
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان
خصوصی رپورٹ | 10 مئی 2026
مجھے یقین ہے کہ سویا بین مستقبل قریب میں پاکستان کی ایک کامیاب خریف فصل بن جائے گی۔ یہ پولٹری انڈسٹری کے لیے ضروری ہے اور خوردنی تیل کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان کی خوردنی تیل اور سویا بین کی درآمدات سالانہ 5 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے اداروں، ورلڈ فوڈ پروگرام، FAO اور IFAD کی حمایت سے شائع ہونے والی 2026 Global Report on Food Crises نے پاکستان کو دنیا کے ان دس ممالک میں شامل کیا ہے جہاں غذائی عدم تحفظ سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اس مسئلے کی وجوہات اور نتائج کی ایک طویل فہرست ہو سکتی ہے، لیکن یہاں توجہ زرعی تحقیقاتی نظام کی کارکردگی پر مرکوز ہے۔
مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی 35 ملین سے بڑھ کر 250 ملین تک پہنچ چکی ہے، مگر اس کے باوجود فی کس کیلوریز کی دستیابی پہلے سے زیادہ ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی مسلسل آمد کا نتیجہ ہے۔
غذائی تحفظ اور تحقیقاتی نظام کا کردار
غذائی تحفظ صرف خوراک کی دستیابی سے یقینی نہیں بنتا۔ دنیا میں مجموعی طور پر اتنی خوراک موجود ہے جو انسانوں کی ضرورت سے زیادہ ہے، مسئلہ زیادہ تر تقسیم، رسائی اور انصاف کا ہے۔
سبز انقلاب جینیاتی بہتری، یعنی چھوٹے قد والی گندم اور چاول کی اقسام، دو بڑے آبی ذخائر، لنک کینالز، زیرِ زمین پانی کے استعمال، کھادوں، زرعی ادویات اور کسی حد تک مشینی زراعت کے امتزاج سے آیا۔ پولٹری انڈسٹری کے فروغ نے سستا پروٹین فراہم کیا، جس میں مکئی کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان تمام ٹیکنالوجیز کے اختیار کرنے میں تحقیقاتی نظام کا مرکزی کردار رہا۔ اس کا کریڈٹ قومی زرعی تحقیقاتی نظام اور بین الاقوامی زرعی تحقیقاتی اداروں دونوں کو جاتا ہے۔
1980 اور 1990 کی دہائی میں کپاس اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے پھیلاؤ کے ساتھ معیشت نے بھی ترقی کی۔ تحقیق نے گرمی برداشت کرنے والی کپاس کی نئی اقسام، جیسے NIAB-78 اور S-12 فراہم کیں، جنہیں گندم کے بعد کاشت کیا جا سکتا تھا۔ اس سے پورا کراپنگ سسٹم تبدیل ہوا اور فصلوں کی شدت تقریباً دگنی ہو گئی۔ بہاریہ مکئی کا تعارف بھی مقامی تحقیق اور جدت کی ایک اہم مثال ہے۔ مستقبل میں باغبانی اور ہائی ویلیو کراپس عالمی منڈی تک رسائی کے اہم مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
مستقبل کی اہم زرعی مداخلتیں
آنے والی اہم زرعی مداخلتوں میں سویا بین، آبپاشی کے تحت چنا، محدود نشوونما والی سرسوں، گرمی برداشت کرنے والی گندم، لائیوسٹاک نسلوں کی بہتری، ویکسینز، بلوچستان میں زیتون کی کاشت، ایگرو ایکولوجیکل زوننگ، ڈیٹا سائنس، پریسیژن ایگریکلچر اور پیداوار کی پیش گوئی شامل ہیں۔
گزشتہ صدی کی آخری چار دہائیوں میں زراعت کی اوسط شرحِ نمو تقریباً 5 فیصد رہی، جو آبادی کی شرحِ نمو سے زیادہ تھی۔ مگر موجودہ صدی میں زرعی ترقی تقریباً 2 فیصد تک محدود رہی، جو آبادی میں اضافے سے کم ہے۔ اس صورتحال کو موسمیاتی آفات اور مارکیٹ کی ناکامیوں نے مزید سنگین بنا دیا ہے۔
