فیصل آباد (نمائندہ خصوصی):
پاکستان کی پولٹری انڈسٹری تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہی ہے اور مصنوعی ذہانت اس شعبے کی سمت بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ نیشنل انکیوبیشن سینٹر (NIC)، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں منعقدہ ایک خصوصی سیشن نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ آنے والا وقت ڈیٹا بیسڈ فیصلوں اور جدید ٹیکنالوجی سے جڑا ہوگا۔
“Future of Poultry Careers — Driven by AI-Based Decisions” کے موضوع پر منعقدہ اس پروفیشنل سیشن میں ساہیوال، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد سمیت مختلف شہروں سے پولٹری پروفیشنلز، سی ای او فارمرز، طلبہ اور انڈسٹری نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یہ سیشن ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز اور ویٹ کنیکٹ کے زیر اہتمام منعقد ہوا،
سیشن کے مرکزی مقرر فرحان مرتضیٰ نے اپنی پریزنٹیشن میں بتایا کہ پاکستان کے پولٹری سیکٹر میں تقریباً 90 فیصد گنجائش موجود ہے کہ وہ ڈیجیٹل ڈیٹا سسٹمز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے خود کو جدید خطوط پر استوار کرے، جبکہ صرف 10 فیصد ادارے اس وقت عملی طور پر جدید ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ AI کے استعمال سے بیماریوں کی پیشگوئی، پیداواری کارکردگی، اور فیصلہ سازی کی درستگی میں نمایاں بہتری ممکن ہے، جو مستقبل میں انڈسٹری کی تیز رفتار ترقی کا باعث بن سکتی ہے۔
مہمانِ خصوصی چوہدری حسین احمد (سابق صدر WPSA پاکستان برانچ اور CEO مختار فیڈز) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ پروفیشنل تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیسس اور AI ٹولز میں بھی مہارت حاصل کریں، کیونکہ مستقبل میں کامیابی انہی صلاحیتوں سے مشروط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر نئی ڈیجیٹل مہارتیں حاصل نہ کی جائیں تو عملی میدان میں مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
پروگرام کے کامیاب انعقاد میں ALS ٹیم اور ڈاکٹر کاشف سلیمی اور ان کی ٹیم نے کلیدی کردار ادا کیا، جن کی بہترین منصوبہ بندی اور انتظامی صلاحیتوں نے سیشن کو مؤثر اور منظم بنایا۔
سیشن کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو اپنانا اب انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے، اور یہی راستہ پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کو عالمی معیار تک لے جا سکتا ہے۔