
لاہور: پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (PAFDA) اور فارمن کرسچن کالج (چارٹرڈ یونیورسٹی) (FCCU) لاہور کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کا مقصد پاکستان میں زرعی، خوراک، پانی اور ادویہ سازی کے شعبوں میں سائنسی تحقیق، تجزیاتی ٹیسٹنگ، لیبارٹری صلاحیتوں میں بہتری اور پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دینا ہے۔
یہ معاہدہ PAFDA کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا اور FCCU کے وائس ریکٹر ڈاکٹر ڈگلس ای ٹرمبل کے درمیان PAFDA ہیڈکوارٹر لاہور میں منعقدہ تقریب میں طے پایا۔ تقریب میں دونوں اداروں کے سینئر سائنسدانوں، فیکلٹی ممبران اور اعلیٰ قیادت نے شرکت کی، جس سے اس اشتراک کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
اس موقع پر معروف سائنسدان، PAFDA کے وائس چیئرمین اور FCCU کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک کی شرکت نے تعلیمی اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو مزید تقویت دی۔
تحقیق اور ٹیسٹنگ کے شعبے میں اہم پیش رفت
اس شراکت داری کے تحت دونوں ادارے جدید سائنسی تحقیق کو عملی شکل دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ خاص طور پر پانی میں زرعی زہریلے مادوں (پیسٹی سائیڈز) کی باقیات کی جانچ، جدید تجزیاتی طریقہ کار کی تیاری اور ISO/IEC 17025:2017 معیار کے حصول میں تعاون کیا جائے گا۔
مزید برآں، ادویات کی پائیداری اور شیلف لائف سے متعلق تحقیق، لیبارٹری اسٹینڈرڈز کی بہتری اور مشترکہ تربیتی پروگرامز بھی اس معاہدے کا حصہ ہیں۔
جدید سائنسی شعبوں میں مشترکہ تحقیق
معاہدے کے تحت جینومکس، مالیکیولر ڈائیگناسٹکس اور ملٹی اومکس جیسے جدید شعبوں میں بھی مشترکہ تحقیق کو فروغ دیا جائے گا۔ یہ تحقیق زرعی پیداوار، خوراک کے تحفظ اور حیاتیاتی علوم میں بہتری کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔
طلبہ اور ماہرین کے لیے مواقع
اس اشتراک کے ذریعے طلبہ، محققین اور لیبارٹری ماہرین کو جدید تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سائنسی ڈیٹا سسٹمز، ماحولیاتی مانیٹرنگ اور جیوکیمیکل میپنگ جیسے اہم شعبوں میں بھی ترقی کی جائے گی۔
قیادت کا مؤقف
ڈاکٹر ڈگلس ای ٹرمبل نے کہا کہ یہ معاہدہ پنجاب اور پاکستان میں سائنسی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے سائنسی علم کو عملی فوائد میں تبدیل کیا جائے گا۔
ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کے مطابق یہ شراکت داری PAFDA کے وژن “صحت کا تحفظ، تجارت کا فروغ اور جدت کی ترویج” سے مکمل ہم آہنگ ہے اور ادارے کے ویژن 2035 کو مضبوط بناتی ہے۔
پاکستان کے لیے اہمیت
ماہرین کے مطابق یہ تعاون تعلیمی اداروں اور ریگولیٹری سائنس کے درمیان روابط کو مضبوط کرے گا، جس سے نہ صرف ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر بہتر ہوگا بلکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی، عوامی صحت کے تحفظ اور معاشی ترقی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