ڈاکٹر فیصل رشید، ڈاکٹر عبدالسبحان، ڈاکٹر خالد نعیم خواجہ
Averroes Laboratories-Islamabad, averroeslaboratories@gmail.com, +92311-7772452
مرغیوں (برائلر، بریڈر، اور لیئر) میں پائی جانے والی بیماریوں کےفیلڈ میں موجود مخصوص بیکٹیریا ، وائرس اور انکی ممکنہ اقسام (Strains) کی شناخت ، ان سے بچاؤ کیلئے موثر ویکسین کا انتخاب اور ویکسین کے مدافعتی ٹائٹر کی جانچ نہ صرف ان کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہیں، بلکہ فارم کی مجموعی ۔۔پیداواری کارکردگی اور منافع کو بہتر بنانے میں بھی معاون ہیں
۔ ان بیماریوں میں خاص طور پر نیو کیسل بیماری (NDV-Newcastle Disease Virus)، انفیکشس برسل ڈیزیز (Infectious Bursal Disease)، انفیکشس برونکائٹس (IBV – Infectious Bronchitis Virus)، ایویئن انفلوئنزا (AI – Avian Influenza Virus)، فاول ایڈینو وائرس (FAdV-Fowl Adenovirus)، چکن اینیمیا وائرس (CAV-Chicken Anemia Virus)، ریو وائرس (REO – Avian Reovirus)، انفیکشس لیرینگوٹریکائٹس (ILT – Infectious Laryngotracheitis Virus،) ،ایگ ڈراپ سنڈروم (EDS – Egg Drop Syndrome Virus)، ایویئن میٹا نومو وائرس (AMPV – Avian Metapneumovirus)، سالمونیلا (Salmonella)، مائکوپلازما گیلی سیپٹیکم (MG)، مائکوپلازما سائنووی (MS) ،انفیکشیئس کوریزا (Coryza)، ایویئن کولرا (Cholera)، او آر ٹی (ORT – Ornithobacterium rhinotracheale) شامل ہیں۔
ان بیماریوں سے بچاؤکیلئے مختلف اقسام کی ویکسینز مارکیٹ میں دستیاب ہیں، جیسے کہ مردہ (inactivated)، زندہ (live)، ویکٹر بیسڈ (vector-based)، ری کومبیننٹ (recombinant)، یا ملٹی ویلنٹ زندہ یا مردہ (multivalent)
ویکسینزجن کا مقصد متعلقہ وائرس یا بیکٹیریا کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔
ان ویکسینز کا ہومولوگس ہونا ضروری ہے، یعنی کسی بھی ویکسین کی سیلیکشن کیلئےاس بات کی جانچ کاری انتہائی ضروری ہے، کہ متعلقہ ویکسین میں پایا جانے والا سٹرین اس سے متعلقہ فیلڈ میں پائے جانے والے بیماری کے جرثومے(Pathogen)سے میچ (Match)کر رہا ہو۔
جرثوموں کے ابھرتے ہوئے ویرینٹس کی دریافت اور ویکسینز کی نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ان جرثوموں کی جدید طریقوں سےتشخیص اور ویکسینز ما نیٹرنگ (Monitoring) کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
اگر پرانے طریقہ کار پر مبنی ELISA کٹس کو نئی قسم کی ویکسین کی مانیٹرنگ کیلئے استعمال کیا جائے تو اس کے نتائج موثر نہیں ہونگے تاہم، ان ویکسینز کی مؤثریت کو جانچنے اور یقینی بنانے کے لیے جدید ELISA کٹس کی نئی اقسام کو استعمال کیا جانا چاہئے، جو تشخیصی آلات کے طور پر کام آتے ہیں اور ویکسینیشن پروگرامز کی مؤثریت جانچنے میں بہت اہم ہیں ۔
یہاں بالخصوص ویکٹر(vector) ویکسین کی طرف اشارہ ہے جو کہ وائرس کے کسی خاص حصے (Antigen) کے خلاف انیٹی باڈی پیدا کرتی ہیں اور انکی افادیت جانچنے کیلئے متعلقہ اینٹی جن کی مدد سے بنائی گئی کٹ ہی استعمال کرنا ہوگی ۔
مثلا ویکٹر این ڈی ویکسین میں چونکہ وائرس کی F-Protein کو استعمال کیا گیا ہے اس لیے اس ویکسین کے اینٹی باڈی کے لیول (Titer)کی جانچ کیلئےعام ELISA Kitیا HI کا طریقہ کار موثر نہ ہوگا۔ جن میں شامل کردہ اینٹی جن ویکسینز کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث ویکسین کی مؤثریت کی نگرانی ممکن نہ ہو سکےگی۔
اسی طرح آئی بی وائرس میں مختلف ویرینٹس کی موجودگی کے سبب ویکسینز کی تاثیر کو جانچنا ضروری ہے، تاہم نئے ویرینٹس کے باعث ویکسین میں تبدیلی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ جب ویکسین میں اپ ڈیٹ کی جائیں تو ان ویرینٹس کی بہتر تشخیص کے لیے ELISA کٹس کو بھی اپگریڈ کرنا ضروری ہے، تاکہ ویرینٹس کا پتہ لگایا جا سکے اور ویکسین کی کارکردگی کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
اسی طرح آئی بی ڈی وائرس ویکسینز کی افادیت کو جانچنے کے لیے VP2 پروٹین کی مانیٹرنگ نہایت اہم ہے۔
VP2 پروٹین IBD وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کے پیدا ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ VP2 کی مانیٹرنگ سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ویکسین کتنی موثر رہی ہے اور پرندوں میں قوت مدافعت کس حد تک پیدا ہوئی ہےجدید ری کومبیننٹ ویکسینز (recombinant vaccines) میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرل عناصر شامل کیے جاتے ہیں لہذا، تشخیصی آلات اور ELISA کٹس کو جدید ویکسینز کے ساتھ مطابقت پذیر بنانا ضروری ہے اور اب پاکستان میں اپگریڈڈ ELISA کٹس بھی دستیاب ہیں ۔
اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہےاگرتو ویکسین فیلڈ وائرس کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو تو ایسی ویکسین کی مؤثریت پر سوالیہ نشان ہے۔
یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اگر ویکسین کو جانچنے کے لیے استعمال ہونے والے تشخیصی آلات اور ویکسین کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہ ہو تو اس قسم کی مانیٹرنگ زیادہ مدد گار نہ ہوگی ۔ اس طرح، ویکسین کی مؤثریت کو یقینی بنانے کے لیے فیلڈ میں استعمال ہونے والے وائرس کے ساتھ ویکسین کی ہم آہنگی کو جانچنا بہت ضروری ہے۔
اگر ویکسین کو فیلڈ کے حالات کے مطابق ڈھالا نہ جائے تو یہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکے گی، اور اس کا استعمال محدود ہو جائے گا۔
اگر ویکسین اور مانیٹرنگ ٹولز میں مطابقت نہ ہو تو ویکسین کی کامیابی کی تشخیص مشکل ہو جاتی ہے، اس ضمن میں ایک بہتر تشخیص سے مستفید ہونے کیلیے متعلقہ ڈایئگناسٹک کٹ، متعلقہ آلات اور سرٹیفایئڈ لیب کی موجودگی انتہائی ضروری ہے۔