
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی نئی قیادت کا بلا مقابلہ انتخاب دراصل ایک ایسے مرحلے کا آغاز ہے جہاں صنعت کو روایتی عہدہ داری سے آگے بڑھ کر واضح ترجیحات، قابلِ پیمائش اہداف اور اجتماعی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ چوہدری محمد اشرف مرکزی چیئرمین، میاں عامر ممتاز سینئر وائس چیئرمین، ڈاکٹر ارشد حنیف چوہدری ناردرن زون کے چیئرمین اور چوہدری اسلم جاوید سدرن زون کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔
جنرل باڈی اجلاس میں گروپ لیڈر ڈاکٹر ایف ایم صابر نے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ پولٹری انڈسٹری کی ترقی ہی دراصل پولٹری صنعت کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی ترقی کی بنیاد ہے۔ یہ بات موجودہ حالات میں خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ صنعت کو اس وقت کئی معاشی، انتظامی اور مارکیٹ سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہے۔
نئی قیادت میں بیشتر عہدیداران صنعت اور ایسوسی ایشن کی قیادت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ چوہدری محمد اشرف اس سے قبل دو سال مرکزی چیئرمین رہ چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر ارشد حنیف چوہدری اور چوہدری اسلم جاوید بھی ان ذمہ داریوں پر متعدد مرتبہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔ میاں عامر ممتاز کے لیے مرکزی سطح پر یہ نسبتاً نئی ذمہ داری ہے۔ اس تجربے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہونا چاہیے کہ ماضی کے تجربات اور موجودہ زمینی حقائق کو یکجا کرکے ایک واضح مستقبل کی حکمت عملی تشکیل دی جائے۔
دو سالہ اہداف کا تعین
نئے چیئرمین چوہدری محمد اشرف کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آئندہ دو برس میں ایسوسی ایشن کی ترجیحات کیا ہوں گی اور ان ترجیحات کی کامیابی کو کس پیمانے سے جانچا جائے گا۔
گزشتہ دور کا ایک نمایاں حصہ سویا بین کے مسئلے کے گرد گھومتا رہا۔ اس مسئلے نے نہ صرف فیڈ سیکٹر بلکہ پوری پولٹری ویلیو چین کو متاثر کیا۔ اب ضرورت ہے کہ نئی قیادت ماضی کے بحرانوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے اگلے دو سال کے لیے چند واضح اور قابلِ پیمائش اہداف مقرر کرے اور ہر چند ماہ بعد ان کی پیش رفت کا جائزہ لے۔
برائلر اور انڈے کی قیمتیں اور مستقل حل
موجودہ دور میں برائلر اور انڈوں کی قیمتوں میں کمی نے پولٹری فارمرز کے لیے نئے مسائل پیدا کیے ہیں۔ قیمت میں کمی صارف کے لیے بظاہر خوش آئند ہوسکتی ہے لیکن اگر پیداوار کی لاگت کے مقابلے میں مارکیٹ ریٹ مسلسل کم رہے تو فارم کی معاشی پائیداری متاثر ہوتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف قیمت بڑھانے یا کم کرنے سے حل نہیں ہوگا۔ ایسوسی ایشن کو پیداوار، طلب، رسد، فیڈ لاگت، چوزے، ادویات، توانائی، مارکیٹنگ اور مارکیٹ کے رجحانات کو ایک مربوط نظام کے تحت دیکھنا ہوگا۔ صنعت کے ہر طبقے یعنی بریڈر، ہیچری، فیڈ مل، فارمر، ٹریڈر اور صارف کے مفادات کو سامنے رکھ کر پائیدار پالیسی کی ضرورت ہے۔
قومی پولٹری ڈیٹا بیس کا قیام
پاکستان کی پولٹری صنعت کا ایک بڑا مسئلہ قابلِ اعتماد، بروقت اور جامع ڈیٹا کی عدم دستیابی ہے۔ یہ صنعت جتنی بڑی ہے، اس کے فیصلے اتنے ہی مضبوط اعدادوشمار کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔
نئی قیادت کو ایک قومی پولٹری ڈیٹا بیس کے قیام کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے جس میں کم از کم ہیچنگ، ڈی او سی پیداوار، بریڈر فلوکس، فیڈ کی کھپت، برائلر پیداوار، انڈوں کی پیداوار، مارکیٹ سپلائی، قیمتیں، پیداواری لاگت، درآمدات و برآمدات اور مختلف علاقوں کے پیداواری رجحانات کا مسلسل ریکارڈ موجود ہو۔ اگر صنعت کے پاس درست ڈیٹا ہوگا تو بحران آنے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے بحران کی پیش گوئی اور بروقت منصوبہ بندی ممکن ہوگی۔
نئی صف بندی اور مخصوص کمیٹیاں
چوہدری محمد اشرف کے لیے یہ موقع بھی ہے کہ وہ ایسوسی ایشن کی نئی صف بندی کرتے ہوئے ایسے ورکنگ گروپس تشکیل دیں جو محض اجلاسوں تک محدود نہ ہوں بلکہ مخصوص اہداف پر کام کریں۔ ان میں درج ذیل شعبے شامل ہیں
- پولٹری ڈیٹا اور مارکیٹ انٹیلی جنس کمیٹی
- فیڈ اور خام مال کمیٹی
- فارمر اکنامکس اور پیداواری لاگت کمیٹی
- برائلر و انڈہ مارکیٹ کمیٹی
- بیماریوں، بائیوسکیورٹی اور اے ایم آر کمیٹی
- حکومتی پالیسی و ریگولیٹری امور کمیٹی
- برآمدات اور ویلیو ایڈیشن کمیٹی
- نوجوان فارمرز اور نئے کاروباری افراد کی کمیٹی
ان کمیٹیوں کو واضح ٹی او آرز، ٹائم لائن اور سالانہ اہداف دیے جائیں اور ان کی کارکردگی جنرل باڈی کے سامنے پیش کی جائے۔
قیادت کا اصل امتحان
بلا مقابلہ انتخاب قیادت کے لیے اعتماد کی علامت ضرور ہے لیکن اصل کامیابی انتخابات میں نہیں بلکہ کارکردگی میں ہوتی ہے۔ تجربہ کار قیادت کے پاس ماضی کے تجربات کا سرمایہ موجود ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تجربے کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں تبدیل کیا جائے۔ پولٹری صنعت کو صرف بحرانوں کے وقت متحرک ہونے والی ایسوسی ایشن نہیں بلکہ ڈیٹا، تحقیق، پالیسی، مارکیٹ اور صنعت کے مستقبل کی مستقل آواز بنانا ہوگا۔
چوہدری محمد اشرف کے پاس چیئرمین شپ کا وسیع تجربہ ہے۔ اب ان کے سامنے موقع ہے کہ وہ اپنی نئی مدت کو محض ایک اور دورِ صدارت بنانے کے بجائے دو سالہ کارکردگی کے ایک واضح ماڈل میں تبدیل کریں جس میں آغاز ہی میں اہداف مقرر ہوں، درمیان میں احتساب ہو اور اختتام پر صنعت کے سامنے نتائج موجود ہوں۔ پولٹری صنعت کی ترقی واقعی پاکستان کی غذائی معیشت، روزگار اور زرعی ویلیو چین کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے نئی قیادت کے لیے سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ اب وقت صرف قیادت کرنے کا نہیں بلکہ نتائج دینے کا ہے۔