
پاکستان کا لائیو اسٹاک سیکٹر ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں جانوروں کی بیماریوں کا معاملہ صرف ویٹرنری شعبے تک محدود نہیں رہا۔ اس کا براہ راست تعلق قومی غذائی تحفظ، کسان کی آمدن، دودھ اور گوشت کی پیداوار، برآمدات اور مجموعی دیہی معیشت سے ہے۔
اس کے باوجود اہم مویشی بیماریوں کے خلاف مطلوبہ مقدار میں معیاری ویکسین کی مسلسل دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔
مختلف حلقوں میں پاکستان کی سالانہ ویٹرنری ویکسین ضرورت کے لیے تقریباً 300 ملین خوراکوں کا تخمینہ زیر بحث آتا ہے۔ تاہم اس عدد کو حتمی قومی ضرورت قرار دینے سے پہلے بیماری، جانوروں کی آبادی، صوبے، ویکسین کی قسم، خوراکوں کے شیڈول اور خطرے کی سطح کی بنیاد پر سرکاری اور سائنسی تخمینہ ضروری ہے۔
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ملک کو 300 ملین خوراکیں درکار ہیں یا اس سے کم یا زیادہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی حقیقی سالانہ ضرورت کا مستند تعین کب کرے گا اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے طویل المدتی پیداواری منصوبہ کب بنائے گا۔
درآمد پر انحصار مستقل حل نہیں
ضرورت کے وقت ویکسین درآمد کرنا ناگزیر ہوسکتا ہے، لیکن ہر سال قلت پیدا ہونے کے بعد درآمدی انتظامات پر انحصار کسی پائیدار قومی حکمت عملی کا متبادل نہیں۔
پاکستان کو ایک جامع National Veterinary Vaccine Roadmap تیار کرنے کی ضرورت ہے جس کا مقصد مقامی ضروریات کا درست تخمینہ، ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، معیاری درآمدات کا متوازن استعمال اور بیماریوں کے کنٹرول پروگراموں کے ساتھ ویکسین سپلائی کو مربوط کرنا ہو۔
مقامی پیداوار بڑھانے کا مطلب یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ معیار یا ریگولیٹری تقاضوں میں نرمی کی جائے۔ ویکسین ایسا شعبہ ہے جہاں معیار، افادیت، حفاظت، بائیو سکیورٹی، کوالٹی کنٹرول اور مناسب ریگولیٹری نگرانی بنیادی شرائط ہیں۔
حکومت منصوبہ دے، اہل نجی شعبہ پیداوار بڑھائے
وفاقی حکومت کو صوبوں، متعلقہ ریگولیٹری اداروں، تحقیقی مراکز اور صنعت کے ساتھ مل کر یہ تعین کرنا چاہیے کہ ملک میں کون سی ویکسین کتنی مقدار میں درکار ہے اور مقامی سطح پر ان میں سے کتنی تیار کی جاسکتی ہے۔
اہل اور مستند نجی اداروں کو متعلقہ قوانین، DRAP کی ضروریات، GMP، کوالٹی کنٹرول اور دیگر قابل اطلاق معیارات کے تحت مقامی ویکسین تیاری اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
ہر منصوبے کے لیے بیماری کے لحاظ سے واضح پیداواری ہدف مقرر ہونا چاہیے۔
FMD، PPR، HS، LSD اور دیگر ترجیحی بیماریوں کے لیے ضرورت کا تعین بیماری کی موجودگی، جانوروں کی آبادی، ویکسینیشن شیڈول اور قومی و صوبائی کنٹرول حکمت عملی کی بنیاد پر کیا جائے۔
یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کون سا ادارہ کتنی مقدار میں معیاری ویکسین تیار کرسکتا ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور وقت کی کتنی ضرورت ہوگی۔
صوبائی تحقیقاتی اداروں کو مرکزی کردار دیا جائے
پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے متعلقہ Veterinary Research Institutes اور Animal Research Institutes کو قومی ویکسین منصوبہ بندی سے الگ نہیں رکھا جاسکتا۔
ان اداروں کے پاس مقامی بیماریوں کے سرویلنس، تشخیص، تحقیق، مقامی جراثیمی مواد، بیماریوں کے رجحانات اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی صورت میں اہم صلاحیت موجود ہے۔
ان اداروں کی تحقیق کو ویکسین ریسرچ، مقامی سٹرینز کی سائنسی جانچ، ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ، کوالٹی کنٹرول اور صنعت کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر سے جوڑنا چاہیے۔
