
تحریر و ترتیب: ڈاکٹر دین محمد مہمند (سینئر ریسرچ آفیسر) و ڈاکٹر محمد اعجاز علی (ڈائریکٹر جنرل ریسرچ)، لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، خیبر پختونخوا، پشاور
زیر نظر مضمون ان شبہات اور بے جا خدشات کو دور کرنے کیلئے لکھا گیا ہے جن کا اظہار آجکل سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ اور فورمز پر فارمی مرغی کے بارے میں گمراہ کن انداز میں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالی سورۃ الحجرات میں فرماتے ہیں کہ خبر کی خوب تحقیق کر لیا کرو اور بد گمانیوں سے بچو۔ سوشل میڈیا پر کمرشل مرغی (برائلر) اور اس سے کینسر کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا جا رہا ہے کہ برائلر مرغی کی خوراک میں ایسے اجزاء شامل ہیں جو کہ برائلر مرغی کے خوراک سے مرغی میں اور پھر مرغی کے گوشت سے انسانوں میں کینسر کا باعث بنتا ہے۔ اس حوالے سے غور طلب اور انتہائی بنیادی سوالات یہ اٹھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں کس ادارے نے کینسر اور مرغی کے گوشت کے حوالے سے تحقیق کی ہے؟ کہاں پر یہ ریسرچ سر انجام پائی ہے اور کینسر کی بنیادی وجہ کو جاننے کے لیے کونسا ماڈل استعمال کیا گیا ہے؟ خیبر پختونخوا میں جدید کینسر ریسرچ کا کوئی منظم ادارہ نہیں ہے۔
یہ ریسرچ سوشل میڈیا کی زینت بننے سے پہلے کسی منظور شدہ قومی یا بین الاقوامی ریسرچ جرنل میں ریسرچ پیپر (تحقیقی مقالے) کی شکل میں شائع ہوئی ہے کہ نہیں؟ یہ تحقیقی مقالہ کسی قومی یا بین الاقوامی کانفرنس، سیمینار میں دیگر ماہرین کی رہنمائی کے لیے پیش کیا گیا کہ نہیں؟
یہ ایک مروجہ اصول ہے جدید دنیا میں کی جانے والی ریسرچ اور اس کے نتیجے میں انجام پانے والے عوامل کئی سارے کٹھن مراحل سے بتدریج گزرتے ہوئے عوامی سطح پر ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ برعکس موجودہ سوشل میڈیا کی بے لگام اور بغیر تحقیق و حوالے کے نشر و اشاعت و تقسیم کے جو بن سمجھے مختلف پلیٹ فارمز پر دھڑادھڑ پھیلائے جاتے ہیں۔
مرغی کے گوشت کی غذائی اہمیت اور ملکی معیشت
پولٹری انڈسٹری، ٹیکسٹائل کے بعد پاکستان کی دوسری بڑی انڈسٹری بن چکی ہے۔ اس صنعت کی موجودہ ترقی کی شرح 7.3 فیصد سالانہ ہے۔ پولٹری کی صنعت میں تقریباً 1056 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ پاکستان میں برائلر کا گوشت موجودہ وقت میں سستی ترین پروٹین کے حصول کا سب سے اہم اور بڑا ذریعہ ہے۔ برائلر ان چوزوں کو کہتے ہیں جو گوشت کیلئے پالے جاتے ہیں۔ برائلر کی تیاری میں تمام دوسرے جانوروں کے مقابلے میں کم وقت درکار ہوتا ہے۔ سفید گوشت کا استعمال صحت کا ضامن ہونے کی وجہ سے عوام الناس میں روز بروز بڑھ رہا ہے کیونکہ مرغی کا گوشت بڑے جانوروں کے مقابلے میں انسانی بدن میں بہت آسانی سے ہضم ہو کر جزو بدن بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں برائلر کے گوشت میں بہت کم کولیسٹرول (نقصان دہ چکنائی) ہوتی ہے۔ کسی ملک میں انسانی خوراک کے معیار کا اندازہ خوراک میں موجود لحمیات (پروٹین) بالخصوص حیوانی لحمیات کی مقدار سے لگایا جاتا ہے۔
طبی نقطہ نظر سے پروٹین انسانی جسم کی نشو و نما کیلئے بہت اہم ہے جو کہ گوشت، انڈے اور دودھ میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ پاکستان پروٹین کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق حیوانی پروٹین کی فی کس روزانہ دستیابی تقریباً 27 گرام ہونی چاہیے جبکہ تمام جانوروں سے حاصل شدہ لحمیات کی دستیابی فی الحال 17 گرام فی کس ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں انسانی خوراک میں روزانہ حیوانی لحمیات 10 گرام کم ہے۔ درج بالا عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے اندر گوشت کیلئے مرغی پالنے کی کامیابی کے بہت زیادہ مواقع ہیں۔ برائلر کا ایک فلاک (flock) باآسانی 6 ہفتے (42 دن) میں تیار ہوتا ہے۔ پولٹری انڈسٹری نے دور حاضر میں انتہائی پرکشش اور منافع بخش صنعت کا درجہ حاصل کیا ہے۔ ملک میں لحمیات (پروٹین) کی غذائی کمی کو پورا کرنے کی جس قدر صلاحیتیں برائلر فارمنگ میں ہیں وہ کسی اور شعبہ میں نہیں۔ اسی لئے برائلر فارمنگ نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کیے ہیں جس سے نہ صرف گوشت کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملی بلکہ فی کس گوشت کی دستیابی میں بھی اضافہ ممکن ہوا ہے۔
مرغی کے گوشت کا شمار سفید گوشت میں ہوتا ہے کیونکہ اس میں آئرن (فولاد) بڑے جانور کے گوشت کے (2mg/100g) مقابلے میں کم مقدار (0.7mg/100g) میں پایا جاتا ہے۔ مرغی کے گوشت میں پائے جانے والے Amino Acids (قوت مدافعت پیدا کرنے والے نظام Immune System کیلئے بہت مفید ہیں) جیسے Tryptophan, Arginine, Methionine۔ مرغی کے گوشت میں موجود Tryptophan سے دماغ Serotonin بناتا ہے جو کہ Neurotransmitter ہے۔ یہ انسان کے موڈ کو بہتر بناتا ہے۔ اس میں پائے جانے والا Folic Acid حاملہ عورتوں کیلئے بہت مفید ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ مرغی کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ مثلاً ایشیاء کے لوگ مرغی، تیتر اور بٹیر کے گوشت کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ جاپان کے لوگ بطخ کے گوشت کو پسند کرتے ہیں۔ امریکہ میں رہنے والے لوگ مرغی اور ٹرکی کے گوشت کو پسند کرتے ہیں۔
مرغی کے گوشت میں چربی کی مقدار دوسرے جانوروں سے کم ہوتی ہے۔ نیز اس میں Omega-3 فیٹی ایسڈز بھی پائے جاتے ہیں۔ مرغی کے گوشت میں مضر صحت چربیلے اجزاء (Saturated Fatty Acids) کی کم مقدار اس کو انسانی صحت کیلئے مفید بناتی ہے۔ مرغی کے گوشت میں بہت سے وٹامنز پائے جاتے ہیں۔ یہ دل کے مریضوں کیلئے بھی مفید ہیں کیونکہ اس میں نقصان دہ Saturated Fatty Acids کی کمی شریانوں میں چکنائی کے جمنے کو روکتی ہے۔ مرغی کے گوشت میں موجود Selenium (سیلینیم) Antioxidant ہونے کی وجہ سے جگر کے خلیوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔
دنیا بھر میں پولٹری کو صحت مند گوشت سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں وہی مرغی کھائی جاتی ہے جو پاکستان میں کھائی جاتی ہے کیوں کہ دنیا بھر میں برائلر مرغی کی نسل اور خوراک ایک جیسی ہے۔ لوگ ایسے ہی افواہیں پھیلاتے ہیں کہ مرغیوں کی خوراک میں ایسی چیزیں شامل ہوتی ہیں جو انسانی صحت پر نقصان دہ اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو یورپ اور امریکہ کے لوگ بیمار ہوتے کیونکہ وہاں پاکستان کے مقابلے میں تقریباً سات گنا زیادہ چکن ایک آدمی سالانہ کھاتا ہے۔ پاکستان میں فی کس مرغی کے گوشت کی ماہانہ کھپت تقریباً 6.5 کلو گرام ہے جو کہ یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یورپ اور امریکہ میں یہ ڈیمانڈ تقریباً 41 کلو گرام ہے۔ ہمارے ملک میں لوگوں میں چکن کی خریداری کی سکت نہیں ہے۔ اسلئے ڈیمانڈ بھی کم ہے۔ جو لوگ سالانہ 41 کلو گرام مرغی کا گوشت کھاتے ہیں انکی اوسط عمر 85 سال ہے۔ اسرائیل میں 65 کلو گرام چکن فی آدمی کی سالانہ ڈیمانڈ ہے۔
فارمی مرغی کی تیز بڑھوتری (growth) کی وجوہات
