شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، سکرنڈ میں وائس چانسلر تعیناتی پر تنازع

سکرنڈ / کراچی (ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز)
شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (SBBUVAS) سکرنڈ میں وائس چانسلر کی تعیناتی کا عمل شدید تنازع کا شکار ہو گیا ہے، جہاں ایک امیدوار کی دوبارہ سفارش پر مختلف حلقوں کی جانب سے سنگین اعتراضات سامنے آئے ہیں اور ان کی نااہلی کے لیے باضابطہ درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 10 مارچ 2026 کو میڈیا رپورٹس کے مطابق سرچ کمیٹی نے ایک بار پھر ڈاکٹر عمران راشد راجپوت کو وائس چانسلر کے امیدواروں میں شامل کیا، جس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ امیدوار کی سفارش ماضی میں بھی کی گئی تھی تاہم اعتراضات کے باعث اسے مسترد کر دیا گیا تھا، اس کے باوجود دوبارہ ان کا نام شامل کیے جانے پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔

اس معاملے پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ اور متعلقہ حکام کو درخواست ارسال کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایسے امیدوار کو دوبارہ شامل کرنا میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی ساکھ کے اصولوں کے خلاف ہے، لہٰذا انہیں فوری طور پر سلیکشن پراسیس سے نااہل قرار دیا جائے۔

درخواست میں امیدوار کے خلاف مختلف قانونی نکات بھی اٹھائے گئے، جن میں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت معاملات، بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں، اور حیدرآباد میں درج ایف آئی آرز کا حوالہ دیا گیا۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ تمام کیسز بدعنوانی، ہراسانی اور دیگر سنگین الزامات سے متعلق ہیں، جو کسی بھی اعلیٰ تعلیمی عہدے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

اسی تناظر میں سندھ ہائی کورٹ میں بھی ایک آئینی درخواست دائر کی گئی، جس کا کیس ٹائٹل “ڈاکٹر غلام مجتبیٰ بنام صوبہ سندھ و دیگر” ہے۔ دستیاب عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ کیس Const. P (D) 553/2026 حیدرآباد کے عنوان سے زیرِ سماعت ہے ا

عدالتی کارروائی کے مطابق اس کیس کی ابتدائی سماعت 2 اپریل 2026 کو ہوئی، جس میں معاملہ معزز بینچ کے روبرو پیش کیا گیا جس کی سربراہی جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور جسٹس ریاض الدین نے کی۔ بعد ازاں کیس کو مزید سماعت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے 9 اپریل 2026 کی تاریخ مقرر کی گئی

درخواست میں پیشہ ورانہ کارکردگی سے متعلق بھی متعدد نکات اٹھائے گئے ہیں، جن میں لسبیلہ یونیورسٹی میں بطور ڈائریکٹر QEC خدمات کے دوران ادارے کی کارکردگی میں کمی اور کوالٹی اسکور میں نمایاں تنزلی کا حوالہ دیا گیا۔ مزید یہ کہ تعلیمی قابلیت اور تقرری کے بعض پہلوؤں کو HEC قواعد و ضوابط سے متصادم قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح مالی معاملات کے حوالے سے بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں، جن میں HEC سے حاصل کردہ فنڈز کے استعمال اور واپسی سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق ان معاملات پر وضاحت طلب کی جا چکی ہے، جو اس کیس کی نوعیت کو مزید سنجیدہ بناتے ہیں۔

دوسری جانب یہ بھی مؤقف سامنے آیا ہے کہ تقرری کے عمل میں بعض بااثر حلقوں کی جانب سے اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ماضی میں ڈیپوٹیشن کے ذریعے تقرری کی کوششیں ملازمین کے احتجاج کے باعث ناکام ہو چکی ہیں۔ اس صورتحال نے اقربا پروری اور غیر شفاف فیصلوں کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔

تعلیمی و سماجی حلقوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وائس چانسلر کی تعیناتی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے اور میرٹ کو ہر صورت مقدم رکھا جائے

جواب دیں