ایک قابل عمل ماڈل یہ ہوسکتا ہے کہ سرکاری ادارے بنیادی اور اطلاقی تحقیق کریں، جامعات سائنسی معاونت اور تربیت فراہم کریں، اہل صنعت بڑے پیمانے پر پیداوار کرے اور حکومت پالیسی، نگرانی اور ریگولیٹری سہولت فراہم کرے۔
ویکسین کی دستیابی بیماری کنٹرول سے براہ راست جڑی ہے
صرف ویکسینیشن مہم کے اعلان سے بیماری قابو میں نہیں آتی۔
اگر مطلوبہ ویکسین مناسب مقدار، درست وقت اور مناسب علاقوں میں دستیاب نہ ہو تو قومی یا صوبائی ویکسینیشن مہم اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکتی۔
اسی لیے بیماریوں کے کنٹرول کی منصوبہ بندی میں سرویلنس، تشخیص، ویکسین کی ضرورت، خریداری یا پیداوار، کولڈ چین، فیلڈ ویکسینیشن، کسان آگاہی اور نتائج کی مانیٹرنگ کو ایک ہی نظام کا حصہ بنانا ہوگا۔
یہ مربوط طریقہ خصوصاً منہ کھر، PPR اور دیگر اہم متعدی بیماریوں کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
300 ملین خوراکوں کو ایک Planning Benchmark سمجھا جائے
تقریباً 300 ملین خوراکوں کے تخمینے کو اس وقت تک حتمی سرکاری عدد کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے جب تک وفاقی اور صوبائی ادارے بیماری اور جانوروں کی اقسام کے لحاظ سے مشترکہ قومی تخمینہ جاری نہ کریں۔
ہر جانور کو ہر ویکسین ہر سال درکار نہیں ہوتی۔ مختلف بیماریوں، علاقوں اور ویکسینز کے لیے خوراکوں اور ویکسینیشن کی تعداد مختلف ہوسکتی ہے۔
اس لیے پہلا قومی ہدف کسی ایک عدد کا اعلان نہیں بلکہ مستند Vaccine Demand Assessment ہونا چاہیے۔
یہ جائزہ واضح کرے کہ پاکستان کو سالانہ کس بیماری کے خلاف کتنی خوراکیں درکار ہیں، کتنی مقامی طور پر دستیاب ہیں، کتنی درآمد ہوتی ہیں اور اصل کمی کتنی ہے۔
پہلے 90 دن میں قومی ضرورت کا تعین
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا Livestock Wing صوبائی لائیو اسٹاک محکموں، متعلقہ وفاقی اداروں، National Veterinary Laboratory، DRAP، تحقیقی اداروں، جامعات اور صنعت کے نمائندوں کے ساتھ ایک قومی تکنیکی گروپ تشکیل دے سکتا ہے۔
اس گروپ کا پہلا کام گزشتہ بیماریوں کے ڈیٹا، جانوروں کی آبادی، ویکسینیشن شیڈول، موجودہ سرکاری و نجی پیداوار، درآمدی اعداد و شمار اور دستیاب پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر بیماری کے لحاظ سے سالانہ قومی ضرورت کا تخمینہ تیار کرنا ہونا چاہیے۔
اسی مدت میں موجودہ مقامی ویکسین مینوفیکچرنگ صلاحیت کی فہرست بھی تیار کی جائے۔
تین سے چھ ماہ میں قومی روڈمیپ
ابتدائی جائزے کے بعد تین سے چھ ماہ کے اندر National Veterinary Vaccine Roadmap تیار کیا جاسکتا ہے۔
اس میں ہر ترجیحی بیماری کے لیے سالانہ ضرورت، مقامی پیداواری صلاحیت، ممکنہ کمی، درآمدی ضرورت، مطلوبہ نئی سرمایہ کاری، تحقیق، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور خریداری کے طریقہ کار کی وضاحت ہونی چاہیے۔
وفاقی حکومت پالیسی اور قومی رابطہ فراہم کرے۔
صوبے بیماریوں کے سرویلنس، فیلڈ ضرورت، ویکسینیشن اور نتائج کی رپورٹنگ کی ذمہ داری سنبھالیں۔
DRAP قابل اطلاق قوانین اور معیار کے مطابق رجسٹریشن، لائسنسنگ اور ریگولیٹری نگرانی کے عمل کو شفاف اور بروقت رکھے۔
تحقیقی ادارے اور جامعات تحقیق، تشخیص، سٹرین اسٹڈی، تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کریں۔
نجی صنعت معیاری اور منظور شدہ پیداواری صلاحیت بڑھانے پر کام کرے۔
چھ سے اٹھارہ ماہ میں پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے
اس مرحلے میں موجود اہل پیداواری یونٹس کی توسیع، مطلوبہ نئی سہولیات، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، تربیت، کوالٹی کنٹرول اور سپلائی چین پر عملی کام شروع ہونا چاہیے۔
