مویشیوں کے لیے ایک انتہائی متعدی وائرل خطرہ لمپی جلد مرض

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد رفاہ کالج آف ویٹرنری سائنسز
تعارف: لمپی سکن بیماری (ایل ایس ڈی) ایک خاص قسم کے وائرس کی وجہ سے پھیلتا ہے جس میں جلد پر پھوڑے بن جاتے ہیں یہ مرض مکھیوں مچھروں یا دوسرے خون چوسنے والے حشرات کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ دیہاتی زندگی کا زیادہ تر دارومدار گائے بھینس پالنے اور ان سے دودھ گوشت حاصل کرنے پر ہوتا ہے۔ اس مرض سے نہ صرف دودھ کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ نر اور مادہ دونوں قسم کے جانوروں میں جنسی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ مزید برآں اس مرض سے جانوروں کی جلد کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور موقع پرست جراثیم (بیکٹیریا) کے حملہ سے جانوروں میں اموات بھی ہو جاتی ہیں۔


شروع میں یہ مرض افریقہ میں پایا جاتا تھا مگر اب دنیا کے بیشتر ممالک اس مرض سے دوچار ہیں۔ یہ مرض قدرتی طور پر گائے اور ایشیائی بھینس کو متاثر کرتا ہے البتہ بھینس میں متاثر ہونے کی شرح (1.6 فیصد) گائے کی شرح (30.8 فیصد) کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایس ایس ڈی کی کچھ اقسام بھیڑ بکریوں میں بھی موجود ہو سکتی ہیں۔ البتہ بھیڑ بکریوں کا کردار بطور ذریعہ مرض (Replicate) سامنے نہیں آیا۔ یہ مرض ایمپالا، ضرافہ، عربی ہرن یا غزال میں بھی پایا گیا ہے۔ مگر جنگلی جانوروں کا کردار اس مرض کے پھیلاﺅ میں واضح نہیں ہے یہ مرض ابھی تک انسانوں کو متاثر کرتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔


وجوہات مرض

اس وائرس کا تعلق چیچک وائرس کی فیملی (Pox Viridae) سے ہے۔ اس وائرس کا نام کیپری پاکس وائرس (Capri pox virus) ہے جو کہ بکریوں اور بھیڑوں کی چیچک سے ملتی جلتی ہے۔
معاشی اثرات
جانوروں میں شدید کمزوری، دودھ کی پیداوار میں کمی، اسقاط حمل، جنسی مسائل، کھالوں کو شدید نقصان، جانوروں کے لنگڑے پن کی وجہ سے بار برداری کے قابل نہ رہنا۔


پھیلاﺅ

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے یہ مرض کاٹنے والے کیڑوں سے پھیلتا ہے کسی حد تک جلد کی گلٹیوں سے خارج ہونے والی رطوبت منہ کی رالوں ، ناک کی رطوبت، دودھ، مادہ منویہ اور گوشت کے ریشوں سے بھی پھیل سکتا ہے۔ جانوروں کے متاثر ہونے کی شرح 3 تا 85 فیصد ہو سکتی ہے جبکہ شرح اموات ایک سے 3 فیصد ہو سکتی ہے اور بعض اوقات وبائی صورت میں 20 تا 85 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

100% ویکسینیشن کب ضروری؟

Ads-BroMed-MEVAC-LSD
علامات مرض
تجرباتی طور پر جانور میں مرض کے لگنے سے علامات مرض ظاہر ہونے تک کا وقفہ (انکوبیشن پیریڈ) 4 سے 7 دن ہو سکتا ہے جبکہ قدرتی مرض کی صورت میں یہ وقفہ 5 ہفتے تک ہو سکتا ہے۔
ابتدائی علامات کے طور پر آنکھ سے پانی اور ناک سے رطوبت بہتی ہے کندھے کی ہڈی (سکیپولا) اور پری فیمورل والے غدود یعنی لمف نوڈز سوج جاتے ہیں۔ تیز بخار 40.5 سنٹی گریڈ تقریباً ایک ہفتے تک رہ سکتا ہے دودھ کی پیداوار میں شدید کمی۔


