پاکستان میں ڈے اولڈ چکس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا تخمینہ سالانہ 14.6 ارب روپے بننے لگا

ڈے اولڈ چکس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا سالانہ اربوں کا تخمینہ

پاکستان میں پولٹری سیکٹر کے اندر روزانہ 40 لاکھ ڈے اولڈ چکس کی مارکیٹ سپلائی اور فی چوزہ 10 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے مفروضے پر سالانہ 1.46 ارب چوزوں پر مجموعی طور پر 14.6 ارب روپے ڈیوٹی کا حساب بنتا ہے۔ یہ تخمینہ پورے سال کی مسلسل پیداوار اور سپلائی کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

مدتڈے اولڈ چکس کی تعداد10 روپے فی چوزہ ڈیوٹی
یومیہ40 لاکھ4 کروڑ روپے
30 دن12 کروڑ1 ارب 20 کروڑ روپے
365 دن1 ارب 46 کروڑ14 ارب 60 کروڑ روپے

ریاضیاتی حساب کے مطابق 40 لاکھ چوزوں کو سال کے 365 دنوں سے ضرب دینے پر سالانہ 1 ارب 46 کروڑ چوزے بنتے ہیں جس پر 10 روپے فی چوزہ کے حساب سے سالانہ ڈیوٹی 14 ارب 60 کروڑ روپے بنتی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا موقف ہے کہ ڈے اولڈ چکس پر 10 روپے فی چوزہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا نفاذ پولٹری سپلائی چین میں پیداواری حجم کا درست سراغ لگانے اور انڈر رپورٹنگ کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 14.6 ارب روپے کا حجم یومیہ بنیاد پر لگائے گئے تخمینے پر مبنی ممکنہ ڈیوٹی ہے۔ اسے سرکاری خزانے کی حتمی وصولی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اصل ریونیو کا انحصار قابل ٹیکس پیداوار اور ڈیوٹی کی حقیقی ادائیگی پر ہوگا۔

صنعت اور صارفین پر ممکنہ اثرات

بظاہر 10 روپے فی چوزہ ایک معمولی رقم معلوم ہوتی ہے لیکن یومیہ لاکھوں چوزوں کے پیداواری حجم کے باعث مجموعی لاگت اربوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس لاگت کی ہیچری اور فارمنگ سیکٹر سے صارف تک منتقلی مارکیٹ کے حالات سے جڑی ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے پیداواری لاگت میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

حکومت کے پیش نظر ٹیکس نیٹ کا پھیلاؤ اور دستاویزی معیشت ہے جبکہ پولٹری صنعت اس اضافی لاگت کو فارمنگ کے لیے ایک بڑا معاشی دباؤ سمجھتی ہے۔