مٹی کی صحت، موسمیاتی تبدیلی اور سبز کھاد کا استعمال

مٹی کی صحت، موسمیاتی تبدیلی اور سبز کھاد کے فوائد

راحیلہ ناز سینیئر سائنٹسٹ

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خصوصاً اس وقت کے بعد جب ایسی جدید اقسام متعارف کروائی گئیں جو کھاد کے استعمال پر بہتر ردعمل دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں روایتی زرعی نظام کے تحت کیمیائی کھادوں کا استعمال بہت بڑھ گیا۔ تاہم، پیداوار میں یہ اضافہ زمین کی صحت میں بگاڑ اور ماحولیاتی توازن میں خلل کی قیمت پر حاصل کیا گیا ہے۔ دنیا کے خشک علاقے، جو زمین کی سطح کا تقریباً 30 فیصد ہیں اور جہاں دو ارب سے زائد انسان آباد ہیں، شدید زرعی دباؤ، ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی اور محدود وسائل کے باعث زمین کی زرخیزی اور زرعی پیداوار کو برقرار رکھنے کے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔

زراعت میں زمین کا کردار انتہائی بنیادی اور اہم ہے۔ زمین ایک قدرتی اور پیچیدہ ماحولیاتی نظام ہے جس میں زندہ جراثیم، پودوں کی جڑیں، نامیاتی مادہ اور معدنی ذرات مل کر ایک متحرک ساخت بناتے ہیں جو پانی، ہوا اور غذائی اجزاء کی ترسیل کو کنٹرول کرتی ہے۔ کامیاب، منافع بخش اور ماحول دوست زراعت کی بنیاد زرخیز مٹی ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے زمین کی زرخیزی ایک بنیادی عنصر ہے، جس کے لیے مختلف زرعی، فنی اور سائنسی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ یہ طریقے قدرتی زمینی وسائل کے تحفظ اور درست انتظام کے ذریعے زرعی پیداوار کے معیار اور مقدار دونوں میں بہتری لاتے ہیں۔ سبز انقلاب کے بعد روایتی زرعی طریقوں نے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے خوراک کی پیداوار میں نمایاں اضافہ تو کیا، تاہم اس کے ساتھ کھاد، زرعی ادویات اور آبپاشی کے لیے کیمیائی مادوں پر انحصار بھی بڑھتا چلا گیا۔ اس کے نتیجے میں پانی کی آلودگی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور زیرِ زمین حیاتیاتی تنوع میں کمی جیسے ماحولیاتی مسائل پیدا ہوئے۔

حالیہ برسوں میں ان منفی اثرات کو کم کرنے اور زرعی نظام کو پائیدار بنانے کے لیے نامیاتی اور حفاظتی زرعی طریقے، جیسے بغیر ہل چلائے کاشت اور فصلوں کا ہیر پھیر تیزی سے اپنائے جا رہے ہیں۔ چونکہ نامیاتی زرعی نظام کم خرچ ہوتے ہیں اور قدرتی غذائی چکر، سبز کھاد اور بیماریوں کے حیاتیاتی کنٹرول پر انحصار کرتے ہوئے پودوں کی پیداوار اور ماحولیاتی نظام کی کارکردگی بہتر بناتے ہیں، اس لیے اس نظام کی وجہ سے کیمیائی کھادوں کی افادیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ نظام زمین کی خصوصیات کو بہتر بنانے، حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو کم کرنے اور انسانی صحت و فلاح میں بہتری کا موثر ذریعہ ہے۔

مخلوط کاشت اور ہماری زمین

مخلوط کاشت ایک قدیم زرعی طریقہ ہے جس میں ایک ہی وقت اور ایک ہی زمین پر دو یا زیادہ فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ اس میں سب سے عام امتزاج پھلی دار اور اناج والی فصلوں کا ہوتا ہے۔ اس طریقے کا بنیادی مقصد وسائل کا موثر استعمال اور زرعی ماحولیاتی نظام کو مستحکم بنانا ہے۔ پھلی دار فصلیں زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں اور کھیت میں جڑی بوٹیوں کی افزائش کو کم کرتی ہیں۔ یہ ایک کم خرچ طریقہ ہے جو مٹی میں نائٹروجن کی مقدار بڑھاتا ہے اور کیمیائی نائٹروجن کی ضرورت کم کرتا ہے، کیونکہ پھلی دار فصلیں بائیولوجیکل نائٹروجن فکسیشن کے ذریعے ہوا سے نائٹروجن حاصل کر کے زمین میں بحال کرتی ہیں۔