110 سے 15ملی میٹر محیط کے گومڑ (نوڈیولز یا گلٹیاں) جلد پر ظاہر ہوتے ہیں۔ کم شدید حالت میں چند گلٹیاں ہوں گی جبکہ شدید مرض میں مبتلا جانوروں میں یہ گلٹیاں بہت زیادہ اور بڑی بڑی ہوں گی۔ عموماً یہ گلٹیاں جلد، سر، گردن، چھاتی، جنسی اعضائ، حیوانہ اور ٹانگوں پر ہو سکتے ہیں۔
گہری گلٹیاں جلد کی تمام تہوں کے زیر جلد ریشوں اور بسا اوقات گوشت کی تہوں تک متاثر کر سکتی ہیں۔


مردہ حصے Necrotic Plaques منہ پر، ناک میں ظاہر ہو سکتے ہیں اور ان کی وجہ سے لیسدار رطوبت ناک سے بہہ سکتی ہے۔ منہ سے بہت زیادہ رطوبت کا بہنا متاثرہ جلد کے درمیان سے جلد پھٹ کر رطوبت بہنے لگتی ہے بعد میں اسی جگہ کھرنڈ بن جاتے ہیں جلد پر یہ علامات کئی مہینوں تک رہ سکتی ہیں۔
بعض اوقات ایک یا دونوں آنکھوں کے کارنیا میں زخم ہو کر جانوروں میں اندھا پن ہو سکتا ہے ٹانگوں اور جوڑوں پر زیر جلد مرض موقع پرست جراثیم کے ملوث ہونے لنگڑا پن ہو سکتا ہے نمونیا اور حیوانے کی سوزش بھی ہو سکتی ہے مرض مخفی حالت میں عام پایا جاتا ہے اسقاط حمل بھی ہوسکتا ہے۔


پوسٹ مارٹم علامات
پورے نظام ہضم اور نظام تنفس کے علاوہ جگر، معدے اور تلی پر خون کے دھبے ہو سکتے ہیں۔
تفریقی تشخیص
Differential Diagnosis
اس بیماری سے ملتی جلتی علامات والے امراض اس کی تشخیص میں مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔
1۔ باطل لمپی سکن بیماری
Pseudo Lumpy skin disease
اس کی علامات لمپی سکن والی ہو سکتی ہیں مگر اس میں گلٹیاں سطحی ہوں گی اور مرض کا دورانیہ کم ہو گا اور علامات شدید ہوں گی۔
2۔ مچھر کے کاٹنے سے چھپاکی اور روشنی کی حساسیت
(Photosensitization)
اس میں بھی علامات لمپی سکن جیسی ہو سکتی ہیں مگر یہ علامات زیادہ سطحی مرض کا دورانیہ کم اور مرض کم شدید ہو گا۔
3۔باطل چیچک گائے
(Pseudo cowpox)
علامات صرف تھنوں اور حیوانے پر ظاہر ہوتی ہیں۔
4۔ ڈرمانوفائیلوسز

تین دن کا بخار اور اس سے بچاؤ کے اقدامات


(Dermatophilosis)
ابتدائی علامات زیادہ سطحی اور لمپی سکن سے بالکل مختلف ہو سکتی ہیں گلٹیوں سے رطوبت کا نہ بہنا۔
5۔ ڈیموڈیکو سز
(Demodicosis)
جلد کی تہوں میں علامات، زیادہ تر کندھوں، گردن، کمر اور پہلوﺅں میں ہوں گی اور اس جگہ سے بال اکھڑے ہوئے ہوں گے جلد کی کھرچن میں مائیٹ یعنی خارشی کرموں کی موجودگی اس مرض کی دلیل ہے۔
6۔ بووائن پیپولر سٹوماٹائیٹس
Bovine papular stomatitis
علامات صرف منہ کی اندرونی جھلی پر ظاہر ہوتی ہیں۔
7۔ بسنائی ٹی اوسز
(Besnoitiosis)
اس بیماری کی علامات عموماً آنکھ کے اندر (Scleral conjective) اور جلد پر بال نہ ہوں گے اور جلد جھری دار اور موٹی ہو جائے گی۔
8۔ آنکوسرسی ایسز
(Onchocereiasis)
اس بیماری کی تشخیص پی سی آر کے ذریعے ہو سکتی ہے۔


تشخیص
جلد پر موجود علامات یعنی گلٹیاں، لیبارٹری میں وائرس کی موجودگی معلوم ہونے سے الیکٹران مائیکروسکوپ کے ذریعے، سیرم کے ذریعے۔


علاج
1۔ یہ مرض ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے لہٰذا اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ البتہ علامتی علاج کیا جا سکتا ہے۔
2۔ مرض کی ابتداءمیں انٹی بائیوٹک استعمال نہ کریں بلکہ درد کم کرنے والی ادویات بخار کم کرنے والی ادویات اور سوزش کم کرنے والی ادویات اور جلد پر انٹی سیپٹک ادویات (ڈیٹول وغیرہ) سپرے کریں۔


3۔ جب گلٹیاں پھٹ جائیں تو اوپر دیئے گئے علاج کے علاوہ انٹی بائیوٹکس ترجیحی طور پر آکی ٹیٹرا سائیکلین کا استعمال کریں۔
4۔ معاون علاج کے طور پر ہلدی 100 گرام 7 دن تک کھلائیں۔ پیراسیٹامول 6 سے 8 گولیاں بھی صبح شام کھلائی جا سکتی ہیں۔ جلد پر ڈیٹول کا محلول سپرے کریں ایک کلو گرام سرسوں کے تیل میں 5 گرام گندھک ملا کر بھی جلد پر لگائی جا سکتی ہے اس سے مکھی مچھر دور رہیں گے۔
5۔ بیماری سے صحتیاب ہونے والے جانوروں سے حاصل کردہ سیرم بیمار جانوروں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔


مشتبہ فارم پر اقدامات
مشتبہ مرض جانوروں کو علیحدہ کر دیں۔ جانوروں سے خون، لعاب، دہن، ناک کی رطوبت اور جلد کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوائیں۔ مرض کے نمونہ جات مناسب طریقے سے بھجوائیں مشترکہ چراگاہوں اور مشترکہ کھرلیوں سے اجتناب کریں۔ جانوروں کی آمد ورفت کو روکیں، جانوروں کا باقاعدہ معائنہ کریں اور بخار چیک کرتے رہیں اپنے ہاتھوں کو جراثیم کش محلول سے دھوئیں۔ اس کے علاوہ جوتوں اور کپڑوں کو بھی جراثیم کش محلول سے دھوئیں۔ مکھی مچھروں کو بھگانے والے محلول کا باڑوں اور جانوروں پر سپرے کریں۔


حفظ ماتقدم
1۔ ویکسین لگائیں۔
2 ۔ 30 دن کے بعد ویکسین کی دوسری خوراک (Booster dose) لگائیں۔
3۔ مکھی مچھر وغیرہ کا سدباب کریں جانوروں کی درآمد پر پابندی لگائیں متاثرہ جانوروں کو قرنطینہ کریں متاثرہ جانوروں کو ریوڑ سے نکال دیں (Depopulation) اور مردہ جانوروں کو مناسب طریقے سے زمین میں دبائیں۔ تمام باڑوں کو صاف کریں اور کرم کش ادویات کا سپرے کریں۔
1۔ حفاظتی ٹیکہ جات کا استعمال
2۔ جانوروں کی آمدورفت پر پابندی
3۔ جانوروں کی آمدورفت صرف ویٹرنری ہیلتھ سرٹیفکیٹ پر ہو۔
4۔ متاثرہ دیہات میں جانوروں کو مشترکہ چراگاہوں میں نہ بھیجا جائے۔
5۔ ویکسین شدہ جانوروں کی نقل و حمل کی چند مخصوص اور محدود علاقوں تک اجازت دی جا سکتی ہے۔
6۔ جانوروں پر باقاعدگی سے مچھروں مکھیوں کو بھگانے والے محلول کا سپرے کریں ان اقدامات سے مرض کے پھیلاﺅ کو روکا نہیں جا سکتا البتہ امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
حفاظتی ٹیکہ جات
بسا اوقات جانوروں میں مرض مخفی حالت میں ہوتا ہے اور ویکسین لگانے کے دس دن کے اندر اندر جانور میں مرض کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں ٹیکہ لگنے کی جگہ پر گومڑ کا بننا پوری جلد پر علامات کا ظاہر ہونا، حیوانے پر سطحی جلدی علامات کا ظاہر ہونا۔