چین کے ساتھ سمندری پانی صاف کرنے کا معاہدہ پاکستان کے لیے اہم موقع

سابق ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ خیبر پختونخوا اور پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے رہنما ڈاکٹر عالمزیب مہمند نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کے حالیہ دورۂ چین کے دوران سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے معاہدے کو پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک نہایت اہم اور دور رس اقدام قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر عالمزیب مہمند کے مطابق یہ منصوبہ صرف پانی صاف کرنے کا ایک عام ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان میں پانی، توانائی، زراعت، صنعت، ماحولیات اور جدید ٹیکنالوجی کو ایک مربوط نظام میں جوڑنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دو بڑے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف پانی کی شدید قلت ہے اور دوسری طرف مہنگی توانائی قومی ترقی کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ان کے مطابق اگر پانی اور توانائی کے مسائل کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک مشترکہ قومی حکمت عملی کے تحت حل کیا جائے تو زیادہ مؤثر اور پائیدار نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ساحلی علاقوں میں پانی اور توانائی کے نئے امکانات

ڈاکٹر عالمزیب مہمند نے کہا کہ پاکستان کے ساحلی علاقے خصوصاً سندھ اور بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ ان علاقوں کو سمندر تک وسیع رسائی حاصل ہے جبکہ یہاں دھوپ اور سمندری ہوائیں بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان ان قدرتی وسائل سے ایک ساتھ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ سمندر سے پانی حاصل کیا جا سکتا ہے، سورج سے شمسی توانائی پیدا کی جا سکتی ہے اور ساحلی ہواؤں سے ونڈ انرجی حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں سمندری پانی صاف کرنے کا منصوبہ ایک جدید گرین انفراسٹرکچر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

سولر اور ونڈ انرجی سے لاگت کم کی جا سکتی ہے

ڈاکٹر عالمزیب مہمند نے وضاحت کی کہ دنیا بھر میں سمندری پانی صاف کرنے والے پلانٹس عموماً زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کئی ممالک میں یہ منصوبے مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم پاکستان کے لیے ایک بہتر راستہ یہ ہے کہ ان پلانٹس کو سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز کے ساتھ منسلک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں کی مسلسل ہوائیں ماحول دوست اور کم لاگت بجلی پیدا کرنے کے لیے موزوں ہیں۔ اگر پاکستان اس صلاحیت کو درست انداز میں استعمال کرے تو سمندری پانی صاف کرنے کے منصوبوں کی بجلی کی لاگت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

زراعت، صنعت اور شہری ترقی کے لیے نیا راستہ

ڈاکٹر عالمزیب مہمند کے مطابق اگر اس منصوبے پر درست انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو پاکستان کے ساحلی علاقے صرف ماہی گیری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جدید زرعی، صنعتی اور تجارتی مراکز میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی دستیابی سے بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنایا جا سکتا ہے، گرین ہاؤس فارمنگ کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز قائم کی جا سکتی ہیں۔ اس سے غذائی تحفظ بہتر ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور قومی معیشت کو تقویت ملے گی۔

ٹیکنالوجی ٹرانسفر پاکستان کے لیے اہم موقع

ڈاکٹر عالمزیب مہمند نے چین کے ساتھ اس تعاون کا ایک اہم پہلو ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کو جدید انجینئرنگ، واٹر مینجمنٹ، قابلِ تجدید توانائی اور آٹومیشن سسٹمز تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک صحرائی اور خشک علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی ترقی کے کامیاب ماڈلز قائم کر چکے ہیں۔ پاکستان بھی اپنی ساحلی پٹی اور بنجر علاقوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداواری خطوں میں بدل سکتا ہے۔

ڈاکٹر عالمزیب مہمند کے مطابق اگر پاکستانی انجینئرز، سائنسدان اور جامعات ان ٹیکنالوجیز کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں کامیاب ہو جائیں تو مستقبل میں پاکستان اپنی مقامی سمندری پانی صاف کرنے اور گرین انرجی انڈسٹری بھی قائم کر سکتا ہے۔

زیر زمین پانی پر دباؤ کم ہو سکتا ہے

ماحولیاتی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عالمزیب مہمند نے کہا کہ پاکستان میں زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور کئی علاقوں میں واٹر ٹیبل خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔ ایسے حالات میں سمندری پانی کے استعمال سے زیر زمین پانی پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنا کر زراعت، صنعت اور شہری ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے تو مستقبل کے آبی بحران کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس سے زمین کی زرخیزی کو محفوظ رکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

نوجوان انجینئرز اور جامعات کا کردار

ڈاکٹر عالمزیب مہمند نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستانی قوم کی تخلیقی صلاحیتوں، انجینئرنگ ٹیلنٹ اور اختراعی استعداد کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان پاکستانی انجینئرز، سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کو مناسب وسائل، تحقیق کے مواقع اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے تو وہ درآمد شدہ ٹیکنالوجی کو بہتر بنا کر مقامی حالات کے مطابق کم لاگت اور مؤثر حل تیار کر سکتے ہیں۔

جامع قومی پروگرام بنانے کی ضرورت

ڈاکٹر عالمزیب مہمند نے کہا کہ پاکستان کو اس منصوبے کو صرف پانی صاف کرنے کے منصوبے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اسے توانائی، زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور ماحولیات پر مشتمل ایک جامع قومی پروگرام کی شکل دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر درست منصوبہ بندی، شفاف عمل درآمد اور مقامی تحقیق کے ذریعے اس منصوبے کو آگے بڑھایا گیا تو یہ پاکستان کی معاشی اور ماحولیاتی خود کفالت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

جواب دیں