
تحریر منیر شاہین
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملکی معیشت، روزگار اور دیہی آبادی کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ زراعت سے متعلق کوئی بھی بین الاقوامی اشتراک محض تجارتی یا تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ ملکی غذائی سلامتی، کسان کے مستقبل اور زرعی خودمختاری سے جڑا ہوا موضوع ہے۔ ان خیالات کا اظہار کاشتکار دوست فاؤنڈیشن کے چیئرمین منیر شاہین نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا۔
حال ہی میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس کے درمیان نیویارک میں ملاقات ہوئی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان میں جاری زرعی اصلاحات، جدت، بائیوٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کی صلاحیت، تحقیق اور کسانوں کی استعداد بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ دونوں جانب سے بہتر بیج، لائیو اسٹاک جینیٹکس اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق اس مرحلے پر کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے بلکہ باہمی تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر بات چیت ہوئی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے والی فصلیں، جدید لائیو اسٹاک ٹیکنالوجی اور زرعی تحقیق پاکستان کے لیے یقیناً مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر عالمی اداروں کے تجربات اور وسائل سے پاکستانی کسان کی پیداواری صلاحیت، آمدن اور موسمیاتی تحفظ میں بہتری آئے تو ایسے اقدامات کا خیرمقدم ہونا چاہیے۔
اصل نکتہ یہ ہے کہ یہ تعاون کن شرائط پر طے پائے گا۔ پاکستانی عوام اور کسانوں کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ مستقبل میں گیٹس فاؤنڈیشن یا کسی دوسرے عالمی ادارے کے ساتھ طے پانے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے یا مفاہمتی یادداشت کے بنیادی خدوخال کیا ہوں گے۔
کیا اس میں نئے یا بہتر بیجوں کی فراہمی شامل ہو گی؟
کیا ان بیجوں کے حقوق، پیٹنٹ یا دانشورانہ ملکیت غیرملکی اداروں کے پاس رہیں گے؟
کیا مقامی کسان ہر سال یہ بیج خریدنے کا پابند ہو جائے گا؟
کیا مقامی بیجوں اور ملکی زرعی تحقیق کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی جائے گی؟
بائیوٹیکنالوجی اور نئی زرعی تکنیک کے استعمال کے لیے ملکی ریگولیٹری قوانین کا اطلاق کیسے ہو گا؟
اور سب سے اہم یہ کہ پاکستان کی غذائی خودمختاری اور فوڈ سیکیورٹی پر اس تعاون کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
یہ سوالات قومی مفاد اور کسان کے تحفظ کے پیش نظر اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومت زرعی شعبے میں جدت، بائیوٹیکنالوجی، موسمیاتی لچک، تحقیق اور کسانوں کی استعداد بڑھانے کو اپنی ترجیحات قرار دیتی ہے، لہٰذا تمام پالیسیوں کا مرکز مقامی کسان ہونا چاہیے۔ عالمی ٹیکنالوجی کا مقصد صرف پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ کاشتکار کی آمدن، پانی کے مؤثر استعمال، موسمیاتی تحفظ، مقامی بیجوں کی بقا اور ملکی غذائی ضروریات کو محفوظ بنانا ہونا چاہیے۔
پاکستان میں بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل اور پانی کی بڑھتی قیمتیں کسان کے لیے پہلے ہی بڑا چیلنج ہیں۔ کوئی بھی نیا نظام ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے کاشتکار کا انحصار چند مخصوص کمپنیوں یا بیرونی ذرائع پر مزید بڑھ جائے۔
حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ اگر کوئی باضابطہ معاہدہ، ایم او یو یا منصوبہ طے پائے تو اس کی تمام شرائط اور تفصیلات پارلیمان، کسان تنظیموں، زرعی ماہرین اور عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ایسے کسی بھی اقدام سے پہلے زرعی جامعات، تحقیقی اداروں اور صوبائی محکمہ ہائے زراعت سے بامعنی مشاورت کی جائے تاکہ پالیسی زمینی حقائق کے مطابق بنے۔
دنیا سے جدید علم اور ٹیکنالوجی حاصل کرنا خوش آئند ہے، مگر ترقی کی قیمت زرعی خودمختاری کے سمجھوتے سے ادا نہیں کی جانی چاہیے۔ کسان کو اعتماد میں لینا، شفافیت برقرار رکھنا اور قومی غذائی سلامتی کو اولیت دینا وقت کی اولین ضرورت ہے۔ پاکستان جدید زرعی ٹیکنالوجی ضرور اپنائے لیکن ایسی ٹیکنالوجی جو کسان کو بااختیار، مقامی تحقیق کو مستحکم، پیداوار کو پائیدار اور قومی فوڈ سیکیورٹی کو محفوظ بنائے۔