فصلوں کا ہیر پھیر اور زمین کی زرخیزی

فصلوں کی گردش ایک موثر زرعی حکمت عملی ہے جس میں مختلف فصلیں ترتیب وار کاشت کی جاتی ہیں تاکہ مجموعی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔ اس طریقے میں پھلی دار فصلوں کی شمولیت کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ بائیولوجیکل نائٹروجن فکسیشن، غذائی اجزاء کی ری سائیکلنگ اور مٹی میں کاربن و نائٹروجن کے ذخیرے میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس سے زمین میں نامیاتی کاربن بڑھتا ہے، زرعی جرثوموں میں اضافہ ہوتا ہے اور مٹی کی صحت برقرار رہتی ہے۔ پھلی دار فصلوں کو کسی بھی کاشتکاری نظام میں شامل کیا جا سکتا ہے اور یہ پائیدار زمینی ترقی کے لیے نہایت مفید ہیں۔

نامیاتی کھادیں

نامیاتی کھادیں قدرتی ذرائع سے حاصل ہوتی ہیں اور مٹی میں نامیاتی مادہ بڑھا کر پائیدار زرعی پیداوار کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ کھادیں زمین میں پانی روکنے کی صلاحیت بڑھاتی ہیں اور بھاری مٹی میں نکاسیِ آب کو بہتر بناتی ہیں۔ ان میں موجود نامیاتی تیزاب مٹی کے غیر حل شدہ غذائی اجزاء کو حل پذیر بنا کر پودوں کے لیے دستیاب کرتے ہیں۔ ان میں گوبر کی کھاد، سبز کھاد، کمپوسٹ، ورمی کمپوسٹ اور فصلوں کی باقیات شامل ہیں۔

گوشوارہ 1: جانوروں کی کھاد میں غذائی اجزاء کی مقدار خشک وزن کے فیصد میں

موادنائٹروجن فیصدفاسفورس فیصدپوٹاشیم فیصد
مویشیوں کی کھاد2.651.092.84
بھینس کی کھاد2.661.092.85
بکری کی کھاد3.941.353.38
بھیڑ کی کھاد4.041.283.47
مرغیوں کی کھاد3.201.830.83
اونٹ، گھوڑے اور خچر کی کھاد1.720.571.80

1 گوبر کی کھاد

گوبر کی کھاد بنیادی طور پر گائے و بھینس کے گوبر، پیشاب، بھوسے اور دیگر ڈیری فضلے سے تیار کی جاتی ہے اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے۔ گوبر اور پیشاب کے ملاپ سے پودوں کو متوازن غذائیت فراہم ہوتی ہے۔ اس سے حاصل ہونے والے عناصرِ کبیرہ کیمیائی کھادوں کے برابر مؤثر ہوتے ہیں۔ گوبر کی کھاد کا استعمال زمین کی زرخیزی میں نمایاں بہتری لاتا ہے اور مٹی کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔

2 سبز کھادیں

کئی ممالک میں کیمیائی کھادوں کے زیادہ استعمال سے غذائی خود کفالت تو حاصل ہو گئی، مگر نامیاتی کھادوں، خصوصاً سبز کھاد کا استعمال کم ہو گیا۔ چونکہ کیمیائی کھادیں مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، اس لیے زمین کی پائیدار پیداوار ایک اہم سوال بن چکی ہے۔ ایسے میں سبز کھاد ایک کم لاگت اور مؤثر ذریعہ ہے جو کھاد کے اخراجات کم کرنے اور پیداوار کو محفوظ بنانے میں مدد دیتی ہے۔ شعبہ سوائل کیمسٹری کے تجرباتی رقبے میں سبز کھاد کے استعمال سے پہلے نامیاتی مادہ 0.59 فیصد تھا، جبکہ سبز کھاد کے استعمال کے بعد یہ بڑھ کر 1.12 فیصد ہو گیا۔

گوشوارہ 2: سبز کھادوں کی اقسام اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ

