
پاکستان کی جامعات اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہیں جہاں انہیں سنجیدہ علمی قیادت، مضبوط تحقیقی وژن اور حقیقی تعلیمی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں بعض جامعات میں ایک ایسا رجحان تیزی سے ابھرا ہے جس نے علمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ رجحان خودنمائی، پروٹوکول اور نمائشی کلچر کا ہے جو تعلیمی ماحول پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
جامعات کے چند سربراہان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو دیکھ کر یہ تاثر ملتا ہے کہ تعلیمی ادارے علم و تحقیق کے مراکز کے بجائے ذاتی تشہیر کے پلیٹ فارم بنتے جا رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر وفود سے ملاقاتیں، تصویری سیشنز، استقبالیہ تقاریب اور پروٹوکول کی جھلکیاں اس انداز سے پیش کی جاتی ہیں جیسے کوئی سیاسی مہم جاری ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی ایک وائس چانسلر یا جامعہ سربراہ کی اصل ذمہ داری ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جامعات کی قیادت کا معیار سوشل میڈیا پوسٹس یا نمائشی سرگرمیوں سے نہیں بلکہ تحقیق، تدریس، تعلیمی ماحول، طلبہ کی فلاح اور میرٹ کے فروغ سے جانچا جاتا ہے۔ ایک کامیاب تعلیمی رہنما وہ ہوتا ہے جو خاموشی سے ادارے کی بنیادوں کو مضبوط کرے اور علمی ترقی کو ترجیح دے۔
ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض جامعات میں بار بار ریٹائرڈ افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ تجربہ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن موجودہ دور میں جامعات کو نئی سوچ، جدید تحقیق، ڈیجیٹل وژن اور نوجوان قیادت کی توانائی کی ضرورت ہے۔ جب ایک ہی طرزِ فکر مسلسل اداروں پر غالب رہے تو جامعات جمود اور غیر تخلیقی ماحول کا شکار ہو جاتی ہیں۔
نوجوان اساتذہ، محققین اور طلبہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے لیے ترقی کے مواقع محدود ہو رہے ہیں، جو تعلیمی زوال کا سبب بن سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جامعات شخصیات کے بجائے نظام، تحقیق اور اصولوں پر چلتی ہیں۔ وہاں سادگی، علمی وقار اور ادارہ جاتی نظم کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں بعض اوقات شخصیت پرستی کو کامیاب قیادت سمجھ لیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا بذات خود منفی نہیں بلکہ ایک مؤثر ذریعہ ہے، لیکن جب تشہیر اصل کام پر حاوی ہو جائے تو یہ خطرے کی علامت بن جاتی ہے۔ طلبہ کو جدید لیبارٹریاں، تحقیق کے مواقع اور معیاری تعلیم درکار ہے، نہ کہ نمائشی سرگرمیاں۔
جامعاتی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی عزت اور وقار علمی خدمات سے حاصل ہوتا ہے۔ ایک مضبوط جامعہ وہ ہوتی ہے جہاں تحقیق کو ترجیح دی جائے، طلبہ مطمئن ہوں، اساتذہ بااختیار ہوں اور ادارہ خاموشی سے قوم کی فکری تعمیر میں مصروف ہو۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ ادارے اس رجحان کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور ایسی قیادت کو فروغ دیں جو خدمت، میرٹ اور علمی وژن پر یقین رکھتی ہو۔ اگر نمائشی کلچر اسی طرح بڑھتا رہا تو جامعات اپنی علمی روح کھو سکتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تعلیمی قیادت خودنمائی کے بجائے حقیقی علمی خدمت کی طرف واپس آئے۔