
مصنفین: حسیب الرحمن¹، پروفیسر ڈاکٹر محمد شریف¹*، ڈاکٹر فواد احمد¹
ادارہ: انسٹیٹیوٹ آف اینیمل اینڈ ڈیری سائنسز، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، پاکستان
جدید پولٹری کی صنعت دنیا بھر کے زرعی شعبے میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ایک نہایت اہم اکائی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں مرغبانی کا شعبہ گھریلو سطح سے نکل کر ایک جدید اور منظم تجارتی صنعت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ شعبہ عوام الناس کو سستی، معیاری اور صحت بخش پروٹین فراہم کر کے قومی غذائی تحفظ میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ملکی معیشت میں پولٹری سیکٹر کا حصہ مجموعی قومی پیداوار میں لگ بھگ ڈیڑھ فیصد ہے اور یہ پندرہ لاکھ سے زائد افراد کو روزگار کے مواقع مہیا کرتا ہے، جبکہ ملک میں گوشت کی کل کھپت کا چالیس سے پینتالیس فیصد حصہ برائلر مرغی سے پورا ہوتا ہے۔ اس شاندار کامیابی کی بنیاد جدید برائلر چوزے کی وہ اعلیٰ جینیاتی صلاحیت ہے جو متوازن خوراک، ضروری حیاتین، معدنیات اور پروٹین کی بدولت محض چند ہفتوں میں مارکیٹ کے مطابق وزن حاصل کر لیتی ہے۔ تاہم، اس تیز رفتار پیداواری عمل اور گنجان فارمنگ کی وجہ سے پرندوں کو مختلف مسائل کا سامنا بھی رہتا ہے۔ اچانک وبائی امراض کا پھیلاؤ، جراثیمی حملے، خوراک میں زہریلے مادوں کی موجودگی اور موسمی تناؤ برائلر کے نظام انہضام کو شدید متاثر کرتے ہیں۔
اینٹی بائیوٹک گروتھ پروموٹیرز کا دور اور عالمی ممانعت
ماضی میں پولٹری فارمرز برائلر کی نشوونما کو تیز تر رکھنے اور آنتوں کے امراض سے بچاؤ کے لیے خوراک میں اینٹی بائیوٹک ادویات کا مسلسل اور قلیل مقدار میں استعمال کرتے تھے۔ یہ ادویات آنتوں کے اندر موجود نقصان دہ جراثیم کو دبا کر پرندے کی توانائی کو محفوظ رکھتی تھیں تاکہ وہ اپنی خوراک کو مکمل طور پر جسمانی وزن اور گوشت بنانے میں استعمال کر سکے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خوراک میں ان ادویات کے مسلسل استعمال نے ایک عالمی خطرے کی شکل اختیار کر لی۔ جراثیم کے اندر ان ادویات کے خلاف مدافعت پیدا ہو گئی، جس سے اینٹی بائیوٹکس بے اثر ہونے لگیں۔ مزید برآں، مرغی کے گوشت میں ان ادویات کے باقیات کے انسانی جسم میں داخل ہونے کی وجہ سے انسانی صحت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہونے لگے۔ اس خطرناک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر میں زرعی اور طبی اداروں نے جانوروں کی خوراک میں گروتھ پروموٹیرز کے طور پر اینٹی بائیوٹکس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس پابندی کے بعد پولٹری انڈسٹری کو پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے اور آنتوں کے امراض سے نمٹنے کے لیے قدرتی، محفوظ اور پائیدار غذائی اجزا کی اشد ضرورت پیش آئی۔
پرندے کی آنتوں کا نظام صحت اور پیداوار کا مرکز
پرندوں کی فزیالوجی میں آنتیں محض خوراک ہضم کرنے کی نالی نہیں بلکہ یہ پرندے کی صحت، مدافعت اور پیداواری کارکردگی کا اصل مرکز ہیں۔ چھوٹی آنت کی اندرونی سطح انگلیوں نما باریک ابھاروں سے ڈھکی ہوتی ہے جنہیں ولائی کہا جاتا ہے، اور ان کے نیچے نئی خلیاتی بنیادیں ہوتی ہیں جنہیں کرپٹس کہتے ہیں۔
- ولائی کی لمبائی: ولائی جتنی لمبی اور گھنی ہوگی، آنت کے اندر خوراک کو جذب کرنے کی سطح اتنی ہی زیادہ وسیع ہوگی، جس سے لحمیات، چکنائی اور معدنیات مکمل طور پر جسم کا حصہ بنتے ہیں۔
- کرپٹس کی گہرائی: اگر آنتیں صحت مند ہوں تو خلیات تیزی سے ضائع نہیں ہوتے، جس سے پرندے کی اضافی توانائی خلیات کی مرمت کے بجائے گوشت کی پیداوار پر خرچ ہوتی ہے۔
- مدافعتی بافتیں: آنتوں کی اندرونی تہ جسم کے سب سے بڑے مدافعتی حصے پر مشتمل ہوتی ہے جو نقصان دہ جراثیم کے خلاف پہلی حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ جب نقصان دہ بیکٹیریا جیسے سالمونیلا یا ای کولائی آنتوں پر حملہ آور ہوتے ہیں تو وہ ولائی کی ساخت کو توڑ پھوڑ دیتے ہیں، جس سے خوراک کا باقاعدہ ہضم ہونا رک جاتا ہے اور پرندہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ اس لیے جدید پولٹری غذائیت کا بنیادی مقصد آنتوں کی اس ساخت کو مضبوط بنانا ہے۔
آرگینک ایسڈ: نظام ہاضمہ کی قدرتی اصلاح
قدرتی آرگینک ایسڈ، جیسے فارمک ایسڈ، پروپیونک ایسڈ، سٹرک ایسڈ، لیکٹک ایسڈ اور بیوٹیرک ایسڈ، خوراک کے محفوظ ترین اضافے سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایسڈ دو بنیادی طریقوں سے کام کرتے ہیں:
- پی ایچ کی سطح میں کمی: یہ آنتوں کے بالائی حصے کی تیزابیت میں اضافہ کر کے اس کا پی ایچ کم کرتے ہیں۔ کم پی ایچ کی بدولت خوراک کو ہضم کرنے والے اینزائمز پوری طرح فعال ہو جاتے ہیں اور فاسفورس اور کیلشیم جیسے معدنیات باآسانی جذب ہو جاتے ہیں۔
- نقصان دہ جراثیم کا خاتمہ: غیر علیحدہ شدہ نامیاتی ایسڈ نقصان دہ جراثیم کی خلیاتی جھلی کے اندر داخل ہو کر ان کے اندرونی نظام کو درہم برہم کر دیتے ہیں، جس سے بیکٹیریا اپنی تمام توانائی خود کو بچانے میں خرچ کر کے ختم ہو جاتے ہیں۔
- مفید بیکٹیریا کی افزائش: مفید جراثیم، جیسے لیکٹو بیلس، تیزابی ماحول کو پسند کرتے ہیں اور اس ماحول میں تیزی سے پھلتے پھولتے ہیں، جس سے آنتوں کے اندر قدرتی توازن قائم رہتا ہے۔
بیوٹیرک ایسڈ اور مائیکروانکپسولیشن کی جدید ٹیکنالوجی
تمام آرگینک ایسڈ میں بیوٹیرک ایسڈ کو سب سے منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ شارٹ چین فیٹی ایسڈ آنتوں کے خلیات کی بنیادی اور پسندیدہ ترین توانائی ہے، جو نئے خلیات بننے، ولائی کی لمبائی بڑھانے اور آنتوں کی دیواروں کو جوڑ کر رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن عام بیوٹیرک ایسڈ کو براہ راست خوراک میں شامل کرنے میں دو بڑی رکاوٹیں حائل تھیں:
- اس کی تیز اور ناگوار بو خوراک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے، جس سے پرندے کی خوراک کھانے کی رغبت کم ہو جاتی ہے۔
- بغیر کسی حفاظتی تہہ کے یہ تیزاب پرندے کے پوٹے اور معدے کے اوپری حصے میں ہی جذب ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹی آنت کے درمیانی اور آخری حصوں تک اس کا کوئی اثر نہیں پہنچ پاتا، حالانکہ اصل ہاضمہ اور جراثیم کا مقابلہ اسی نچلے حصے میں ہوتا ہے۔
اس مسئلے کا حل جدید مائیکروانکپسولیشن ٹیکنالوجی کی صورت میں نکالا گیا۔ اس طریقہ کار کے تحت بیوٹیرک ایسڈ کو مخصوص نباتاتی چکنائی کی باریک تہوں میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ یہ حفاظتی تہہ معدے کے اوپری تیزابی ماحول میں گھلنے سے محفوظ رہتی ہے اور چھوٹی آنت کے مخصوص ماحول میں جا کر آہستہ آہستہ بیوٹیرک ایسڈ کو خارج کرتی ہے۔ یوں یہ اہم تیزاب براہ راست آنتوں کے متاثرہ اور نچلے حصوں تک پہنچ کر خلیات کو توانائی دیتا ہے اور آنتوں کی ساخت کو تقویت بخشتا ہے۔
مینن اولیگو سیکرائڈز: خمیر سے حاصل شدہ جراثیم کش جال
جہاں آرگینک ایسڈ اندرونی ساخت اور خلیات کو توانائی دیتے ہیں، وہیں پری بائیوٹکس ایک بیرونی محافظ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں مینن اولیگو سیکرائڈز ہیں، جو بیکری اور بریوری میں استعمال ہونے والے خمیر کی بیرونی دیوار سے حاصل کیے جانے والے پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس ہیں۔ پرندے کے قدرتی اینزائمز انہیں ہضم نہیں کر سکتے، لہٰذا یہ بغیر ٹوٹے آنتوں میں پہنچ کر تین بڑے کام سرانجام دیتے ہیں:
