GMOs سے متعلق بایو سیفٹی خدشات اور بیج و اجناس کی پالیسی پر نظرثانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا پہلا اجلاس

لاہور، 25 اگست 2025 — وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی و ہم آہنگی کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا پہلا اجلاس جینیاتی طور پر ترمیم شدہ اجسام (GMOs) سے متعلق بایو سیفٹی خدشات اور بیج و اجناس کی پالیسی پر نظرثانی کے سلسلے میں سینٹر آف ایکسیلنس اِن مالیکیولر بایولوجی (CEMB)، یونیورسٹی آف دی پنجاب میں منعقد ہوا۔
اس اجلاس کی صدارت ممتاز ماہرِ سائنس پروفیسر ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک نے کی، جو این آئی بی جی ای (NIBGE) کے بانی ڈائریکٹر، سابق چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) اور سابق وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی و ریسرچ رہ چکے ہیں۔

اجلاس میں سائنسدانوں، پالیسی سازوں اور مختلف اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا (ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی)، ڈاکٹر آصف علی راؤ (چیئرمین نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی)، ڈاکٹر ناصر اے سعید (ڈائریکٹر این آئی بی جی ای)، ڈاکٹر شوکت علی (پرنسپل سائنٹیفک آفیسر این آئی جی اے بی)، ڈاکٹر سلطان حبیب اللہ خان (ڈائریکٹر سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد)، ڈاکٹر عرفان علی (سائنسدان فور برادرز گروپ لاہور)، ڈاکٹر ساجد الرحمن (چیف سائنٹسٹ ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ فیصل آباد)، محمد عاصم (نمائندہ کراپ لائف پاکستان)، ڈاکٹر محمد رءوف (ڈپٹی ڈائریکٹر پاک-بی سی ایچ)، اور اسرا ر احمد (اسسٹنٹ ڈائریکٹر پاک-بی سی ایچ)۔ اس کے علاوہ سی ایم بی کی پلانٹ بایوٹیکنالوجی لیب کے سینیئر پروفیسرز بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں آن لائن شرکت کرنے والوں میں ڈاکٹر یوسف ظفر (سابق چیئرمین پی اے آر سی)، ڈاکٹر شاہد منظور (سابق ڈائریکٹر این آئی بی جی ای اور سینیئر ایڈوائزر آئی سی سی بی ایس کراچی)، اور پروفیسر ڈاکٹر معاز الرحمن (ڈائریکٹر سی ایم بی) شامل تھے۔

شرکاء نے بحث و مباحثے کے دوران موجودہ ریگولیٹری فریم ورک میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کی اور اس بات پر زور دیا کہ (biosafety) بایوسےفٹی اقدامات کو عالمی معیارات کے مطابق مزید مستحکم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ (GMO) جی ایم اوز کی ریسرچ، فیلڈ ٹرائلز اور کمرشلائزیشن کے لیے شفاف اور سہل ریگولیٹری نظام قائم کرنے اور بیج پالیسی میں ایسی اصلاحات متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا جو معیار کی ضمانت، کسانوں کے تحفظ اور پائیدار زرعی جدت کو یقینی بنائیں۔

اپنے اختتامی کلمات میں پروفیسر ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے لیے ایک شفاف، سہل اور قابلِ عمل ریگولیٹری میکنزم قائم کرنا ناگزیر ہے، جو نہ صرف بایوسےفٹی کو یقینی بنائے بلکہ زرعی اختراعات کو فروغ دے کر ملک کی بڑھتی ہوئی غذائی تحفظ کی ضروریات کو بھی پورا کرے۔