
تحریر: ڈاکٹر الطاف گوہر-
معیاری انٹرنیشنل پاکستان-
تمہید: ایک قومی دن، ایک قومی ضرورت
قومیں صرف سرحدوں، زبانوں یا ثقافتوں سے نہیں بنتیں بلکہ ان کے شعور، ترجیحات اور اجتماعی رویوں سے تشکیل پاتی ہیں۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس بات میں پوشیدہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اہم شعبوں، وسائل اور پیشہ ور افراد کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان نیشنل پولٹری ڈے ہر سال 9 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ یہ محض ایک یادگاری دن نہیں بلکہ قومی شعور، معاشی بیداری اور غذائی تحفظ کی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پولٹری صنعت نہ صرف ہماری خوراک بلکہ ہماری معیشت، روزگار اور مستقبل سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
پاکستان اور پولٹری انڈسٹری: ایک مضبوط تعلق
پاکستان ایک زرعی و لائیو اسٹاک پر مبنی ملک ہے جہاں خوراک کی فراہمی اور معاشی استحکام میں مویشی پالنے کا بنیادی کردار ہے۔ اسی شعبے کا ایک تیزی سے ترقی کرنے والا حصہ پولٹری انڈسٹری ہے، جو آج:
- سستی اور معیاری پروٹین (چکن اور انڈے) فراہم کر رہی ہے
- لاکھوں افراد کو روزگار دے رہی ہے
- غذائی تحفظ کو مضبوط بنا رہی ہے
مہنگائی اور غذائی قلت کے اس دور میں پولٹری انڈسٹری عام آدمی کے لیے پروٹین کا سب سے قابلِ رسائی ذریعہ بن چکی ہے۔
تاریخی پس منظر: ایک اہم سنگ میل
پاکستان میں جدید پولٹری فارمنگ کا آغاز 9 اپریل 1960 کو ہوا جب نواب امیر محمد خان نے کراچی میں پہلے پولٹری پروڈکشن اینڈ ریسرچ سینٹر کا افتتاح کیا۔
یہ قدم اس لیے اہم تھا کیونکہ اس نے:
- سائنسی بنیادوں پر پولٹری فارمنگ کو فروغ دیا
- ویٹرنری ماہرین اور فارمرز کو تربیت فراہم کی
- جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا
بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر اسلم جلالی اور پولٹری پروفیشنلز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی کوششوں سے اس دن کو پاکستان نیشنل پولٹری ڈے کے طور پر منانے کی روایت قائم ہوئی۔
پاکستان میں پولٹری انڈسٹری کی معاشی و سماجی اہمیت
پاکستان کی معیشت میں پولٹری انڈسٹری ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے:
1. غذائی تحفظ
پولٹری مصنوعات سستی، دستیاب اور غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں، جو پروٹین کی کمی کو پورا کرتی ہیں۔
2. روزگار کے مواقع
یہ صنعت لاکھوں افراد کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرتی ہے۔
3. دیہی ترقی
دیہی علاقوں میں معاشی استحکام اور خود کفالت کو فروغ دیتی ہے۔
4. ذیلی صنعتوں کی ترقی
فیڈ ملز، ویٹرنری ادویات، کولڈ چین اور لاجسٹکس جیسے شعبے اسی صنعت سے وابستہ ہیں۔
5. جدید سائنسی ترقی
بائیو سکیورٹی، ویکسینیشن اور جدید فارمنگ مینجمنٹ نے اس صنعت کو عالمی معیار کے قریب پہنچا دیا ہے۔
قومی دن منانے کی اہمیت
قومی دن صرف تقریبات نہیں بلکہ قوموں کی فکری سمت کا تعین کرتے ہیں:
- عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرتے ہیں
- پیشہ ور افراد کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں
- تحقیق اور جدت کو فروغ دیتے ہیں
- قومی اتحاد کو مضبوط بناتے ہیں
دنیا میں خصوصی دن منانے کی روایت
ترقی یافتہ ممالک اپنے اہم شعبوں کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی دن مناتے ہیں۔ اس سے:
- تاریخ محفوظ رہتی ہے
- نئی نسل کو آگاہی ملتی ہے
- تحقیق اور جدت کو فروغ ملتا ہے
اسی لیے ایسے دن قومی ترقی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
پاکستان نیشنل پولٹری ڈے کی سرگرمیاں
ہر سال 9 اپریل کو ملک بھر میں مختلف سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں:
- پولٹری فارمرز کے لیے تربیتی ورکشاپس
- سائنسی سیمینار اور کانفرنسز
- تحقیقی مقالوں کی پیشکش
- میڈیا آگاہی مہمات
- بینرز، پوسٹرز اور اسٹریٹ واک
یہ سرگرمیاں نہ صرف آگاہی پیدا کرتی ہیں بلکہ نوجوانوں کو اس شعبے کی طرف راغب بھی کرتی ہیں۔
مستقبل کے امکانات
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ غذائی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں۔ پولٹری انڈسٹری میں بے پناہ مواقع موجود ہیں:
- غذائی خود کفالت حاصل کرنا
- برآمدات کے ذریعے زرِ مبادلہ کمانا
- جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں جگہ بنانا
اگر حکومتی سرپرستی، تحقیق اور نجی شعبے کی شراکت کو مزید مضبوط کیا جائے تو یہ صنعت معاشی انقلاب لا سکتی ہے۔
نتیجہ: ایک دن، ایک عہد
پاکستان نیشنل پولٹری ڈے دراصل ایک عہد کی تجدید ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے کسانوں، فارمرز، سائنس دانوں اور ویٹرنری ماہرین کی محنت کو تسلیم کریں۔
9 اپریل 1960 کو کراچی میں رکھا گیا یہ سنگ بنیاد آج ایک مضبوط صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس دن کو تحقیق، جدت اور قومی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