راست اثر طلبہ کی رجسٹریشن، تعلیمی تسلسل اور مستقبل کے مواقع پر پڑ رہا ہے۔

اس غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ضروری ہے کہ فوری طور پر ایک واضح، شفاف اور متفقہ حل سامنے لایا جائے تاکہ طلبہ کو اس انتظامی و قانونی کشمکش سے نکالا جا سکے اور ان کے تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

مزید برآں ذرائع کے مطابق کچھ یونیورسٹیوں نے واجبات اور ضوابط کی تکمیل کے بعد اپنے طلبہ کے لیے سہولت پیدا کر دی ہے، تاہم دیگر ادارے تاحال اس عمل میں ناکام ہیں، جس کے باعث کونسل نے سخت اقدامات اختیار کیے۔

اس غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ضروری ہے کہ فوری طور پر ایک واضح، شفاف اور متفقہ حل سامنے لایا جائے تاکہ طلبہ کو اس انتظامی و قانونی کشمکش سے نکالا جا سکے اور ان کے تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

طلبہ کی موجودہ پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن/ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ اپیل کی جاتی ہے کہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل اور تمام متعلقہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور اس مسئلے کا ایسا حل نکالیں جس سے طلبہ کو ذہنی دباؤ، بے چینی اور غیر یقینی صورتحال سے نکالا جا سکے، تاکہ کسی بھی طالب علم کا مستقبل متاثر نہ ہو۔

PVMC-Recognized Veterinary Institutions in Pakistan

https://pvmc.gov.pk/SiteImage/Downloads/PVMC%20act%201996.pdf

جواب دیں