جانوروں میں اینٹی بایوٹک کا غلط استعمال: ایک بڑھتا ہوا خطرہ

آرٹیکل

جانوروں میں اینٹی بایوٹک کا غلط استعمال: ایک بڑھتا ہوا خطرہ

تحریر: ردا گُھمّن

پروگرام: ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن (DVM)

ادارہ: یونیورسٹی آف ایگریکلچر، فیصل آباد

زیرِ نگرانی: ڈاکٹر راؤ صابر ستار

اہم پیغام

اینٹی بایوٹک ادویات جانوروں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ان کا غلط، غیر ضروری یا ادھورا استعمال جانوروں اور انسانوں دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں مویشی پالنا دیہی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ لاکھوں کسان دودھ، گوشت اور دیگر ضروریات کے لیے اپنے جانوروں پر انحصار کرتے ہیں۔ جانوروں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے مختلف ادویات استعمال کی جاتی ہیں جن میں اینٹی بایوٹک ادویات نمایاں ہیں۔ اینٹی بایوٹک دراصل ایسی ادویات ہیں جو بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو ختم کرنے یا ان کی افزائش روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ ادویات جانوروں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ان کا غلط اور غیر ضروری استعمال آج ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں اکثر کسان بغیر ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے کے خود ہی انجکشن لگا دیتے ہیں یا ادھورا علاج چھوڑ دیتے ہیں، جس سے نہ صرف جانور بلکہ انسانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔

اینٹی بایوٹک ادویات جانوروں میں انفیکشن کم کرنے، بخار پر قابو پانے اور بیماری سے جلد صحت یابی میں مدد دیتی ہیں۔ درست استعمال سے دودھ اور گوشت کی پیداوار بہتر رہتی ہے اور کسان کو معاشی نقصان سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔

اینٹی بایوٹک کے غلط استعمال کے نقصانات

آج کل بہت سے کسان ہر بیماری کا علاج اینٹی بایوٹک سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے بیماری بیکٹیریا کی ہو یا نہ ہو۔ بعض لوگ صرف دوسرے کسانوں کے مشورے پر دوا استعمال کر لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ جانور کے تھوڑا بہتر ہوتے ہی دوا بند کر دیتے ہیں۔ اس طرح بیماری مکمل ختم نہیں ہوتی اور بعد میں زیادہ شدت سے واپس آ سکتی ہے۔

اینٹی بایوٹک کے بار بار اور غلط استعمال سے جانوروں میں “اینٹی بایوٹک ریزسٹنس” پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد میں وہی دوا بیماری پر اثر کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ نتیجتاً علاج مہنگا اور مشکل ہو جاتا ہے اور بعض اوقات جانور کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ غلط مقدار میں دوا دینے سے جانور کے جگر، گردوں اور نظامِ ہاضمہ پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف جانوروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانوں تک بھی پہنچتا ہے۔ اگر دوا دینے کے فوراً بعد جانور کا دودھ یا گوشت استعمال کیا جائے تو اینٹی بایوٹک کے اثرات انسانی جسم میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس سے انسانوں میں الرجی، معدے کے مسائل اور خطرناک جراثیم کے خلاف دوا کی کم ہوتی ہوئی تاثیر جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

کسان کیا کریں؟

کسان بھائیوں کو چاہیے کہ جانور کی بیماری کی صورت میں خود علاج کرنے کے بجائے مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ اینٹی بایوٹک ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق صحیح مقدار اور مکمل مدت تک استعمال کریں۔ ہر بخار یا کمزوری میں اینٹی بایوٹک کا استعمال ضروری نہیں ہوتا، اس لیے بغیر تشخیص دوا دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

جعلی اور غیر معیاری ادویات خریدنے سے بچیں اور رجسٹرڈ میڈیکل سٹور سے ہی دوا حاصل کریں۔ اس کے علاوہ جانوروں کی صفائی، متوازن خوراک، صاف پانی اور بروقت ویکسینیشن پر توجہ دینا بھی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ احتیاط، آگاہی اور درست علاج ہی کامیاب اور محفوظ مویشی پالنے کی ضمانت ہیں۔

احتیاط، آگاہی اور درست علاج ہی کامیاب اور محفوظ مویشی پالنے کی ضمانت ہیں۔

ads Bio Lab

جواب دیں