
سوسائٹی فار دی پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز (SPCA) پنجاب کا قیام بے زبان جانوروں کو تشدد سے بچانے، ان کی فلاح کو یقینی بنانے اور انسانی معاشرے میں جانوروں کے حقوق کا شعور بیدار کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کلیدی ادارہ اپنی ذمہ داریوں سے دور ہوتا چلا گیا اور آج عملاً جمود کا شکار دکھائی دیتا ہے جسے متحرک کرنے کے لیے جامع اقدامات درکار ہیں۔
یہ پیش رفت خوش آئند ہے کہ ایس پی سی اے پنجاب کے اعزازی سیکرٹری کا عہدہ پروفیسر ڈاکٹر کامران اشرف کے سپرد کیا گیا ہے۔ ان سے یہ مضبوط امید وابستہ ہے کہ وہ تنظیم کو محض کاغذی کارروائیوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایک فعال اور نتیجہ خیز پلیٹ فارم بنائیں گے۔
یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ یوواس کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی ماضی میں اسی عہدے پر رہ کر جانوروں کی فلاح کے لیے عملی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ادارے کی بحالی کے لیے ان کے سابقہ تجربات اور عملی اقدامات کے تسلسل کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔
ادارے کی فعالیت کے لیے ضروری اقدامات درج ذیل ہیں
- جانوروں پر تشدد کے واقعات کی کڑی نگرانی اور فوری ایکشن کا نظام
- مستعد ریسکیو سروسز اور جانوروں کی ویلفیئر سرگرمیوں کا فوری آغاز
- ویٹرنری ماہرین، سول سوسائٹی اور فلاحی اداروں کے اشتراک سے آگاہی مہمات
- متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ ہم آہنگی اور فیلڈ سطح پر عملی اقدامات
ایس پی سی اے کی اصل کامیابی کا دائرہ دفاتر اور فائلوں سے نکل کر سڑکوں، مویشی منڈیوں اور شہری مراکز تک نظر آنا چاہیے۔ امید ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر کامران اشرف اسے قومی اور اخلاقی فریضہ جان کر نبھائیں گے تاکہ جانوروں کی بہبود صرف نعرہ نہ رہے بلکہ ٹھوس حقیقت بن سکے۔