پاکستان میں فی کس اناج کی کھپت میں نمایاں کمی

پاکستان میں فی کس اناج کی کھپت میں بڑی کمی؛ گندم، چاول اور دالوں کا استعمال گھٹ گیا

اسلام آباد: پاکستان میں بنیادی غذائی اجناس کی فی کس ماہانہ کھپت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے گھریلو مربوط معاشی سروے (HIES) کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گندم، آٹا، چاول اور دالوں کا فی کس استعمال 2018-19 کے مقابلے میں خاصا کم ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گندم اور آٹے کی فی کس ماہانہ کھپت 2018-19 میں 7 کلوگرام تھی، جو کم ہو کر 6.59 کلوگرام رہ گئی ہے، یعنی فی کس ماہانہ 410 گرام (5.86 فیصد) کی کمی واقع ہوئی۔

اسی دوران چاول کی کھپت 1.06 کلوگرام سے کم ہو کر 860 گرام رہ گئی، جس میں 200 گرام یا 18.87 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ سب سے زیادہ تشویشناک کمی دالوں کے استعمال میں سامنے آئی، جہاں ماہانہ کھپت 350 گرام سے گھٹ کر 260 گرام پر آ گئی، جو کہ 25.71 فیصد کی نمایاں گراوٹ ہے۔

بنیادی غذائی اجناس کی کھپت کا تقابلی جائزہ

غذائی شےکھپت (2018-19)کھپت (2024-25)مجموعی کمیشرح کمی
گندم و آٹا7.00 کلوگرام6.59 کلوگرام410 گرام5.86%
چاول1.06 کلوگرام0.86 کلوگرام200 گرام18.87%
دالیں350 گرام260 گرام90 گرام25.71%

کھپت میں کمی کے اسباب اور اثرات

اقتصادی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق بنیادی خوراک کی کھپت میں کمی عوام کی غذائی ترجیحات میں تبدیلی کے بجائے گھریلو معاشی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ اشیائے خوردونوش کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور حقیقی آمدن میں کمی کے باعث عام شہریوں کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے، جس نے ملک میں غذائی تحفظ اور غذائیت کی کمی کے سنگین خطرات کو جنم دیا ہے۔

جواب دیں