علاقائی تنازعات بھی خوراک کی فراہمی اور لوگوں کی قوتِ خرید پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 2025 Global Hunger Index میں پاکستان 123 ممالک میں سے 106ویں نمبر پر رہا، اور اس کا اسکور “serious” یعنی سنگین درجے میں شامل کیا گیا۔
اس صورتحال کا الزام اکثر تحقیقاتی نظام پر لگایا جاتا ہے۔
زرعی پیداوار میں جمود کی وجوہات
پیداوار میں جمود کی وجوہات میں چھوٹے کسانوں کی سرمایہ کاری کی کمی، توانائی کی بلند لاگت، 97 فیصد چھوٹے کاشتکاروں کی محدود سکت، مٹی کی صحت کی خرابی اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں کے حوالے سے ریگولیٹری رکاوٹیں شامل ہیں۔ صرف گندم کی پیداوار 2024 میں ریکارڈ 31.8 ملین ٹن سے کم ہو کر 2025 میں تقریباً 29 ملین ٹن رہ گئی، یعنی تقریباً 8.9 فیصد کمی۔ کاشت شدہ رقبہ بھی تقریباً 7 فیصد کم ہوا، جس کی بڑی وجہ فارم گیٹ قیمتوں کا گرنا تھا۔
2025 میں زرعی شعبے کی شرحِ نمو صرف 0.56 فیصد رہی۔ پاکستان میں تحقیق پر GDP کا صرف 0.16 فیصد خرچ کیا جاتا ہے، جو خطے میں سب سے کم ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت 0.7 فیصد، چین 2.5 فیصد، جبکہ عالمی اوسط 0.43 فیصد ہے۔
انسانی وسائل اور زرعی تحقیق
تحقیقاتی نظام کی کامیابی میں سب سے اہم عوامل انسانی وسائل کا معیار اور انہیں فراہم کیا جانے والا ماحول ہیں۔ ماضی کی کامیابیاں ان باصلاحیت سائنسدانوں کی بدولت ممکن ہوئیں جو 1950 اور 1960 کی دہائی میں واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی، پل مین سے تربیت یافتہ تھے۔ تقریباً 100 اعلیٰ سائنسدانوں کی اس تربیت کے اثرات ایک پی ایچ ڈی تھیسس میں بھی دستاویزی شکل میں موجود ہیں، جس کا عنوان تھا:
Washington State University in West Pakistan, 1954–1969: An Evaluation of Technical Assistance to Higher Education for Agricultural and Economic Development
میکسی پاک کے بعد چناب 70 اور پاک 81 گندم کی اقسام آئیں، جنہیں ایس اے قریشی کی قیادت میں ایک ٹیم نے تیار کیا۔ یہ ٹیم اس وقت کے پنجاب ایگریکلچر کالج، لائل پور، جو اب یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد ہے، سے الگ ہو کر ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کام کر رہی تھی۔
پولٹری انقلاب، جو نجی شعبے کی قیادت میں آیا، بھی ٹیکنالوجی کے اختیار کرنے کی ایک مثال تھا۔ اس کا سفر PIA Shaver سے شروع ہو کر آج کی انتہائی جدید اور مشینی پولٹری انڈسٹری تک پہنچا۔ اس دور میں یعقوب بھٹی جیسے افراد نے اہم کردار ادا کیا۔
بہاریہ مکئی کی ترقی میں ڈاکٹر عبد الغفور بھٹی سابق مشیر زراعت پنجاب کا کردار اہم تھا، جنہوں نے سرکاری ملازمت چھوڑ کر رفحان مینز میں شمولیت اختیار کی۔ کپاس کی کہانی NIAB فیصل آباد اور CRI ملتان سے مضبوط ہوئی، جہاں بہتر انسانی وسائل کی موجودگی نے اہم کردار ادا کیا۔
چار دہائیوں تک جاری رہنے والی یہ رفتار اس وقت کم ہونا شروع ہوئی جب اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹیموں کی بھرتی اور تیاری کا سلسلہ رک گیا۔
ادارہ جاتی کمزوریاں اور رابطہ کاری کی ضرورت
