پاکستانی پولٹری میں اینٹی بایوٹک استعمال اور AMR: فنانشل ٹائمز کی رپورٹ نے اہم سوالات

بایوسکیورٹی، بہتر نیوٹریشن، ویکسینیشن اور متبادل طریقوں کی جانب پیش رفت بھی نمایاں، ماہرین ذمہ دارانہ اینٹی بایوٹک استعمال اور بہتر نگرانی پر زور دینے لگے

فیصل آباد: معروف بین الاقوامی اخبار Financial Times نے پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی پولٹری صنعت میں اینٹی بایوٹکس کے استعمال، جراثیم میں ادویات کے خلاف مزاحمت یعنی Antimicrobial Resistance (AMR)، بایوسکیورٹی اور مستقبل میں antibiotics پر انحصار کم کرنے کے امکانات کو اپنی ایک تفصیلی خصوصی رپورٹ میں اجاگر کیا ہے۔

6 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی Financial Times کی رپورٹ “The chicken farms that become ‘pathogen sponges’ for superbugs” میں پاکستان، خصوصاً پنجاب کی پولٹری پیداوار کو antimicrobial resistance کے عالمی تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ مائیکل پیل اور سوزانہ سیویج نے لندن جبکہ حمزہ جیلانی نے فیصل آباد سے رپورٹ کی۔

رپورٹ میں ایک طرف antibiotics کے استعمال، drug-resistant bacteria اور intensive poultry production سے متعلق عالمی سائنسی خدشات کو سامنے لایا گیا ہے، تو دوسری جانب پاکستان کی پولٹری صنعت میں بہتر بایوسکیورٹی، آگاہی، جدید مینجمنٹ اور antibiotics کے متبادل ذرائع کی طرف ہونے والی پیش رفت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔

فیصل آباد کے ڈاکٹر عدنان شوکت کے فارم پر اینٹی بایوٹک اخراجات میں 25 فیصد کمی

Financial Times نے فیصل آباد کے تربیت یافتہ ویٹرنری ڈاکٹر اور پولٹری فارمر ڈاکٹر عدنان شوکت کے فارم کو پاکستان میں بدلتی ہوئی farm management practices کی ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان کے دو پولٹری ہاؤسز میں تقریباً 54 ہزار پرندے موجود ہیں۔ فارم میں گاڑیوں کے ٹائروں کی disinfection، کارکنوں کے footwear کے لیے disinfectant، پانی میں bacterial growth کم کرنے کے لیے citric acid اور بڑے ventilation fans سمیت مختلف biosecurity measures اختیار کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر عدنان شوکت کے مطابق بہتر بایوسکیورٹی اقدامات کی وجہ سے ان کے فی مرغی سالانہ antibiotic expenditure میں تقریباً 25 فیصد کمی آئی ہے۔

انہوں نے Financial Times کو بتایا کہ پانچ سال قبل farmers preventive purposes کے لیے antibiotics زیادہ استعمال کرتے تھے، تاہم اب کسانوں، صارفین اور حکومتی اداروں میں antibiotics کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے نقصانات سے متعلق آگاہی بڑھی ہے۔

یہ پہلو اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ poultry health management اب صرف antimicrobial medication پر منحصر نہیں، بلکہ biosecurity، disease prevention، vaccination، nutrition، water quality اور environmental management مجموعی production strategy کا increasingly اہم حصہ بن رہے ہیں۔

Oxford تحقیق میں ’Pathogen Sponges‘ کی اصطلاح

Financial Times نے برطانیہ کے Ineos Oxford Institute for Antimicrobial Research کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بہت بڑی اور گنجان poultry populations مختلف ذرائع سے آنے والے bacterial strains کو حاصل کرکے ان کے پھیلاؤ کو بڑھانے کا ماحول فراہم کر سکتی ہیں۔

اسی scientific context میں محققین نے “ecological pathogen sponges” کی اصطلاح استعمال کی۔

رپورٹ کے مطابق intensive poultry production کو Campylobacter کے پھیلاؤ میں ایک اہم عامل قرار دیا گیا ہے، جبکہ antimicrobial resistance کے بڑھنے سے بعض bacterial infections کا علاج مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ ایک عالمی veterinary اور public-health concern ہے۔ 2026 میں WOAH کی scientific review نے بھی antimicrobial misuse اور overuse کو AMR کے پھیلاؤ کا اہم عنصر قرار دیتے ہوئے livestock production میں antimicrobial use کم کرنے اور بہتر preventive systems اپنانے پر زور دیا ہے۔

پاکستان میں antibiotic use پر پہلے بھی تحقیقات ہو چکی ہیں

Financial Times نے دیہی پنجاب میں شائع ہونے والی 2023 کی ایک تحقیق کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں زیرمطالعہ poultry farms پر antibiotic use، prescription کے بغیر استعمال اور growth promotion کے لیے antimicrobials کے استعمال کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اصل تحقیق Pindi Gheb، ضلع Attock کے 40 poultry farms پر مبنی تھی۔ اس میں تمام surveyed farms نے antibiotic use report کیا، 60 فیصد میں antibiotics prescription کے بغیر حاصل کیے گئے، جبکہ 45 فیصد farms میں growth promotion بھی antibiotic use کی ایک وجہ بتائی گئی۔

پاکستان میں اس سے قبل ڈاکٹر مشکور محسن اور ان کے ساتھی محققین بھی poultry sector میں antimicrobial use پر research شائع کر چکے ہیں۔

