
فیصل آباد میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل کانفرنس آن ری سائیکلنگ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ناردرن ریجن کے وائس چیئرمین اور آئی پیکس 2026 کے چیئرمین ملک محمد شریف نے ایک اہم معاشی پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں انڈوں کے چھلکوں سے کیلشیم اور کیلشیم کاربونیٹ کی سالانہ بڑی مقدار حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ شعبہ اب تک کسی باضابطہ صنعت یا واضح پالیسی ماڈل کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
ملک محمد شریف نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان میں سالانہ اربوں انڈے پیدا ہوتے ہیں لیکن ان کے چھلکوں کو عموماً ناکارہ مواد سمجھ کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ چھلکے بائیو کیلشیم اور کیلشیم کاربونیٹ کا ایک بہترین اور قدرتی ذریعہ ہیں۔ اگر ملک میں ان چھلکوں کو جمع کرنے، ان کی صفائی، خشک کرنے، پیسنے، ٹیسٹنگ اور پروسیسنگ کا ایک منظم نظام وضع کر لیا جائے تو پاکستان میں فوڈ فورٹیفیکیشن، اینیمل فیڈ، زراعت، فارماسیوٹیکل اور صنعتی شعبوں کے لیے اعلیٰ معیار کا مقامی خام مال تیار کیا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں ری سائیکلنگ اور سرکولر اکانومی کے اصولوں کے تحت فضلے کو قیمتی مصنوعات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ملک محمد شریف نے علاقائی اعداد و شمار کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت جیسے بڑے پولٹری پیدا کرنے والے ملک میں سالانہ انڈوں کی پیداوار 149 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے اکنامک سروے کے مطابق ملک کی سالانہ پیداوار تقریباً 26.7 ارب انڈے ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پولٹری کا شعبہ صرف خوراک اور پروٹین کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ ری سائیکلنگ پر مبنی صنعتوں کے لیے بھی اس میں وسیع گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے ایک محتاط تخمینہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں ہر انڈے کے چھلکے سے اوسطاً 2 گرام کیلشیم حاصل کیا جائے تو ملک میں سالانہ 53 ہزار میٹرک ٹن سے زائد بائیو کیلشیم حاصل کرنے کی نظریاتی گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح کیلشیم کاربونیٹ کی صورت میں یہ مقدار مزید بڑی صنعتی قدر پیدا کر سکتی ہے بشرطیکہ اسے سائنسی طریقے سے جمع اور پروسیس کیا جائے۔
اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملک محمد شریف نے تجویز دی کہ ہیچریز، ایگ پروسیسنگ یونٹس، بیکریز، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، فوڈ فیکٹریوں اور ہول سیل مارکیٹوں سے انڈوں کے چھلکوں کی منظم کلیکشن شروع کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد اس مواد کو فوڈ گریڈ، فیڈ گریڈ، ایگریکلچر گریڈ اور انڈسٹریل گریڈ خام مال میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے لیے امپورٹ سبسٹی ٹیوشن، ویسٹ مینجمنٹ، ماحولیاتی تحفظ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ بنے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پولٹری کی پیداوار، فارمنگ کی صلاحیت، خام مال کی دستیابی اور افرادی قوت دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے۔ اگر ان وسائل کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر مینجمنٹ، بائیوسیکیورٹی اور منظم مارکیٹنگ کے ساتھ جوڑا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی مقامی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔ حکومت، جامعات، فوڈ اتھارٹیز، لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹس، ریسرچ اداروں اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر اس حوالے سے پائلٹ پروجیکٹس شروع کرنے چاہئیں تاکہ اس قیمتی پولٹری ویسٹ کو معاشی وسائل میں بدلا جا سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ملک محمد شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ری سائیکلنگ صرف کچرے کو ٹھکانے لگانے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ غیر استعمال شدہ وسائل کو نئی صنعت، نئی آمدن اور جدت میں بدلنے کا راستہ ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ انڈوں کے چھلکوں جیسے نظر انداز شدہ بائیو ویسٹ کو قومی سطح پر صنعتی چین کا حصہ بنائے۔