جڑانوالہ وائلڈ لائف اہلکاروں کے خلاف اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کی انکوائری، PEEDA کارروائی کی سفارش کے باوجود شہری انصاف کا منتظر

فیصل آباد (وی این وی انویسٹی گیشن ڈیسک): جڑانوالہ میں ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے، اس کے اے ٹی ایم سے 35 ہزار روپے نکلوانے اور متنازع دستاویزات پر دستخط اور انگوٹھے کے نشانات حاصل کرنے کے معاملے میں محکمہ وائلڈ لائف کی اپنی انکوائری رپورٹ نے متعلقہ فیلڈ سٹاف کے سرکاری ریکارڈ میں متعدد تضادات کی نشاندہی کی ہے۔

16 مارچ 2026 کو ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب کو بھیجی گئی رپورٹ میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، نااہلی اور مس کنڈکٹ کی بنیاد پر پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2006، یعنی PEEDA Act 2006 کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

اس کے باوجود متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ اسے تاحال انکوائری کی سفارشات پر ہونے والی حتمی کارروائی، چارج شیٹ یا ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کسی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

دستیاب شکایت اور دستاویزات کے مطابق واقعہ 14 دسمبر 2025 کو پیش آیا۔ شکایت کنندہ امیر عباس، جن کا نام بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں عاصم عباس بھی لکھا گیا، نے الزام عائد کیا کہ وہ موٹر سائیکل پر اپنے گاؤں سے گھر جا رہے تھے جب جڑانوالہ کے قریب وائلڈ لائف اہلکاروں نے انہیں روکا۔

شکایت کنندہ کے مطابق ان کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ موجود تھا جو کور میں بند تھا اور وہ شکار نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وائلڈ لائف ٹیم نے ایک نجی شخص کی مدد سے ان کی تلاشی لی، انہیں مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر جڑانوالہ لے جایا گیا اور کئی گھنٹے ایک کمرے میں روکے رکھا گیا۔

ان کا مزید الزام ہے کہ انہیں خوف زدہ کرکے اے ٹی ایم سے 35 ہزار روپے نکلوانے پر مجبور کیا گیا اور رقم وصول کرنے کے باوجود باقاعدہ رسید فراہم نہیں کی گئی۔

یہ الزامات شکایت کنندہ کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اور ان پر کسی عدالت کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ اہلکار انکوائری میں پیش نہ ہوئے

سرکاری انکوائری رپورٹ کے مطابق شکایت کنندہ 12 مارچ 2026 کو اپنے تحریری بیان اور دستاویزی شواہد کے ساتھ انکوائری افسر کے سامنے پیش ہوا۔

رپورٹ میں درج ہے کہ تحصیل جڑانوالہ کے متعلقہ فیلڈ اہلکاروں کو انکوائری میں شرکت کی ہدایت کی گئی تھی، لیکن وہ مقررہ تاریخ پر پیش نہیں ہوئے۔ رپورٹ تیار کیے جانے تک متعلقہ اہلکاروں کے تحریری بیانات بھی انکوائری افسر کو موصول نہیں ہوئے تھے۔

انکوائری افسر نے شکایت کنندہ کی جانب سے فراہم کردہ بیان اور دستیاب دستاویزات کو مزید محکمانہ کارروائی کے لیے کافی قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق شکایت کنندہ نے متعلقہ اے ٹی ایم کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی انکوائری افسر کو فراہم کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوٹیج میں ایک وائلڈ لائف اہلکار شکایت کنندہ کی موجودگی میں اے ٹی ایم مشین استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔

تاہم دستیاب رپورٹ میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی فرانزک تصدیق یا اس بنیاد پر کسی حتمی قانونی نتیجے کا ذکر موجود نہیں۔ اسی لیے فوٹیج کو مزید تحقیقات کے لیے معاون مواد سمجھا گیا ہے۔

محکمانہ انکوائری رپورٹ میں جڑانوالہ وائلڈ لائف فیلڈ سٹاف کے تیار کردہ ریکارڈ میں متعدد تضادات کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایک مقام پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ شکایت کنندہ سے کوئی مالِ مقدمہ قبضے میں نہیں لیا گیا، جبکہ دوسرے مقام پر مقررہ محکمانہ معاوضہ وصول کرنے کے بعد مالِ مقدمہ واپس کرنے کا ذکر موجود تھا۔

شکایت کنندہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس سے 35 ہزار روپے “Departmental Compensation” کے نام پر لیے گئے، لیکن رقم کی کوئی رسید فراہم نہیں کی گئی۔

دوسری جانب اہلکاروں کے جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شہری موقع پر شکار کا لائسنس پیش نہیں کر سکا، رقم محکمانہ معاوضے کے طور پر وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرائی گئی اور دستخط یا انگوٹھے کے نشانات رضاکارانہ طور پر لگائے گئے تھے۔

شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے خالی کاغذات پر مبینہ طور پر دباؤ کے تحت دستخط اور انگوٹھے کے نشانات لیے گئے۔

محکمانہ انکوائری رپورٹ میں متنازع دستاویزات کے فرانزک تجزیے کی سفارش کی گئی تاکہ دستخطوں اور انگوٹھے کے نشانات کی اصلیت کا تعین کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق شکایت کنندہ فرانزک جانچ کے اخراجات برداشت کرنے پر بھی آمادہ تھا۔

انکوائری افسر نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر متعلقہ فیلڈ سٹاف کے خلاف Misuse of Authority، Inefficiency اور Misconduct کی بنیاد پر PEEDA Act 2006 کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی سفارش کی۔

یہ سفارش ظاہر کرتی ہے کہ انکوائری افسر نے شکایت اور دستیاب مواد کو مزید باقاعدہ کارروائی کے قابل سمجھا۔ تاہم اسے اہلکاروں کے خلاف حتمی سزا یا کسی فوجداری جرم کا عدالتی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دی ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز نے معاملے کی موجودہ حیثیت جاننے کے لیے محکمہ وائلڈ لائف کے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا۔ حکام نے ٹیلی فون پر تفصیلی جواب فراہم کرنے کے بجائے کہا معاملے پیچیدہ ہے

اشاعت تک محکمہ کی جانب سے یہ تحریری طور پر واضح نہیں کیا گیا کہ 16 مارچ 2026 کی انکوائری رپورٹ پر کیا کارروائی ہوئی، آیا متعلقہ اہلکاروں کو چارج شیٹ جاری کی گئی، کسی باقاعدہ محکمانہ سماعت کا آغاز ہوا یا رپورٹ پر کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا۔

وی این وی نے محکمہ وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب سے درخواست کی ہے کہ وہ عوامی مفاد میں انکوائری کی موجودہ حیثیت اور اب تک کی گئی کارروائی سے آگاہ کرے۔ محکمہ یا متعلقہ اہلکاروں کا تحریری مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی مناسب اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔

شکایت کنندہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری وائلڈ لائف، ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر شفاف کارروائی مکمل کی جائے، متنازع دستاویزات کا فرانزک تجزیہ کرایا جائے اور ذمہ داری ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

جواب دیں