
فیصل آباد: پولٹری بیماریوں کی تشخیص کے عالمی شہرت یافتہ سائنس دان، محقق اور ویٹرنری ماہر ڈاکٹر خالد نعیم خواجہ نے کہا ہے کہ جدید پولٹری فارمنگ میں صرف ظاہری علامات یا تجرباتی اندازوں کی بنیاد پر بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے فیصلے کرنا سائنسی اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پولٹری کی صحت سے متعلق ہر فیصلہ جدید لیبارٹری ٹیسٹ، سائنسی شواہد اور مستند تشخیصی نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
ویٹنری نیوز اینڈ ویوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد نعیم خواجہ نے کہا کہ یہ انتہائی حوصلہ افزا بات ہے کہ پاکستان کا پولٹری فارمر اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے کہ صرف آنکھ سے مشاہدہ کر کے بیماری کی تشخیص قابل اعتماد نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ بیماریوں کی درست تشخیص کے لیے جدید لیبارٹری سہولیات ناگزیر ہیں، کیونکہ انہی کی مدد سے بیماری کی اصل وجہ معلوم ہوتی ہے، مناسب علاج تجویز کیا جاتا ہے اور غیر ضروری ادویات کے استعمال سے بچا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ Evidence Based Diagnosis ہی جدید پولٹری انڈسٹری کی بنیاد ہے۔ اگر فارم کی بیماریوں کی تشخیص سائنسی بنیادوں پر کی جائے تو ادویات اور ویکسین کا استعمال بھی ذمہ دارانہ اور مؤثر ہوگا، جس سے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس جیسے عالمی چیلنج سے نمٹنے میں مدد ملے گی، پیداواری لاگت کم ہوگی اور صارفین کو محفوظ اور معیاری خوراک میسر آئے گی۔
ڈاکٹر خالد نعیم خواجہ نے برائلر فارمرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کے صدر اظہر رندھاوا کی جانب سے جدید پولٹری ڈائیگناسٹک لیبارٹری کے قیام کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی پولٹری صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تجویز پر جلد پیش رفت ہوگی اور Averroes Labs Diagnostic Network کے ذریعے جدید تشخیصی سہولیات فارمرز تک پہنچائی جا سکیں گی۔
ڈاکٹر خالد نعیم خواجہ کون ہیں؟
ڈاکٹر خالد نعیم خواجہ پاکستان کے ممتاز ویٹرنری سائنس دان ہیں، جنہیں پولٹری بیماریوں کی تشخیص، لیبارٹری ڈائیگناسٹکس، بایو سکیورٹی، بیماریوں کی نگرانی اور سائنسی رہنمائی کے شعبوں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہوں نے کئی دہائیوں پر محیط اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں پولٹری بیماریوں کی تشخیص، تحقیقی سرگرمیوں، لیبارٹری نظام کی بہتری، صنعتی مشاورت اور ویٹرنری ماہرین کی تربیت میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
وہ جدید تشخیصی ٹیکنالوجی، معیاری لیبارٹری نیٹ ورک، سائنسی تحقیق اور شواہد پر مبنی فیصلوں کے فروغ کے مضبوط حامی ہیں۔ پولٹری صنعت میں بیماریوں کے مؤثر کنٹرول، محفوظ خوراک کی پیداوار اور اینٹی بایوٹکس کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے ان کی آراء کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اہمیت دی جاتی ہے۔
پس منظر
برائلر فارمرز ایسوسی ایشن فیصل آباد نے حال ہی میں فیصل آباد میں جدید پولٹری ڈائیگناسٹک لیبارٹری یا ابتدائی مرحلے میں سیمپل کلیکشن سینٹر کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ضلع فیصل آباد میں تقریباً 1500 جدید کنٹرولڈ پولٹری فارمز موجود ہیں، جہاں جدید تشخیصی سہولیات کی دستیاب صنعت کی پائیدار ترقی، بیماریوں کے مؤثر کنٹرول، بایو سکیورٹی اور سائنسی فارم مینجمنٹ کے لیے نہایت ضروری ہے۔
کیوں اہم ہے؟
ماہرین کے مطابق جدید لیبارٹری تشخیص نہ صرف بیماریوں کی بروقت شناخت ممکن بناتی ہے بلکہ درست علاج، مؤثر ویکسینیشن، اینٹی بایوٹکس کے محتاط استعمال، پیداواری کارکردگی میں بہتری اور محفوظ پولٹری مصنوعات کی فراہمی کو بھی یقینی بناتی ہے۔ یہی عوامل مستقبل میں پاکستان کی پولٹری صنعت کی پائیدار ترقی اور بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