پاکستان میں ڈیری فارمنگ کی ترقی کا کامیاب فارمولا اور عالمی ماڈلز

پاکستان میں ڈیری فارمنگ کی ترقی کا کامیاب فارمولا اور عالمی ماڈلز

پاکستان میں ڈیری فارمنگ محض ایک زرعی سرگرمی نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی روزانہ آمدنی، دیہی روزگار، غذائی تحفظ اور ملکی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ ہمارے دیہی علاقوں میں ایسا کسان عام ہے جس کے پاس دو، چار، چھ یا دس جانور ہیں؛ وہ اپنی زمین، فصلوں اور گھریلو محنت کو مویشی پالنے کے ساتھ جوڑ کر زندگی کا پہیہ چلاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی ڈیری معیشت کے باوجود چھوٹا فارمر معاشی طور پر مضبوط کیوں نہیں ہو سکا؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے دنیا کے کامیاب ڈیری نظاموں کا مطالعہ ضروری ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں پیدا ہونے والے دودھ کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ چھوٹے پیمانے کے پروڈیوسرز سے آتا ہے۔ یعنی چھوٹا فارمر ڈیری معیشت کا حاشیہ نہیں بلکہ اس کا بنیادی ستون ہے۔

اصل کامیابی جانوروں میں نہیں، تنظیم میں ہے

دنیا میں ایک معروف تین سطحی باہمی امدادِ باہمی (کوآپریٹو) نظام نے یہ ثابت کیا کہ اگر چھوٹے فارمرز کو منظم کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنے دودھ کے لیے بہتر منڈی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ دودھ اکٹھا کرنے، ٹھنڈا کرنے، پراسیسنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ تک پوری ویلیو چین (قدر کے اضافے کے سلسلے) میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس ماڈل کی بنیادی ساخت سادہ مگر طاقتور تھی:

فارمر – مقامی دودھ انجمن – علاقائی یونین- مرکزی مارکیٹنگ و برانڈ

یعنی ایک چھوٹا فارمر اکیلا نہیں رہا بلکہ ہزاروں دوسرے فارمرز کے ساتھ مل کر ایک بڑی معاشی قوت بن گیا۔ یہی اصل سبق ہے۔ چھوٹا فارمر کمزور نہیں ہوتا؛ منتشر فارمر کمزور ہوتا ہے۔ ایف اے او بھی پروڈیوسر تنظیموں کو دودھ کی وصولی، پراسیسنگ، مارکیٹنگ، چارہ، ویٹرنری خدمات، افزائشِ نسل اور آسان قرضوں تک رسائی بہتر بنانے کا اہم ذریعہ قرار دیتا ہے۔

اس ماڈل کی پہلی بڑی طاقت: فارمر کی ملکیت

کامیاب کوآپریٹو نظام میں فارمر صرف مال فراہم کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ تنظیم کا حصہ دار اور مالک ہوتا ہے۔ یہ فرق معمولی نہیں۔ ایک طرف وہ نظام ہے جس میں فارمر دودھ فروخت کرتا ہے اور آگے کیا ہوتا ہے، اسے معلوم نہیں۔ دوسری طرف وہ نظام ہے جس میں فارمر کا دودھ جمع ہونے سے لے کر پراسیسنگ اور مارکیٹنگ تک جاتا ہے اور کاروباری نظام میں اس کی ملکیت بھی موجود رہتی ہے۔ اس طرح فارمر کی آمدنی صرف دودھ کے روزانہ نرخ تک محدود نہیں رہتی بلکہ کاروباری منافع اور بچت میں بھی اس کا حصہ بنتا ہے۔

دوسری طاقت: اجتماعی قوتِ سوداکاری

ایک فارمر روزانہ 10 یا 20 لیٹر دودھ لے کر منڈی جائے تو اس کی سودا بازی کی صلاحیت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ لیکن 500 فارمرز اگر روزانہ 20 ہزار لیٹر دودھ ایک ساتھ فراہم کریں تو صورتِ حال بدل جاتی ہے۔ اب خریدار کو بھی ایک منظم ترسیلی سلسلہ ملتا ہے اور فارمرز کو بھی بہتر سوداکاری کی طاقت۔ یہی اجتماعی عمل کی اصل قوت ہے۔ پاکستان میں بھی اجتماعی مارکیٹنگ سے فارمرز کو بہتر منڈی اور آمدنی حاصل ہونے کی گنجائش واضح طور پر موجود ہے۔

تیسری طاقت: دودھ کا معیار

کامیاب نظام میں دودھ صرف ’’لیٹر‘‘ نہیں ہوتا۔ اس کی چکنائی (فیٹ)، ٹھوس غیر چکنائی والے اجزاء (ایس این ایف)، صفائی، ملاوٹ کی جانچ اور دیگر معیاری پیمانے اہم ہوتے ہیں۔ لہٰذا بہتر نظام میں اصول یہ ہوتا ہے:

زیادہ معیار = زیادہ قیمت

یہ اصول فارمر کو خود معیار بہتر بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اگر اچھے اور خراب دودھ کی قیمت ایک ہو تو فارمر کو معیار بہتر بنانے کی معاشی وجہ نہیں ملتی۔