فصلسبز کھاد والی فصلپیداوار میں اضافہ
گندمسن ہیمپ31 فیصد
گندمجنتر یا ڈھانچہ23 فیصد
مکئیسن ہیمپ26 فیصد
چاولسن ہیمپ58 فیصد
گناجنتر یا ڈھانچہ12 فیصد
گندمبرسیم10 تا 25 فیصد
مکئیبرسیم15 تا 30 فیصد
چاولبرسیم10 تا 20 فیصد
گنابرسیم15 تا 25 فیصد

گوشوارہ 3: سبز کھاد والی مختلف فصلیں اور مٹی کی صحت پر ان کے اثرات

سبز کھاد والی فصلزمین کی طبعی، کیمیائی اور حیاتیاتی خصوصیات پر اثرات
مونگفائدے مند جراثیم کی تعداد میں اضافہ
مٹرخوردبینی جرثوموں میں اضافہ، ای سی، پی ایچ، نامیاتی مادہ اور بنیادی عناصر میں بہتری
جنتر یا ڈھانچہمٹی کی کثافت میں کمی اور زنک، سلفر، کاربن، نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم اور بوران میں بہتری
برسیممائیکروبیل سرگرمی میں اضافہ اور ای سی، پی ایچ، نامیاتی مادہ، فاسفورس اور پوٹاشیم کی دستیابی میں بہتری

شعبہ سوائل کیمسٹری میں سبز کھاد پر جدید زرعی تحقیقاتی کام جاری ہے اور اس کے بہترین استعمال سے ہماری زمین اور فصلوں کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

3 فصلوں کی باقیات

فصلوں کی کٹائی کے بعد کھیت میں باقی رہ جانے والے حصے، جیسے پتے، بھوسہ، ڈنڈھل اور تنکے وغیرہ فصلوں کی باقیات کہلاتے ہیں۔ یہ باقیات گندم، جوار، چاول، سویا بین، کپاس اور گنے جیسی فصلوں سے وافر مقدار میں حاصل ہوتی ہیں اور بڑی مقدار میں نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم فراہم کر سکتی ہیں۔ تاہم انہیں بطور کھاد استعمال کرنے سے پہلے زمین میں روٹاویٹر چلا کر اچھی طرح ملا دینا یا ان سے کمپوسٹ بنانا ضروری ہے۔

4 کمپوسٹ

کمپوسٹ نامیاتی مادے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ مٹی میں نامیاتی مادہ زرخیزی برقرار رکھنے اور پائیدار زرعی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمپوسٹ نہ صرف غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے بلکہ مٹی کی طبعی، کیمیائی اور حیاتیاتی خصوصیات بھی بہتر بناتی ہے۔ کمپوسٹ بننے کے دوران پیدا ہونے والی حرارت بیماریوں کے جراثیم اور جڑی بوٹیوں کے بیج ختم کر دیتی ہے، جس سے آلودگی کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کمپوسٹ کو زمین کے لیے بہترین سوائل کنڈیشنر سمجھا جاتا ہے۔

5 ورمی کمپوسٹ

ورمی کمپوسٹ ایک نامیاتی و حیاتیاتی کھاد ہے جو کیچوؤں کے ذریعے نامیاتی فضلے اور پودوں کی باقیات سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ بے بو، صاف اور نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسے غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے۔ زراعت میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ ماحول دوست، غیر زہریلی اور کم توانائی میں تیار ہونے والی کھاد ہے۔

ملچنگ

ملچنگ سے مراد زمین کی سطح کو لکڑی کے برادے، بھوسے، پتوں یا کمپوسٹ کی تہہ سے ڈھانپنا ہے۔ یہ مادے گلنے سڑنے کے بعد نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم فراہم کرتے ہیں اور مٹی میں نامیاتی مادہ بڑھاتے ہیں۔ ملچنگ سے نمی محفوظ رہتی ہے، جڑی بوٹیاں دب جاتی ہیں، زمین کا درجہ حرارت متوازن رہتا ہے، مٹی کا کٹاؤ کم ہوتا ہے اور مجموعی طور پر زمین کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ پودوں کی باقیات کے علاوہ مصنوعی مواد جیسے سیاہ یا سفید پولی تھین کو بطور ملچ استعمال کرنا کئی فصلوں کے لیے مؤثر ثابت ہوا ہے کیونکہ اس سے پانی بخارات بن کر ضائع ہونے سے بچتا ہے۔