جراثیم کو پکڑنے کا جال: سالمونیلا اور ای کولائی جیسے نقصان دہ جراثیم کے جسم پر باریک ریشے ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ آنتوں کی دیوار کے شوگر مالیکیولز کے ساتھ چپک جاتے ہیں اور بیماری پھیلاتے ہیں۔ مینن اولیگو سیکرائڈز ان جراثیم کے لیے دھوکے کا جال بن جاتے ہیں۔ بیکٹیریا آنت کی دیوار کے بجائے ان تیرتے ہوئے ذرات کے ساتھ چپک جاتے ہیں اور پرندے کے فضلے کے راستے جسم سے بحفاظت باہر خارج ہو جاتے ہیں۔
قوت مدافعت کی بیداری: یہ ذرات آنتوں کے مدافعتی نظام کے خلیات کو چوکنا رکھتے ہیں، جس سے خون میں اینٹی باڈیز کی سطح بلند ہوتی ہے اور پرندہ بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت پیدا کر لیتا ہے۔
حفاظتی رطوبت کا اخراج: یہ آنتوں میں میوکس کی حفاظتی تہہ کو بڑھاتے ہیں، جو زہریلے مادوں کو آنت کے اندرونی ٹشوز میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔
دوہرا مدافعتی نظام: محفوظ اور منافع بخش پولٹری کی ضمانت
جدید پولٹری غذائیت میں جب مینن اولیگو سیکرائڈز اور مائیکروانکپسولیٹڈ بیوٹیرک ایسڈ کو بیک وقت استعمال کیا جائے تو یہ ایک طاقتور دوہرا دفاعی نظام تشکیل دیتے ہیں:
پہلی ڈھال: مینن اولیگو سیکرائڈز آنتوں کے اندر گھومنے والے مضر جراثیم کو اپنے ساتھ باندھ کر باہر نکالتے ہیں اور بیماری کے امکانات کو ختم کرتے ہیں۔
دوسری ڈھال: محفوظ شدہ بیوٹیرک ایسڈ آنتوں کے خلیات کو خوراک فراہم کر کے ولائی کو لمبا کرتا ہے، دیواروں کے جوڑوں کو مضبوط بناتا ہے اور سوزش کو ختم کرتا ہے۔
ان دونوں قدرتی اجزا کے باہمی ملاپ سے پرندے کا نظام ہاضمہ محفوظ رہتا ہے، خوراک کا ایک ایک دانہ بہتر طور پر گوشت میں تبدیل ہوتا ہے اور پرندے کی بیماریوں کے خلاف قدرتی قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔ اس قدرتی حکمت عملی کو اپنا کر پولٹری فارمرز نقصان دہ اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کے بغیر نہ صرف بہترین پیداواری نتائج حاصل کر سکتے ہیں، بلکہ صارفین تک ادویات کے مضر اثرات سے پاک، معیاری اور صحت بخش مرغی کا گوشت پہنچانے میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
جدید سائنسی تحقیقات اور تجربات اس امر کو واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ پولٹری کی خوراک میں مینن اولیگوسیکرائڈز اور مائیکروانکپسولیٹڈ بیوٹیرک ایسڈ کا بیک وقت استعمال ایک انقلابی غذائی حکمت عملی ہے۔ یہ مشترکہ امتزاج نہ صرف نقصان دہ اینٹی بائیوٹکس کا ایک محفوظ اور قدرتی متبادل بن کر سامنے آتا ہے، بلکہ پرندے کے نظام انہضام، غذائی اجزا کے جذب ہونے کی صلاحیت، قدرتی قوت مدافعت اور گوشت کے معیاری تناسب کو بیک وقت جلا بخشتا ہے۔ مائیکروانکپسولیشن کی جدید ٹیکنالوجی بیوٹیرک ایسڈ کو بروقت اور براہ راست چھوٹی آنت تک پہنچا کر آنتوں کے خلیات کو نئی توانائی دیتی ہے، جبکہ خمیر سے حاصل شدہ پری بائیوٹکس مضر جراثیم کو جکڑ کر نظام ہاضمہ سے محفوظ طریقے سے بے دخل کر دیتے ہیں۔ یہ دوہرا دفاعی نظام جہاں برائلر کی نشوونما کو بلا تعطل جاری رکھتا ہے، وہیں پولٹری فارمرز کے منافع کو یقینی بنا کر خوراک کو ادویات کے زہریلے باقیات سے پاک بناتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ملکی پولٹری انڈسٹری روایتی اینٹی بائیوٹکس پر انحصار ختم کر کے ایسے پائیدار اور قدرتی غذائی فارمولوں کو اپنائے، تاکہ نہ صرف محفوظ پولٹری فارمنگ کو فروغ ملے بلکہ انسانی صحت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت بھی مستحکم بنیادوں پر استوار ہو سکے۔