حکومت طویل المدتی اور شفاف خریداری کے فریم ورک کے ذریعے صنعت کو مارکیٹ کی پیشگی سمت دے سکتی ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری محض اندازوں کے بجائے واضح قومی ضرورت سے منسلک ہو۔
معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
تیز رفتار ریگولیٹری عمل کا مطلب معیار میں نرمی نہیں بلکہ غیر ضروری انتظامی تاخیر کو کم کرتے ہوئے سائنسی اور شفاف فیصلہ سازی ہونا چاہیے۔
اٹھارہ سے چھتیس ماہ میں خودکفالت کی طرف پیش رفت
قومی منصوبے کے تیسرے مرحلے میں مقامی پیداوار کے تناسب، ویکسین کی دستیابی، بیماریوں کے رجحانات اور ویکسینیشن نتائج کا سالانہ جائزہ لیا جائے۔
ہر سال یہ دیکھا جائے کہ ملک کی مجموعی ضرورت کا کتنا حصہ مقامی پیداوار سے پورا ہوا، کن بیماریوں میں قلت برقرار رہی، کون سی نئی پیداواری صلاحیت شامل ہوئی اور کن علاقوں میں بیماریوں کے کنٹرول کے نتائج بہتر ہوئے۔
خودکفالت کا مطلب لازماً ہر ویکسین کی سو فیصد مقامی تیاری نہیں۔ قومی مفاد یہ ہے کہ ترجیحی بیماریوں کے لیے ضروری اور اسٹریٹجک ویکسینز کی قابل اعتماد مقامی صلاحیت موجود ہو اور باقی ضرورت کے لیے محفوظ اور متنوع سپلائی ذرائع دستیاب ہوں۔
سرمایہ کاری کے ساتھ جوابدہی بھی ضروری
سرکاری تعاون یا خریداری حاصل کرنے والے اداروں کے لیے واضح کارکردگی کے اشاریے مقرر کیے جانے چاہئیں۔
پیداوار کی مقدار، معیار، بروقت سپلائی، بیچ ٹیسٹنگ، کولڈ چین، فیلڈ کارکردگی اور شکایات کے نظام کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے۔
اسی طرح سرکاری تحقیقی اداروں کو دیے جانے والے اہداف بھی تحقیق کے کاغذی نتائج تک محدود نہ ہوں بلکہ ان کا تعلق تشخیص، مقامی بیماریوں کی سمجھ، ویکسین ڈویلپمنٹ اور عملی ٹیکنالوجی ٹرانسفر سے ہونا چاہیے۔
درآمد سے مرحلہ وار مقامی صلاحیت کی طرف
پاکستان کو فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے معیاری ویکسین درآمد کرنے کا راستہ کھلا رکھنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ایسے نجی اور سرکاری اداروں کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے جو ملک میں پائیدار پیداواری صلاحیت قائم کرسکیں۔
بین الاقوامی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مشترکہ تحقیق اور تکنیکی شراکت داری کو بھی قومی حکمت عملی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
مقصد درآمد کو یک دم ختم کرنا نہیں بلکہ اہم ویکسینز میں خطرناک حد تک بیرونی انحصار کو بتدریج کم کرنا ہونا چاہیے۔
فیصلہ اب منصوبہ بندی کا ہونا چاہیے
پاکستان کے لیے اصل کامیابی کسی ایک بڑے عدد کا اعلان نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جو ہر سال ملک کی حقیقی ویکسین ضرورت کا تعین کرے، اس کے مقابلے میں دستیاب پیداوار کا جائزہ لے اور واضح کرے کہ کمی کیسے پوری کی جائے گی۔
اگر تقریباً 300 ملین خوراکوں کا موجودہ تخمینہ مستقبل کے سائنسی جائزے کے قریب ثابت ہوتا ہے تو یہ حجم خود اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ پاکستان کو مقامی ویکسین صنعت، تحقیق اور بیماری کنٹرول میں بڑی اور مسلسل سرمایہ کاری درکار ہے۔
بیماریوں سے پاک اور زیادہ پیداواری مویشی کسان کی آمدن، محفوظ خوراک، برآمدی مواقع اور قومی فوڈ سیکیورٹی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اب ضرورت بحث سے آگے بڑھ کر قومی Demand Assessment، واضح Vaccine Roadmap اور قابل پیمائش سالانہ اہداف کی ہے۔
مزید تاخیر کے بجائے پاکستان کو تحقیق، ریگولیشن، صنعت اور فیلڈ بیماری کنٹرول کو ایک مربوط قومی نظام میں لانا ہوگا۔