پاکستان کا لائیو اسٹاک سیکٹر دیہی معیشت کا سویا ہوا دیو اور ترقی کے امکانات

پاکستان کا لائیو اسٹاک سیکٹر: دیہی معیشت کا سویا ہوا دیو اور ترقی کے امکانات

مصنّفین: ڈاکٹر محمد اسامہ، ڈاکٹر محمد خالد بشیر، ڈاکٹر فیصل رمضان، مومنہ محمود
ادارہ: انسٹیٹیوٹ آف اینیمل اینڈ ڈیری سائنسز جامعہ زرعیہ، فیصل آباد

پاکستان کی دیہی معیشت کا تذکرہ عام طور پر روایتی زراعت اور گندم، کپاس یا چاول کی فصلوں تک محدود رہتا ہے، لیکن ملکی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ معیشت کا اصل انجن پسِ پردہ چل رہا ہے۔ لائیو اسٹاک (مویشی بانی) ملک کا وہ سویا ہوا معاشی دیو ہے جس نے خاموشی سے ملکی زراعت کو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ تاہم، ریاستی اور حکومتی سطح پر اس شعبے کو ایک جدید، منافع بخش اور کارپوریٹ صنعت کے بجائے اب بھی پسماندہ دیہی کسانوں کا کچا اور روایتی دھندہ سمجھ کر چلایا جا رہا ہے۔ یہ تضاد نہ صرف ہماری معاشی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے بلکہ عالمی منڈیوں تک ہماری رسائی کو بھی محدود کیے ہوئے ہے۔

پاکستان کی مجموعی زراعت میں لائیو اسٹاک کا حصہ 60.84% سے زائد ہو چکا ہے، جبکہ یہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 14.64% کا زبردست حصہ ڈالتا ہے۔ زراعت سے وابستہ افرادی قوت کا 42.3% حصہ براہ راست اس شعبے سے جڑا ہوا ہے، اور دیہی علاقوں میں بسنے والی ساڑھے آٹھ کروڑ کی آبادی میں سے تقریباً 35% لوگ براہ راست اپنی بقا اور روزگار کے لیے مویشیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ملک میں مویشیوں کی تعداد کسی بھی صنعتی ملک کو حیران کرنے کے لیے کافی ہے، جس میں تقریباً 57.5 ملین گائے، 46.3 ملین بھینسیں، 32.7 ملین بھیڑیں اور 87.0 ملین بکریاں شامل ہیں۔ بھینسیں سالانہ 41 ملین ٹن سے زائد دودھ پیدا کر کے ملک کی کل دودھ کی پیداوار کا 62% حصہ فراہم کرتی ہیں، جبکہ بقیہ 38% گائے سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس غیر معمولی وسائل سے لیس معیشت کو وہ قومی اہمیت اور کارپوریٹ سرپرستی حاصل نہیں ہو سکی جس کی یہ مستحق ہے۔

چھوٹے کسان کا معاشی جال اور فرسودہ سوچ کی رکاوٹ

پاکستان دنیا بھر میں چوتھا بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے، لیکن اس کی معاشی پیداواری صلاحیت کا ڈھانچہ انتہائی بکھرا ہوا اور غیر منظم ہے۔ ملک کی کل دودھ کی پیداوار کا 95% حصہ دیہی اور پیری-اربن (شہروں کے مضافات) علاقوں میں رہنے والے ان چھوٹے مالکان سے حاصل ہوتا ہے جن کے پاس اوسطاً صرف دو سے تین دودھ دینے والے جانور ہوتے ہیں۔ اس بکھرے ہوئے روایتی ڈھانچے کی وجہ سے لائیو اسٹاک کا شعبہ کئی سنگین معاشی مسائل کا شکار ہے:

غیر پروسیس شدہ دودھ (Unprocessed Milk): پیدا ہونے والے دودھ کا 85% سے 90% حصہ پروسیسنگ اور پیکنگ کے بغیر، روایتی گوالا سسٹم کے ذریعے کچے دودھ کی شکل میں فروخت ہوتا ہے۔

صحت اور معیار کا فقدان: معیار اور مانیٹرنگ کی عدم موجودگی کے باعث ملک میں فروخت ہونے والا تقریباً 70% دودھ حفظانِ صحت کے اصولوں اور مطلوبہ قوانین پر پورا نہیں اترتا۔

پالیسی کا بحران: ملکی تاریخ میں لائیو اسٹاک کی افقی ترقی (Horizontal Growth) یعنی صرف جانوروں کی تعداد بڑھانے پر تو توجہ دی گئی، لیکن عمودی ترقی (Vertical Growth) یعنی فی جانور پیداواری صلاحیت، جینیاتی اصلاح (Breed Improvement) اور جدید ترین پریسجن فارمنگ ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے کبھی بھی کوئی جامع قومی لائیو اسٹاک پالیسی نہیں بنائی گئی۔ پالیسی ساز اکثر اس شعبے کی زمینی حقائق سے ناواقف ہوتے ہیں اور کسانوں کو کبھی پالیسی سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔

پیداواری صلاحیت اور صحت کے بڑے چیلنجز

ریاستی سرپرستی اور کارپوریٹ انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی کی وجہ سے مویشی پالنے والے چھوٹے کسانوں کو وبائی بیماریوں، محدود وسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید جھٹکے تنہا برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

وبائی بیماریاں اور معاشی نقصان: پاؤں اور منہ کی بیماری (FMD) کے ساتھ ساتھ حال ہی میں پھیلنے والی موذی وبا لمپی اسکن ڈزیز (LSD) نے لائیو اسٹاک معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ نومبر 2021 میں سندھ کے ضلع جامشورو سے شروع ہونے والی اس بیماری نے دیکھتے ہی دیکھتے 36,000 سے زائد مویشیوں کو متاثر کیا۔ اس کے نتیجے میں دودھ اور گوشت کے 5 ملین سے زائد چھوٹے دکانداروں اور پروڈیوسرز کو شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

اینٹی بائیوٹکس کا بے جا استعمال (AMR): مویشیوں، مرغیوں اور مچھلیوں میں بیماریوں کی روک تھام اور پیداوار بڑھانے کے لیے اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ اور غیر منظم استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان ادویات کے اثرات (Residues) دودھ اور گوشت کے ذریعے انسانوں تک منتقل ہو رہے ہیں، جو اینٹی بائیوٹک مزاحمت (Antimicrobial Resistance) کا عالمی خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے فلیمنگ فنڈ (Fleming Fund Country Grant Phase II) کے پاکستان کو برطانوی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات: پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ دنیا کے دس بڑے ممالک میں شامل ہے۔ شدید سیلاب اور طویل خشک سالی چارے کی قلت، چراگاہوں کی تباہی اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے۔ سال 2014 کے سیلاب نے جہاں زراعت کو برباد کیا، وہیں لائیو اسٹاک کی آمدنی میں بھی 12% کی بڑی معاشی کمی واقع ہوئی تھی۔

روشن مستقبل اور اسٹریٹجک اقدامات کی راہیں

پاکستان کے اس معاشی دیو کی حقیقی صلاحیت کو بیدار کرنے کے لیے اسے محض روایتی دیہی کسان کے کاروبار کے بجائے ایک منظم، جدید اور برآمدی صنعت میں تبدیل کرنا ہو گا:

سی پیک اور برآمدی افق (CPEC & Export Protocols): پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے زرعی جدید کاری کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اکتوبر 2023 میں پاکستان نے چین کو منجمد بیف (Chilled Beef)، ڈیری مصنوعات اور گدھے کی کھالیں برآمد کرنے کے پروٹوکولز پر دستخط کیے ہیں۔ پنجاب میں FMD فری زونز کا قیام اور مقامی طور پر عالمی معیار کی ویکسین کی تیاری اس حوالے سے سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

مالیاتی اور معلوماتی سرپرستی: حکومت کی جانب سے سیلاب زدہ اور پسماندہ کسانوں کی مدد کے لیے Markup Subsidy Scheme (GMSS) کے تحت کسانوں کے قرضوں کے لیے بجٹ فراہم کیا گیا ہے۔

فرسودہ قوانین کی اصلاح: جانوروں پر ظلم کے خاتمے کا قانون (Cruelty Act) انتہائی قدیم، یعنی 1890 کا ہے، جس میں جدید دور کے سائنسی اور اخلاقی تقاضوں کے مطابق ترامیم اور ان کا سخت نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی معیارات جیسے (WOAH) کے مطابق لائیو اسٹاک کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

نتیجہ

پاکستان کی لائیو اسٹاک معیشت ایک ایسا معاشی دیو ہے جو اپنے پاؤں پر فرسودہ سوچ اور روایتی طریقوں کی زنجیریں باندھے کھڑا ہے۔ جب تک ہم اسے کسان کا پسماندہ دیہی کاروبار سمجھ کر چلاتے رہیں گے، اس کی برآمدی اور صنعتی صلاحیت دبی رہے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید سائنسی ٹیکنالوجی، جینیاتی اصلاح، موثر ویکسینیشن اور برآمدی پالیسیوں کو یکجا کر کے اسے باقاعدہ ایک کارپوریٹ انڈسٹری کا درجہ دیا جائے۔ تب ہی یہ دیو ہیکل شعبہ بیدار ہو کر پاکستان کو معاشی بحران کی دلدل سے نکالنے میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کر سکے گا۔

جواب دیں