چوتھی طاقت: دہلیز پر سہولیات کی فراہمی

ایک منظم ڈیری ادارہ صرف دودھ نہیں خریدتا بلکہ فارمر کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ اس میں شامل ہیں:

  • معیاری چارہ اور ونڈا
  • نمکیاتی آمیزہ (منرل مکسچر)
  • ویٹرنری خدمات اور حفاظتی ٹیکے
  • مصنوعی تخم ریزی اور تشخیصِ حمل
  • جدید تربیت، آسان مالی معاونت اور دودھ کی پیداوار کا باقاعدہ اندراج

یعنی منڈی، بنیادی سامان اور پیشہ ورانہ سہولیات ایک ہی نظام میں یکجا ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ عمل ہے جو چھوٹے فارمر کو کمرشل فارمر میں تبدیل کرتا ہے۔

ہر ماڈل کی حدود اور کمزوریاں

یہاں پاکستان کے لیے سب سے اہم سبق موجود ہے۔ کسی بھی غیر ملکی ماڈل کو جوں کا توں نقل کرنا دانش مندی نہیں۔ کامیاب ڈیری نظام اپنے مخصوص تاریخی، معاشی، انتظامی اور سماجی ماحول میں پنپتے ہیں۔ پاکستان کو اس سے اصول اخذ کرنے چاہئیں، ڈھانچہ نہیں۔ ایف اے او کے جائزوں کے مطابق دنیا بھر میں کوآپریٹو، معاہداتی کاشت کاری (کنٹریکٹ فارمنگ)، ڈیری زون، کمیونٹی ڈیری اور سرکاری و نجی شراکت داری جیسے متعدد ماڈلز رائج رہے ہیں؛ کسی ایک ماڈل کو ہر ملک کے لیے عالمگیر حل نہیں مانا جا سکتا۔

پہلا خطرہ: نظم و نسق اور بدانتظامی

کوآپریٹو کا لفظ خود کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اگر ادارے پر چند بااثر افراد قابض ہو جائیں، انتخابات صرف کاغذی رہ جائیں، کھاتے شفاف نہ ہوں، پیشہ ور انتظامیہ نہ ہو یا سیاسی مداخلت بڑھ جائے تو کسانوں کی اپنی تنظیم بھی کمزور ہو سکتی ہے۔ اس لیے:

کسان کی ملکیت + پیشہ ور انتظامیہ + شفاف آڈٹ = کامیابی کی ضمانت

ایف اے او بھی ڈیری تنظیموں کے لیے مضبوط نظم و نسق، مناسب قانونی فریم ورک اور سالانہ شفاف احتساب پر زور دیتا ہے۔

دوسرا خطرہ: حد سے زیادہ دفتری اخراجات

ایک تنظیم جتنی بڑی ہوتی جائے، اس کا انتظام اتنا ہی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اگر دفتری اخراجات، گاڑیاں، دفاتر، غیر ضروری عملہ اور انتظامی لاگت بڑھ جائے تو فارمر کا منافع سکڑ جاتا ہے۔ لہٰذا اصول یہ ہونا چاہیے:

دیہاتی سطح پر مختصر – علاقائی سطح پر فعال – قومی سطح پر مسابقتی

تیسرا خطرہ: صرف خام دودھ تک محدود رہنا

اگر تنظیم صرف دودھ اکٹھا کرے اور پراسیسنگ، برانڈنگ اور مصنوعات کی تیاری کسی اور کے ہاتھ میں ہو تو فارمر کو ویلیو چین کا اصل فائدہ نہیں ملے گا۔ معاشی منافع کا اصل راستہ یہ ہے:

خام دودھ – پراسیسنگ – برانڈنگ – پرچون فروخت – صارف

جتنا زیادہ قدر میں اضافہ کسان کی اپنی تنظیم کے اندر ہوگا، اتنا ہی زیادہ معاشی منافع واپس فارمر تک پہنچے گا۔

پاکستان کے چھوٹے فارمر کو صرف دودھ خریدنے والا ادارہ درکار نہیں بلکہ ایک مربوط نظام چاہیے جس میں منڈی، چارہ، علاج معالجہ، افزائشِ نسل، مالی معاونت، انشورنس، جدید ٹیکنالوجی اور پراسیسنگ سب شامل ہوں۔

پاکستانی چھوٹے ڈیری فارمرز کی اصل طاقت کم پیداواری لاگت اور گھریلو بنیادوں پر مویشی پالنا ہے، جبکہ کمزوری منڈی، سرمائے اور جدید سہولیات تک محدود رسائی ہے۔ پاکستان کے لیے بہترین راستہ کسی بیرونی ماڈل کی اندھی تقلید نہیں بلکہ ایک مقامی اور جدید ہائبرڈ ماڈل ہے۔ ایسا نظام جس میں فارمر مالک ہو، پیشہ ور عملہ انتظام سنبھالے، نجی شعبہ سرمایہ اور منڈی فراہم کرے، حکومت سہولت کاری کا کردار ادا کرے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پورے نظام کو شفاف رکھے۔ یہی وہ مضبوط بنیاد ہے جس پر پاکستان کا اپنا قومی ڈیری ماڈل تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں