دودھ کی صنعت خطرے میں

تحریر : حمیداللہ خٹک

دودھ کی صنعت خطرے میں | وجوہات اور ممکنہ حل

پاکستان میں دودھ کبھی بھی ضرورت کے مطابق پورا نہیں ہوا ، ہمیشہ طلب کے مقابلے میں تین چار فیصد کمی کا شکار رہتا ہے ، روایتی جانور پال کسانوں کے علاوہ پچھلے دس سال میں بہت زیادہ نئے کمرشل اور کارپوریٹ ڈیری فارمز بنائے گئے ۔ جس سے دودھ کی طلب اور رسد میں ایک توازن کی سی صورت حال بنی ۔ اگرچہ کہ پورا اب بھی نہیں ہوا ، جس کا فائدہ ان لوگوں نے اٹھایا جو کیمیکل وغیرہ یا پاؤڈر ( خشک دودھ ) سے دودھ بنا کر بیچتے ہیں پچھلے چھ سات ماہ میں دودھ کا ریٹ اگرچہ اخراجات کے مقابلے میں کم تھا ، تاہم ڈیری انڈسٹری بہتری کی جانب گامزن تھی ۔

پاکستان میں دودھ کی دو بڑی پروسیسنگ کمپنیاں نیسلے اور اینگرو ہیں ، تھوڑا بہت حصہ فوجی فوڈرز اور ایڈم والوں کا ہے ، جو کسان سے دودھ تسلسل کے ساتھ خرید رہی تھیں پھر اچانک ایران بارڈر کھل گیا اور خشک دودھ کی ڈھڑا دھڑ سمگلنگ ہوئی اور ہو رہی ہے ۔

 یاد رہے کہ ایران خود زیادہ دودھ پیدا کرنے والا ملک نہیں ہے ، وہ تو اپنی ضرورت کے لئے گوشت والے جانور بھی پاکستان سے خریدتا ہے ، دراصل ایران پر اقتصادی پابندیاں ہیں تو وہ بارٹر ٹریڈ ( مال کے بدلے مال ) کرتا ہے ، وہ تیل ، خشک میوہ جات ، کھانے کا تیل دوسرے ملکوں کو دے کر بدلے میں گندم ، چینی ، یوریا کھاد وغیرہ وغیرہ خریدتا ہے ، کچھ ملکوں سے خشک دودھ آتا ہوگا جو اسکی ضرورت زائد ہوتا ہے یا صرف سمگلنگ کے مقصد کے لئے خرید لیا جاتا ہوگا تاکہ آگے بیچ سکیں۔

13
11
4
3
18


مارکیٹ میں تازہ دودھ کی جگہ پاؤڈر سے بنا ہوا دودھ آنا شروع ہو گیا ۔ جو کہ انتہائی سستا ہونے کے ساتھ ساتھ یقینا مضر صحت بھی ہوگا ، کیونکہ یہ کسی کو نہیں پتہ وہ کس ملک میں بنا ، کب ایران پہنچا اور کس تاریخ کو اس دودھ کی ایکسپائری ہے سمیت ڈھیروں خدشات ہیں ۔اس خشک دودھ سے بنے ہوئے دودھ کی بہتات نے مارکیٹ میں دودھ کی رسد کے توازن کو خراب کیا ، تازہ کھلے دودھ کی مارکیٹ کو خشک دودھ سے بنے ہوئے دودھ نے گھیر لیا ، ٹیٹرا پیک دودھ ( ڈبے والا ) کی سیل بھی کم ہوئی ۔

نتیجتا دودھ پراسیسنگ کمپنیوں نے دودھ کی خریداری ابتدا میں کم کردی اور موجودہ صورت حال یہ ہے کہ وہ مختلف حیلے بہانے کر کے دودھ اٹھانے سے انکاری ہیں ، کسی فارم کا اگر ہزار لٹر دودھ ہے تو وہ بمشکل پانچ سو لٹر اٹھانے پہ راضی ہیں ، کمپنیوں نے اپنے کئی دودھ خریداری مرکز جو مختلف دیہاتوں میں تھے بند کر دیئے ہیں اور مزید بند کر رہے ہیں ۔ 

ظاہر ہے کوئی بھی سرمایہ دار اپنا سرمایہ کبھی بھی نہیں ڈبوتا ۔لیکن اس ساری صورت حال میں اگر کوئی ڈوب رہا ہے تو وہ صرف اور صرف ڈیری فارمر ہے ۔ پہلے اس سے سرمایہ کاری کرائی گئی کہ دودھ کی بہت ضرورت ہے اب دودھ خریدنے کو تیار نہیں ۔اس سارے قضیئے میں جس چیز نے پاکستان کی ڈیری انڈسٹری کو خراب کر دیا ہے اور برباد ہونے والی ہے وہ “ خشک دودھ “ کی سمگلنگ / امپورٹ ہے ۔

سو جانوروں کا ایک کمرشل ڈیری فارم تقریبا آٹھ سے دس کروڑ مالیت کا ہوتا ہے ، اگر یہ فارم بند ہو گئے تو انفرادی طور پہ تو جو نقصان ہوگا سو ہوگا ، ملک کا نقصان یہ ہے کہ دوبارہ اس پروڈکشن اور اس حالت تک پہنچنے کے لئے دوبارہ دس سال کا عرصہ درکار ہوگا ۔

جانور کوئی کیمیکل یا اینٹوں سے بنی ہوئی شے نہیں کہ اگلے دن پھر تیار ہوگی ۔ ایک بچھڑی کو پیدا ہونے سے لے کے دودھ دینے تک ڈھائی سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے ۔ بچھڑی تب پیدا ہوگی جب ماں موجود ہو گی ۔ اس صورت حال میں کون جانور رکھے گا ۔حکمرانوں ! اور اس ملک کے کرتا دھرتا لوگوں سے التماس ہے کہ خدارا اس انڈسٹری کو تباہی سے بچائیں ، شارٹ ٹرم پالیسیوں نے ملک کو تباہ کر دیا ہے ، خشک دودھ کا داخلہ ملک میں بند کریں ۔