بہتر انسانی وسائل عوامی سرمایہ کاری سے پیدا ہوتے ہیں۔ 1980 تک ملک میں صرف ایک یونیورسٹی، دو زرعی کالجز اور ایک کالج آف اینیمل ہسبنڈری تھا۔ آج 60 سے زائد یونیورسٹیاں اور کالجز زراعت اور متعلقہ شعبوں میں ڈگریاں دے رہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر 200 سے زائد تحقیقاتی ادارے موجود ہیں، جہاں 5,000 سے زیادہ کل وقتی فیکلٹی ممبران اور ریسرچ سائنسدان کام کر رہے ہیں۔ نجی شعبہ بھی تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ کئی شعبوں میں بہترین کام بھی ہو رہا ہے، مگر تحقیقاتی نتائج کو زیادہ تر impact factor papers سے ناپا جاتا ہے، goods and services پر حقیقی اثرات سے نہیں۔
کارکردگی کی کمی کی ایک بڑی وجہ وسائل کا باہمی انضمام نہ ہونا ہے۔ پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو ایک مرکزی ادارے کے طور پر بنایا گیا تھا، جس کا بنیادی کام رابطہ کاری تھا۔ بین الاقوامی روابط اور اسٹریٹجک ریسرچ بھی PARC کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے PARC نے صوبائی نظاموں کے ساتھ ہم آہنگی کے بجائے ایک متوازی نظام بنا لیا، جس سے بہت سی جگہوں پر کام کی تکرار اور اوورلیپ پیدا ہوا۔
انسانی وسائل کی ترقی کو ترجیح دینا ضروری ہے، خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی ماہرین کو واپس لانے یا ان سے فائدہ اٹھانے کے ذریعے۔ وزیراعظم نے 1,000 نوجوان سائنسدانوں کو مختلف گروپس میں تین تین ماہ کے لیے چین بھیجا ہے۔ یہ مسلسل پیشہ ورانہ تربیت ایک اچھی سرمایہ کاری ہے۔ اس بڑے گروپ کی رائے اور تجربات کو مستقبل کی تعلیمی اور تحقیقی منصوبہ بندی میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
پاکستان میں تقریباً 37,000 پی ایچ ڈیز موجود ہیں، جن میں 6,800 وہ بھی شامل ہیں جنہیں HEC نے بیرونِ ملک بھیجا۔ اس مجموعی تعداد میں زراعت کا حصہ بہت کم ہے۔ ہمیں 1950 کی دہائی اور 1980 کی دہائی میں PARC کے تحت کی گئی انسانی وسائل کی سرمایہ کاری جیسا ایک نیا زرعی ہیومن ریسورس پورٹ فولیو بنانا ہوگا۔ ماضی میں ایسے کئی افراد بعد میں کینیڈا چلے گئے، جو ہمارے نظامی ماحول کی ناکامی کی مثال ہے۔
زرعی تعلیم اور تحقیق کے لیے نئی سمت
وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں زرعی تعلیم کے منظرنامے کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ HEC کے چیئرمین نے بھی قومی سطح پر اسی مقصد کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے۔ میں دونوں کمیٹیوں کی سربراہی کر رہا ہوں۔ ہم نصاب، طلبہ کی تعداد اور مجموعی تعلیمی ماحول کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج موزوں فیکلٹی کی دستیابی ہے۔ کئی اداروں میں بجٹ صرف تنخواہوں اور یوٹیلیٹی بلز تک محدود ہے، براہِ راست تحقیق کے لیے سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔
پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کو فوری طور پر رابطہ کاری اور بین الاقوامی تعاون پر توجہ دینی چاہیے تاکہ صوبائی نظاموں کو مربوط بنایا جا سکے۔ زرعی یونیورسٹیوں کو ایک کنسورشیم کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ انسانی وسائل کی ترقی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے: ایک طرف بین الشعبہ جاتی فیلڈ ورک فورس، دوسری طرف انتہائی خصوصی تحقیقاتی ماہرین۔ دنیا کی بہترین زرعی یونیورسٹیاں تین بنیادی کام، یعنی تعلیم، تحقیق اور توسیع، ایک ہی چھتری کے نیچے انجام دیتی ہیں۔
نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی اور سیڈ پالیسی
29 اپریل کو وفاقی کابینہ نے ملک کی پہلی National Agriculture Biotechnology Policy اور National Seed Policy 2025 کی منظوری دی۔ ان پالیسیوں کا مقصد جدید بیجوں اور عالمی معیار کی seed companies کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے فصلوں کی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد اضافہ کرنا ہے۔
2024-25 کے دوران Variety Evaluation Committee نے گندم، چاول، کپاس، مکئی، چارہ جات، تیل دار اجناس اور باغبانی کی فصلوں سمیت 208 بہتر اقسام کی منظوری دی۔ نو قائم شدہ NSDRA نے 430 غیر معیاری یا قواعد پر پورا نہ اترنے والی seed companies کی رجسٹریشن منسوخ کر دی۔
فوڈ سیکیورٹی کے اہم کیس اسٹڈیز
فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے چند حالیہ کیس اسٹڈیز بھی اہم ہیں۔
2014 میں USAID کی 30 ملین ڈالر کی فنڈنگ سے یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں Centre for Advanced Studies in Agriculture and Food Security قائم کیا گیا۔ یہ مرکز University of California, Davis کے تعاون سے بنایا گیا تھا۔ گندم، سویا بین، چنا، جوار اور کپاس کو مشترکہ تحقیق کے لیے منتخب کیا گیا۔ 80 سے زائد سائنسدانوں کو UC Davis اور Washington State University میں تربیت دی گئی۔
مجھے یقین ہے کہ سویا بین مستقبل قریب میں پاکستان کی ایک کامیاب خریف فصل بن جائے گی۔ یہ پولٹری انڈسٹری کے لیے ضروری ہے اور خوردنی تیل کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان کی خوردنی تیل اور سویا بین کی درآمدات سالانہ 5 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔ CAS کی اختراعات پریسیژن ایگریکلچر کو حقیقت بنا رہی ہیں۔ آبپاشی کے تحت چنا اور گرمی برداشت کرنے والی گندم بھی اسی تحقیق کے نتائج میں شامل ہیں۔ CAS کے commissioned research پروگرام نے پالیسی دستاویزات اور اسٹریٹجک منصوبوں کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
اگرچہ کیلوریز کی دستیابی فوڈ سیکیورٹی کا ایک پیمانہ ہے، لیکن غذائی کمی یا malnutrition ایک الگ بڑا چیلنج ہے۔ غربت اور خوراک خریدنے کی صلاحیت اس کی ایک وجہ ضرور ہے، مگر malnutrition کی دیگر وجوہات بھی ہیں، جن میں خوراک میں تنوع کی کمی، روایتی غذائی عادات سے دوری، طرزِ زندگی میں تبدیلی اور تعلیم کی کمی شامل ہیں۔
ان مسائل کے حل کے لیے 2021 میں Pak-Korea Nutrition Centre قائم کیا گیا۔ اس مرکز نے جنوبی کوریا کی Chungnam National University میں تربیت کے ذریعے training-of-trainers ٹیم تیار کی۔ اس کے پانچ صوبائی پارٹنرز، دو satellite centres اور 150 دیہی outreach partners قائم کیے گئے۔ اس workforce training میں 3,980 اسکول ٹیچرز اور lady health workers جبکہ 11,500 health professionals شامل ہیں۔
CAS اور PKNC سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے صوبے کی 25 یونیورسٹیوں میں خوراک، غذائیت، one health، پانی اور climate research clusters قائم کیے ہیں۔
یہ دی نیوز میں شائع شدہ آرٹیکل کا ترجمہ ھے جو معمولی تبدیلی ( مصنف کی اجازت کے ساتھ) شائع کیا گیا ہے