حفاظتی ہل چلانا

حفاظتی ہل چلانے سے مراد ایسے طریقے ہیں جن میں مٹی کو کم سے کم پلٹا جاتا ہے، کم مقدار میں ہل چلائے جاتے ہیں اور کم از کم 30 فیصد فصل کی باقیات زمین کی سطح پر رہنے دی جاتی ہیں۔ اس سے مٹی اور پانی کا تحفظ ہوتا ہے، زمین کی طبعی، کیمیائی اور حیاتیاتی خصوصیات بہتر ہوتی ہیں، فصلوں کی پیداوار بڑھتی ہے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی آتی ہے اور مٹی میں کاربن ذخیرہ ہو کر ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کم ہوتے ہیں۔

حیاتیاتی کھادیں

حیاتیاتی کھادیں قدرتی مصنوعات ہیں جن میں فائدے مند زندہ خرد نامیے یعنی بیکٹیریا، فنجائی اور الجی شامل ہوتے ہیں۔ یہ کھادیں نائٹروجن فکسیشن، فاسفورس کو حل پذیر بنانے اور پودوں کی بڑھوتری کو تحریک دے کر زمین کی زرخیزی اور فصل کی صحت بہتر بناتی ہیں۔ یہ طریقہ ماحول دوست، کم خرچ اور خاص طور پر چھوٹے کاشتکاروں کے لیے بہت مفید ہے۔

زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے دیگر اہم اقدامات

  • درست مقدار میں کھاد کا استعمال: مٹی کی جانچ کروا کر مناسب مقدار میں کیمیائی یا نامیاتی کھاد دی جائے تو غذائی اجزاء کی کمی پوری ہو سکتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ کھاد مٹی اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔
  • آبیاری کے طریقوں میں بہتری: منظم و مناسب آبیاری جیسے ڈرپ یا سپرنکلر سسٹم سے مٹی کی نمی بہتر رہتی ہے، پانی کی بچت ہوتی ہے، فصل کو ضرورت کے مطابق پانی ملتا ہے، زمین سیم و تھور سے محفوظ رہتی ہے اور زرخیزی برقرار رہتی ہے۔
  • زمین کی باقاعدہ جانچ: مٹی کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹی میں کون سے غذائی اجزاء کی کمی ہے، جس کی بنا پر صحیح کھاد اور اصلاحی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
  • مٹی کے کٹاؤ سے تحفظ: تیز بارش یا ہوا کی وجہ سے مٹی کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے بند باندھنا، کنٹور فارمنگ اور درخت لگانا مؤثر طریقے ہیں۔
  • درختوں کا زرعی نظام: کھیتوں میں درختوں اور فصلوں کو ایک ساتھ اگانے سے زمین کو نامیاتی مادہ، سایہ اور نمی ملتی ہے اور زرخیزی بہتر ہوتی ہے۔
  • متوازن غذائی اجزاء کا انتظام: نامیاتی اور کیمیائی کھادوں کا متوازن استعمال زمین کی طویل المدتی زرخیزی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
  • پی ایچ کا توازن: زمین کا شدید تیزابی یا الکلائن ہونا غذائی اجزاء کے جذب میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ہماری زمینوں کی پی ایچ چونکہ زیادہ یعنی الکلائن ہے، لہٰذا اس کو متوازن کرنے کے لیے نامیاتی کھادوں کا استعمال بہت ضروری ہے۔
  • عناصرِ صغیرہ کا استعمال: زنک، بوران، آئرن اور مینگنیز جیسے خرد غذائی اجزاء کی کمی فصلوں کی نشوونما پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ اگرچہ ان کی ضرورت کم مقدار میں ہوتی ہے، لیکن ان کے بغیر مٹی دیرپا طور پر زرخیز نہیں رہ سکتی۔ اس لیے متوازن کھادوں اور مٹی کے تجزیے کے ذریعے ان کی کمی کو پورا کرنا ضروری ہے۔

آج زمین کے انتظام کے زیادہ تر طریقے صرف کیمیائی کھادوں پر انحصار کرتے ہیں، جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ اگر زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے ان مربوط طریقوں کو اپنایا جائے تو زمین کی صحت میں نمایاں بہتری، فصلوں کی پیداوار میں اضافہ اور طویل المدتی زرعی پائیداری کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔

جواب دیں