2013 سے 2017 کے دوران ایک commercial broiler operation کے 30 flocks پر مبنی study میں antimicrobial consumption کی بلند سطح سامنے آئی اور researchers نے پاکستان کے commercial broiler sector کے لیے تقریباً 568 ٹن سالانہ antimicrobial consumption کا baseline estimate پیش کیا تھا۔ تاہم یہ قومی سطح کی براہ راست measurement کے بجائے monitored farm data سے اخذ کیا گیا تخمینہ تھا۔

بعد ازاں 2020-21 میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے 12 commercial broiler farms پر کی جانے والی research میں بھی antimicrobial use کی بلند سطح سامنے آئی۔ Study میں استعمال ہونے والی antibiotics کا تقریباً 60 فیصد WHO کی critically important antimicrobial classes میں شامل تھا، جس پر researchers نے food-producing animals میں antimicrobial stewardship مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس طرح Financial Times کی حالیہ رپورٹ ایک ایسے موضوع کو دوبارہ سامنے لائی ہے جس پر پاکستانی veterinary researchers پہلے سے کام کرتے آ رہے ہیں۔

فیڈ اور antibiotic raw material کا معاملہ بھی زیر بحث

Financial Times کی رپورٹ میں University of Agriculture Faisalabad کے microbiologist ڈاکٹر مشکور محسن گیلانی کے حوالے سے poultry feed میں antibiotic growth promoters کے استعمال کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔

رپورٹ میں industry experts کے حوالے سے یہ مسئلہ بھی بیان کیا گیا کہ بعض potent antibiotics کے raw materials دیہی مارکیٹوں تک پہنچ کر livestock اور poultry production میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

Antimicrobial products کی responsible distribution، veterinary supervision، feed quality control اور farm-level usage documentation اس وجہ سے مستقبل میں پاکستان کے poultry sector کے لیے مزید اہم ہوتے جائیں گے۔

A&K Pharmaceuticals: antibiotics کم ہوں گے تو management مزید مضبوط کرنا ہوگی

رپورٹ میں فیصل آباد کی A&K Pharmaceuticals کے Director Marketing عرفان الرحمٰن گل کا نقطہ نظر بھی شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے Financial Times کو بتایا کہ antibiotics پر انحصار کم ہونے کی صورت میں poultry husbandry اور hygiene کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔

ان کے مطابق پاکستان کی protein consumption کا ایک بڑا حصہ chicken اور eggs سے حاصل ہوتا ہے اور اگر بیماریوں کے باعث mortality بڑھے تو food demand پوری کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

A&K Pharmaceuticals کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی antibiotics کے متبادل، خصوصاً probiotics کی مقامی پیداوار میں سرمایہ کاری کی سمت کام کر رہی ہے جو Salmonella جیسے نقصان دہ bacteria کو روکنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

عرفان الرحمٰن گل کے مطابق antibiotics اور antibiotic growth promoters کے استعمال کو کم کرنے میں آگاہی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

عالمی ماہرین کا زور responsible use پر

Financial Times نے معروف microbiologist اور London School of Hygiene & Tropical Medicine کے سابق Director Sir Peter Piot کا موقف بھی شامل کیا، جنہوں نے اس امکان کی طرف توجہ دلائی کہ بعض resistant bacteria پرندوں کو لازماً بیمار یا ہلاک کیے بغیر food chain تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں WHO Chief Scientist Sylvie Briand نے multi-drug resistant bacteria کے وسیع پھیلاؤ کو مستقبل کے public-health risks سے جوڑا۔

World Organisation for Animal Health (WOAH) کے Veterinary Products and Antimicrobial Resistance Department کے سربراہ Javier Yugueros-Marcos نے بھی responsible antimicrobial use کے ساتھ biosecurity اور vaccination مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

عالمی سطح پر بھی تصویر مکمل طور پر منفی نہیں ہے۔ WOAH کے 2025 antimicrobial-use report کے مطابق رپورٹنگ کرنے والے ممالک میں animal antimicrobial use مجموعی طور پر 5 فیصد کم ہوا، جو prevention، regulation اور responsible use کی طرف پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستانی پولٹری صنعت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے

Financial Times کے مطابق پاکستان میں chicken production گزشتہ ایک دہائی میں اوسطاً تقریباً 10 فیصد سالانہ بڑھی ہے اور پنجاب میں 17 ہزار سے زیادہ broiler farms موجود ہیں۔

پولٹری production system بھی تبدیل ہوا ہے۔ روایتی open-sided sheds کے ساتھ ساتھ جدید environmentally controlled houses، بہتر genetics، formulated nutrition، vaccination programmes، diagnostics، ventilation، water management اور farm biosecurity کا استعمال بڑھا ہے۔

یہی تبدیلی مستقبل میں antibiotics پر غیر ضروری انحصار کم کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

پولٹری sector میں antibiotics کو overnight ختم کرنا نہ عملی veterinary strategy ہے اور نہ بیماری کی صورت میں مناسب approach۔ اصل سمت یہ ہے کہ ضرورت کے مطابق veterinary-supervised treatment برقرار رہے جبکہ routine، غیر ضروری اور growth-promotion based antimicrobial use کم ہو۔

اس مقصد کے لیے disease prevention، vaccination، probiotics اور دیگر alternatives، بہتر nutrition، gut health، diagnostics، housing، litter management، water sanitation اور biosecurity زیادہ اہم کردار ادا کریں گے۔

پاکستان کے لیے AMR ایک چیلنج بھی، بہتری کا موقع بھی

جواب دیں