زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پہلو میں ڈسٹرکٹ جیل اور جیمرز کا مسئلہ

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد یا جیل؟ جیمرز سے متاثرہ طلبہ اور جیل منتقلی کا مطالبہ

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پہلو میں ڈسٹرکٹ جیل، موبائل جیمرز اور ہزاروں طلبہ کا علمی دنیا سے کٹ جانے کا سنگین المیہ

فیصل آباد (خصوصی تجزیہ) — فیصل آباد کی شناخت اگر ٹیکسٹائل اور صنعت سے ہے تو اس کی علمی شناخت کا سب سے معتبر حوالہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد (UAF) ہے۔ وسیع و عریض رقبے پر قائم یہ ادارہ ملک کی نمایاں ترین زرعی جامعات میں شمار ہوتا ہے، جہاں زراعت، لائیوسٹاک، فوڈ سائنسز، بائیوٹیکنالوجی اور زرعی انجینئرنگ جیسے اہم شعبوں میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم اور سینکڑوں اساتذہ جدید تحقیق سے وابستہ ہیں۔

مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک بنیادی اور چبھتا ہوا سوال اپنی جگہ قائم ہے: ایک بین الاقوامی معیار کی اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی یونیورسٹی کے عین پہلو میں ڈسٹرکٹ جیل کا کیا کام؟

سکیورٹی جیمرز اور کٹتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا

یہ معاملہ صرف ایک عمارت یا چاردیواری کے پڑوس تک محدود نہیں رہا۔ اصل بحران اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جیل کی سکیورٹی کے لیے نصب ہائی پاور موبائل سگنل جیمرز کے اثرات یونیورسٹی کے مین کیمپس، تدریسی شعبہ جات، ہاسٹلز اور گردونواح پر پڑتے ہیں۔ طلبہ اور اساتذہ طویل عرصے سے یہ شکایت کر رہے ہیں کہ کیمپس کے ایک بڑے حصے میں موبائل نیٹ ورک غائب رہتا ہے اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی شدید متاثر ہوتی ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں تحقیق کی دنیا آن لائن ہو چکی ہے، طلبہ کا سگنلز کی تلاش میں بھٹکنا محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے سائنسی اور تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھلا سمجھوتہ ہے۔

"آج کی یونیورسٹی صرف چاردیواری اور بلیک بورڈ کا نام نہیں؛ طالب علم کی اصل لائبریری اس کا لیپ ٹاپ اور سمارٹ فون ہے، جس کا راستہ جیمرز کی نذر ہو رہا ہے۔”

جدید تعلیم اور ریسرچ پر براہِ راست وار

عالمی ریسرچ جرائد، سائنسی ڈیٹا بیس، آن لائن لائبریریاں، ویڈیو لیکچرز، ڈیٹا اینالیسز سافٹ ویئر، وبینارز اور دنیا بھر کے محققین سے لائیو رابطہ جدید اعلیٰ تعلیم کی بنیادی روح ہیں۔ ایک استاد طالب علم کو سمت دکھا سکتا ہے، مگر تازہ ترین عالمی ڈیٹا انٹرنیٹ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر ملک کی سب سے بڑی زرعی یونیورسٹی کے محققین محض اس لیے عالمی سائنسی دنیا سے کٹے رہیں کہ بغل میں جیل قائم ہے، تو اس پر اربابِ اختیار کی خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔

شہری منصوبہ بندی پر نظرثانی کی فوری ضرورت

یونیورسٹی اور ڈسٹرکٹ جیل دہائیوں سے ایک دوسرے کے پڑوس میں ہیں۔ مگر کیا شہر کے بے پناہ پھیلاؤ، طلبہ کی تعداد میں اضافے اور تعلیمی تقاضوں کے بدلنے کے بعد بھی اس فرسودہ بندوبست پر نظرثانی نہیں ہونی چاہیے؟

حکومتِ پنجاب، محکمہ داخلہ، جیل خانہ جات اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اسے محض نیٹ ورک کی خرابی سمجھنے کے بجائے ایک مستقل اربن اور ایجوکیشنل ایشو تسلیم کریں۔ ڈسٹرکٹ جیل کو شہر کے گنجان تعلیمی و شہری زون سے باہر کسی محفوظ اور موزوں مقام پر منتقل کیا جانا چاہیے جہاں جیل سکیورٹی اور عام شہریوں و طلبہ کی آزاد زندگی دونوں میں توازن قائم رہ سکے۔

جیل کی اراضی: کنکریٹ کے بجائے ‘ایگری ٹورازم پارک’ کا ویژن

ڈسٹرکٹ جیل کی منتقلی کے بعد اس کی تاریخی اراضی کو زرعی یونیورسٹی کے حوالے کرنا فیصل آباد کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس قیمتی رقبے کو مزید بے ہنگم عمارتوں اور کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کرنے کے بجائے ایک انقلابی منصوبے کی ضرورت ہے:

  • Agri-Tourism Museum & Learning Park: ایک سرسبز و شاداب علمی مقام جہاں پاکستان کی زرعی تاریخ سے لے کر جدید سائنسی انقلاب تک کا سفر دکھایا جائے۔
  • عملی سائنسی نمائش: روایتی اوزار، آبپاشی کا ارتقا، بیج، جدید فارمنگ، پولٹری، ڈیری اور پریزین ایگریکلچر (Precision Agriculture) کے لائیو ڈیمو ماڈلز۔
  • پبلک ایجوکیشن حب: ایک کھلا گرین ایریا جہاں سکولوں کے بچے، کسان، فیملیز اور ملکی و غیر ملکی سیاح زراعت اور ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) کو عملاً دیکھ اور سمجھ سکیں۔

فیصلے کا وقت

ڈسٹرکٹ جیل کی شہر سے باہر منتقلی محض ایک جیل کو شفٹ کرنا نہیں ہوگا، بلکہ یہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ہزاروں طلبہ کو آزادانہ علمی فضا فراہم کرنے اور فیصل آباد کے قلب میں تعلیم، تحقیق اور عوامی شعور کا ایک نیا باب کھولنے کا نادر موقع ہے۔

اب فیصلہ حکومتِ پنجاب کو کرنا ہے: کیا ہم دہائیوں پرانے فرسودہ انتظامات کے اسیر رہیں گے، یا زرعی ترقی اور نوجوان محققین کے مستقبل کو ترجیح دیں گے؟

جواب دیں