
قومی زرعی تحقیقاتی مرکز اسلام آباد کے آئل سیڈز ریسرچ پروگرام کے مطابق مونگ پھلی پاکستان کی ایک اہم تیل دار اور غذائی فصل ہے۔ یہ فصل نہ صرف خوردنی تیل کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ پروٹین، توانائی اور معدنی اجزاء کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ پاکستان میں مونگ پھلی کی کاشت زیادہ تر بارانی علاقوں خصوصاً پوٹھوہار کے خطے میں کی جاتی ہے جہاں یہ کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانے اور زمین کے پائیدار استعمال میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔
پاکستان میں مونگ پھلی کی اہمیت
پاکستان خوردنی تیل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتا ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ مونگ پھلی ایک ایسی فصل ہے جو خوردنی تیل اور غذائی استعمال دونوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے دانوں میں تقریباً 45 تا 55 فیصد تیل اور 25 تا 30 فیصد پروٹین موجود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسے غذائیت سے بھرپور فصل سمجھا جاتا ہے۔
آئل سیڈز ریسرچ پروگرام کی خدمات
قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کے آئل سیڈز ریسرچ پروگرام نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مونگ پھلی کی بہتر اقسام، جدید پیداواری ٹیکنالوجیز اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کی ترقی کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ پروگرام کے سائنسدانوں نے مونگ پھلی کی ایسی اقسام تیار کی ہیں جو زیادہ پیداوار، بہتر معیار، بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور مقامی موسمی حالات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ان تحقیقی کاوشوں کی بدولت متعدد اقسام کسانوں کے لیے منظور اور جاری کی جا چکی ہیں۔
مونگ پھلی کی منظور شدہ اقسام اور ان کی نمایاں خصوصیات
- بی اے آر ڈی 92 (BARD-92) یہ پاکستان میں مونگ پھلی کی ابتدائی بہتر اقسام میں شمار ہوتی ہے۔ اس قسم کی سب سے اہم خصوصیت اس کا کم دورانیہ ہے، جو دیگر اقسام کے مقابلے میں تقریباً 10 دن پہلے پک کر تیار ہو جاتی ہے۔ جلد تیار ہونے کی وجہ سے یہ قسم ان علاقوں کے لیے موزوں ثابت ہوئی جہاں بڑھنے کا دورانیہ محدود ہو یا بارشوں کا دورانیہ مختصر ہو۔
- بی اے آر ڈی 479 (BARD-479) اس قسم کو 1990 کی دہائی کے اوائل میں متعارف کرایا گیا اور یہ اپنی غیر معمولی پیداواری صلاحیت اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے کاشتکاروں میں انتہائی مقبول رہی۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کے غیر یقینی حالات کے باوجود یہ قسم آج بھی پوٹھوہار اور دیگر بارانی علاقوں میں بہترین پیداوار دے رہی ہے، جو اس کی جینیاتی مضبوطی اور وسیع موافقت کا ثبوت ہے۔
- بی اے آر ڈی 699 (BARD-699) یہ ایک بہتر پیداواری صلاحیت رکھنے والی قسم ہے جس نے مختلف بارانی علاقوں میں تسلی بخش نتائج فراہم کیے ہیں۔ یہ قسم مونگ پھلی کے قومی افزائشی پروگرام کی اہم کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔
- پوٹھوہار 2016 سال 2016 میں منظور ہونے والی قسم پوٹھوہار اپنی منفرد مٹھاس اور بہترین ذائقے کی وجہ سے پاکستان کی سب سے میٹھی مونگ پھلی کی قسم سمجھی جاتی ہے۔ اس کے دانوں کا ذائقہ صارفین میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، یہ قسم ریزڈ بیڈ ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی موزوں ہے اور بہتر فصل کے قیام اور زیادہ پیداوار کی صلاحیت رکھتی ہے۔
- این اے آر سی 2019 (NARC-2019) یہ ایک نہایت اعلیٰ پیداواری صلاحیت رکھنے والی سیمی اسپریڈنگ قسم ہے جو بڑے دانوں اور دو دانوں والی پھلیوں کی حامل ہے۔ اس کی بہتر پیداوار، اعلیٰ معیار اور مارکیٹ میں پسندیدگی کی وجہ سے یہ پاکستان کے مونگ پھلی کاشتکاروں میں تیزی سے مقبول ہوئی اور آج متعدد علاقوں میں کامیابی سے کاشت کی جا رہی ہے۔