برائلر کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں یہ غلط تاثر پایا جاتا ہے کہ برائلر کو Steroids والی غذا دی جاتی ہے جسکی وجہ سے برائلر 35 سے 42 دنوں میں 2 کلو گرام وزن حاصل کر لیتا ہے جبکہ در حقیقت یہ بڑھوتری تو جینیاتی سائنس میں ترقی اور متوازن خوراک کی مرہونِ منت ہے۔ مرغیوں کی خوراک میں نہ ہی Steroids استعمال ہوتے ہیں اور نہ ہی Growth ہارمونز، برائلر کی Great Grand Parents کی پیداوار یورپ اور امریکہ سے منگوائی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے ہی کئی سالوں پر محیط جینیاتی Selection کر کے یہ ڈیویلپ (تیار) کی ہے۔ سائنس دانوں نے کئی سالوں پر محیط ریسرچ کے بعد کم کھانے والے اور زیادہ وزن بڑھانے والے برائلر کی سلیکشن کر کے انکی بریڈ (نسل) تیار کی ہے اور ان برائلر مرغیوں کی باڈی (جسم) کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مخصوص و متوازن فیڈ تیار کی جاتی ہے جس میں پروٹین اور انرجی کی ایک مخصوص تعین کردہ مقدار ہوتی ہے۔ لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ برائلر چوزوں کی پرورش انتہائی مؤثر اور تیز رفتار نظام ہضم کے ذریعہ روبہ عمل ہوتی ہے۔ جسکے تحت حیران کن طور پر 2 کلو گرام یا اس سے بھی کم فیڈ صرف چھ ہفتہ کے عرصہ میں ایک کلو گرام گوشت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
برائلر چوزہ بذات خود ایک اعلیٰ تکنیکی جینیاتی انجینئرنگ (High Tech Genetic Engineering) کی مہارت کا ثمر ہوتا ہے جسکی ہر نسل اپنی پیش رو نسل سے بہتر ہوتی ہے جیسا کہ آج کا برائلر چوزہ جو نسلی اعتبار سے کارکردگی میں اس چوزے سے بہت بہتر ہے جو دس برس پہلے تھا۔ 20 برس پہلے ہم چوزے سے لگ بھگ 8 ہفتے کی عمر میں 600 سے 1000 گرام (تقریباً آدھا سے ایک کلو) وزن حاصل کرتے تھے، جبکہ وزن اور فیڈ کا تناسب 3.5 سے 4 کے درمیان رہتا تھا، اسکے بر خلاف موجودہ زمانہ میں برائلر چوزہ صرف 35 دن کے قلیل عرصہ میں 1500 سے 1600 گرام وزن حاصل کر لیتا ہے اور فیڈ کا تناسب 2 یا اس سے بھی کم رہتا ہے۔ University of Alberta میں کئے گئے ایک تجربے میں سائنسدانوں نے 1957، 1978، اور 2005 میں پالے جانے والے برائلر کی نسلوں پر تجربات کئے جس میں انکو ایک جیسی خوراک دی گئی، تجربہ کے اختتام پر 2005 کی نسل (Ross-308) نے 1957 اور 1978 کی نسلوں سے تقریباً 4 گنا زیادہ وزن حاصل کیا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ نسل در نسل مرغیوں کی Intensive Selection اور Breeding کے تمام تجربات کا محور مرغی کے وزن میں اضافہ کرنا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ 2005 کی ترقی یافتہ نسل نے 1957 کی اپنے آباؤ اجداد سے زیادہ وزن حاصل کیا۔
برائلر کی موجودہ نسل کسی ایک سائنسی تجربہ کا ثمر نہیں بلکہ یہ 1925 سے جاری لگاتار مسلسل ریسرچ کا نچوڑ ہے جو Breeding & Selection پر مشتمل ہے۔ نسل در نسل Intensive Selection مرغیوں کے وزن میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہا۔ موجودہ برائلر کے آباؤ اجداد نے اس کے خدوخال بنانے میں اپنا کردار ادا کیا جسکا مقصد تیز رفتار شرح نمو حاصل کرنا ہے جو بالآخر گوشت پر منتج ہوتی ہے۔ تجارتی برائلر چوزہ ان تمام پیچیدہ موروثی عوامل کا حتمی وارث ہے جو اسکی کارکردگی کی مہم کی تکمیل کرتے ہیں اور اپنے جینز (Genes) میں موجود ہدایات کی مدد سے نشو و نما کا ہدف پورا کرتے ہیں جیسا کہ چوزہ کے جنسیاتی اور ارتقائی پروگرام میں ہوتا ہے جسم پر زیادہ سے زیادہ گوشت کی تہہ جما دیتے ہیں۔
مرغیوں میں ہارمونز کے استعمال کی غلط فہمی اور افواہ جولائی 1985 میں میڈیا پر چلنے والی ایک من گھڑت رپورٹ سے شروع ہوئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ لڑکیوں میں ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے جلد بلوغت اور چہرے پر بال وغیرہ نمودار ہونے کا تعلق مرغیوں میں ہارمونز کا استعمال ہے۔ تیز رفتار شرح نمو کیلئے فیڈ کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔ فیڈ اور پانی میں ہارمونز کا شامل کرنا ممکن نہیں کیونکہ مرغی کا نظام ہضم تیزاب اور خامرے Enzymes سے شروع ہوتا ہے جو خوراک کے پروٹین جزو کو Amino Acids میں تبدیل کر کے ہارمون کو بے اثر کرتا ہے۔ دوسرا عملی طریقہ مرغیوں کو روزانہ کی بنیاد پر ہارمونز لگانے کا انجکشن والا ہی رہ جاتا ہے۔ یہ طریقہ کمرشل مرغیوں میں ہر گز قابل عمل نہیں کیونکہ فارم پر موجود ہزاروں مرغیوں کو انفرادی طور پر ہر 6 گھنٹے بعد ہارمون کا انجکشن لگانا ناممکنات میں سے ہے۔ علاوہ ازیں مرغیوں میں گروتھ ہارمونز کا استعمال پیداواری لاگت کے لحاظ سے بالکل فائدہ مند نہیں کیونکہ مرغیوں کیلئے تجارتی پیمانے پر یہ ہارمونز مارکیٹ میں دستیاب نہیں اور اگر ہے بھی تو اس کے استعمال کا خرچہ برائلر کی قیمت سے بھی کافی زیادہ ہے۔
برائلر کی خوراک میں 60 فیصد زرعی اجناس، 30 فیصد سویابین، سن فلاور، کنولا میل، اور 10 فیصد منرل، وٹامن اور امائنو ایسڈز (Methionine, Lysine) شامل ہیں۔ برائلر کی خوراک میں سب سے زیادہ زرد مکئی استعمال ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اس میں جوار، کھل بنولہ، چوکر گندم، مچھلی کا چورہ، پھک چاول، چاول کا ٹوٹا، شیرہ، جوار، جو، پسا ہوا چونے کا پتھر، سویابین میل، ہڈیوں کا چورہ، خشک شدہ الفا الفا (پسی ہوئی)، رائس پالش، کارن گلوٹن، گوار میل، سیم میل، اور منرل اور وٹامن پری مکس استعمال کیا جاتا ہے۔ وٹامن میں A, D, E, K, B1, B2, B3, B5, B6, B12, Folic acid, choline, Biotin شامل ہیں۔ جبکہ منرلز میں calcium, selenium, iodine, iron, manganese, zinc اور phosphorous شامل ہیں۔ مرغیوں کیلئے تیار کی گئی خوراک سائنسی اصولوں کے عین مطابق اور اس خوراک میں استعمال ہونے والے خام مال کا لیبارٹری تجزیہ کیا جاتا ہے جس میں خوراک میں موجود پروٹین، انرجی اور افلاٹاکسین کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ جہاں تک بڑھوتری کا تعلق ہے تو اس میں خوراک سے زیادہ اہم کردار مرغی کے جینز (Genes) کا ہے۔ اسکے Genes میں جلد بڑھوتی کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ مرغی کی افزائش میں وقت کے ساتھ ساتھ جو بہتری آئی ہے وہ اسکے وراثتی موروثی صلاحیت (Genetic Potential) میں بہتری سے آئی ہے۔ اگر تیز بڑھوتری میں فیڈ کا سارا کردار ہوتا تو یہی خوراک آپ دیہی / دیسی مرغیوں کو کھلا کر دیکھ لیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
باالفاظ دیگر برائلر مرغیوں کی جلد بڑھوتری کی بنیادی وجہ Genes، وراثتی مواد، خوراک اور مناسب پرورش ہے۔ برائلر مرغی دنیا بھر کے سائنس دانوں کی کئی دہائیوں پر محیط تحقیق کا نتیجہ ہے۔ برائلر کی تیز پیداوار میں جینیاتی انجینئرنگ کا بنیادی دخل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متوازن خوراک اور مناسب ماحول فراہم کرنے کی وجہ سے کم عرصے میں زیادہ وزن کا حصول ممکن ہوتا ہے۔
درج بالا بحث سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ مرغی کا گوشت ہارمونز اور Steroids سے مبرا ہے۔ عوام الناس بلا کسی خوف کے مرغی کا گوشت استعمال کر سکتے ہیں۔ عوام الناس میں اس حوالے سے شعور پیدا کرنے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا کردار مسلمہ ہے۔ لہٰذا میڈیا عوام الناس میں مرغی کے گوشت کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں اور خدشات کے ازالے کیلئے اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہوئے لائیوسٹاک کے ماہرین کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرے تاکہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور انجانے میں افواہوں پر یقین کر کے اپنے آپکو ایک قیمتی اور سستی متوازن خوراک سے محروم نہ کر بیٹھیں۔ میڈیا کا یہ کلیدی کردار پولٹری کی ترقی اور ترویج میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا۔