
تعارف
موضعی گھاس، جسے انگریزی میں Horsetail اور سائنسی زبان میں Equisetum کہا جاتا ہے، فطرت کا ایک قدیم اور انوکھا تحفہ ہے۔ اس میں نہ خوشبو دار پھول ہیں اور نہ ہی گھنے پتے، بلکہ صرف سبز ڈنڈیاں ہیں جو جوڑ جوڑ کر آسمان کی طرف اُٹھتی ہیں۔ یہ پودا اپنی سادگی اور طاقت کے ذریعے زمین اور پانی کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تاریخی پس منظر
یہ پودا Equisetaceae فیملی کا واحد جینس ہے۔ <
اس کی تاریخ تقریباً 300 ملین سال پرانی ہے، جب پودے بیج کے بجائے بیجانی (Spores) سے اگتے تھے۔ <
اس کے تنے سلیکا کی تہہ سے ڈھکے ہوتے ہیں جو انہیں زرہ بکتر کی طرح مضبوط بنا دیتے ہیں <
ماحولیاتی کردار
یہ ہمیشہ پانی اور نمی والے علاقوں میں اگتا ہے۔ <
اس کی جڑیں جال کی طرح پھیل کر زمین کو مضبوطی سے تھام لیتی ہیں۔ <
بیجنگ اولمپک فاریسٹ پارک میں ایک بڑے طوفان کے دوران جب باقی پودے ختم ہو گئے، تو موضعی گھاس اپنی جگہ پر ڈٹی رہی اور مٹی کو بہنے سے بچایا۔
آلودگی کی صفائی میں کردار
اس کی جڑیں بہتے پانی میں 60% تک آلودگی روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ <
عام گھاس کے مقابلے میں یہ پانی کو صاف کرنے میں تین گنا زیادہ مؤثر ہے۔ <
یورپ میں اسے آلودہ زمین کی بحالی اور زہریلے مادوں کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ <
صرف چھ ماہ میں یہ بھاری دھاتوں اور زہریلے اجزاء کو ختم کر کے زمین کو دوبارہ قابل استعمال بنا دیتا ہے۔ <
قدیم اور جدید استعمال
قدیم زمانے میں اسے "قلم گھاس” کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی کھوکھلی ڈنڈی کو توڑ کر دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے۔ <
لکڑی کے کاریگر اسے لکڑی کو رگڑ کر چمکانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ <
آج کے دور میں لوگ اسے گملوں اور لینڈ اسکیپ میں بھی لگاتے ہیں، جہاں اس کی سیدھی کھڑی ڈنڈیاں سادگی میں خوبصورتی کا منظر پیش کرتی ہی
پاکستان میں موضعی گھاس
پاکستان میں اسے مقامی طور پر موضعی گھاس، ہارس ٹیل گھاس، کانا، کانڈا یا کنڈو گھاس کہا جاتا ہے۔ <
یہ زیادہ تر پنجاب اور سندھ کے نمی والے علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ <
پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے یہ پودا مٹی کو کٹاؤ سے بچانے اور پانی کی صفائی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ <
مستقبل میں اسے ماحولیاتی تحفظ اور پانی کی صفائی کے منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ <
سبق اور پیغام
یہ پودا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل مضبوطی نمود و نمائش میں نہیں بلکہ خاموشی، پائیداری اور زمین و پانی کی حفاظت میں ہے۔ اگر ہم اپنی جڑوں سے جُڑے رہیں تو وقت کے کسی بھی طوفان میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں۔