- این اے آر سی او آر پی 1 سال 2025 (NARC-ORP-1) یہ پاکستان میں اب تک منظور ہونے والی مونگ پھلی کی اقسام میں سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی قسم ہے۔ اس کی ممکنہ پیداوار 4600 کلوگرام فی ہیکٹر تک ریکارڈ کی گئی ہے، جو ملکی سطح پر ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ یہ قسم جدید افزائشی تحقیق کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں مونگ پھلی کی پیداوار بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
- این اے آر سی 2021 سال 2026 (NARC-2021) یہ مونگ پھلی کی ایک نئی، اعلیٰ پیداواری، خوش ذائقہ اور کم دورانیہ رکھنے والی قسم ہے جو تقریباً 125 سے 130 دن میں پک کر تیار ہو جاتی ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی بولڈ تھری سیڈڈ قسم ہے، جو اس کی ایک منفرد خصوصیت ہے۔ اس کا ذائقہ نسبتاً زیادہ میٹھا ہے اور یہ خصوصاً گوجر خان اور ان جیسے علاقوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے جہاں مونگ پھلی کی کاشت جون میں کی جاتی ہے۔ کم دورانیہ اور زیادہ پیداوار کی وجہ سے یہ قسم کاشتکاروں کے لیے ایک بہترین انتخاب بن رہی ہے۔
جاری تحقیقی سرگرمیاں
آئل سیڈز ریسرچ پروگرام میں مونگ پھلی پر درج ذیل تحقیقی سرگرمیاں جاری ہیں
- زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی تیاری
- ہائی اولیک مونگ پھلی کی اقسام کی ترقی
- موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے ہم آہنگ اقسام کی تیاری
- جینومکس اور جدید مالیکیولر بریڈنگ کے ذریعے افزائش نسل
- بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اقسام کی تلاش
- پانی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید آبپاشی نظاموں کا جائزہ
- مختلف زرعی ماحولیاتی علاقوں میں اقسام کی جانچ
- کسانوں تک جدید پیداواری ٹیکنالوجی کی منتقلی
مونگ پھلی کی پیداواری ٹیکنالوجی
- زمین کا انتخاب مونگ پھلی کے لیے بھربھری، زرخیز اور اچھی نکاسی والی میرا یا ریتلی میرا زمین بہترین سمجھی جاتی ہے۔
- کاشت کا موزوں وقت پوٹھوہار اور شمالی پنجاب کے علاقوں میں مونگ پھلی کی کاشت کے لیے سفارش کردہ وقت یکم اپریل سے 30 اپریل تک ہے۔ بروقت کاشت بہتر اگاؤ، پھول بننے اور پیداوار کے حصول میں مدد دیتی ہے۔
- شرح بیج بیج کی شرح قسم اور دانے کے سائز کے مطابق عموماً 70 تا 100 کلوگرام فی ہیکٹر رکھی جاتی ہے۔
- کھادوں کا استعمال زمین کے تجزیے کی بنیاد پر متوازن کھادوں کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ فاسفورس اور پوٹاش کی مناسب مقدار مونگ پھلی کی بہتر نشوونما اور پھلیوں کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
- جڑی بوٹیوں کا تدارک کاشت کے ابتدائی 45 دن جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ بروقت گوڈی اور مناسب جڑی بوٹی کش ادویات کے استعمال سے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
- بیماریوں اور کیڑوں کا انتظام فصل کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور ضرورت کے مطابق سفارش کردہ حفاظتی اقدامات اختیار کیے جائیں تاکہ پتوں کے دھبوں، زنگ اور نقصان دہ کیڑوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔
- برداشت جب پودوں کے زیادہ تر پتے زرد ہو جائیں اور پھلیاں مکمل طور پر تیار ہو جائیں تو فصل کی برداشت کی جائے۔ بروقت برداشت سے دانوں کے معیار اور پیداوار دونوں میں بہتری آتی ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
پاکستان میں مونگ پھلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید اقسام، معیاری بیج، موسمیاتی لحاظ سے موزوں پیداواری ٹیکنالوجی اور کسانوں کی تربیت ناگزیر ہے۔ آئل سیڈز ریسرچ پروگرام مستقبل میں بھی مونگ پھلی کی جدید اقسام کی تیاری، جینومک تحقیق، ہائی اولیک اقسام کی ترقی اور پائیدار زرعی نظاموں کے فروغ کے ذریعے قومی غذائی و تیل کی ضروریات پوری کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
مونگ پھلی کی تحقیق اور ترقی میں حاصل ہونے والی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سائنسی تحقیق اور کسانوں کے باہمی تعاون سے پاکستان میں اس اہم فصل کی پیداوار اور معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