کیا پولٹری ویسٹ پاکستان کے لیے مسئلہ ہے یا معاشی موقع؟
پولٹری لیٹر، پر، ویسٹ واٹر اور پیکجنگ ویسٹ کو کمپوسٹ، بائیو گیس، آرگینک فرٹیلائزر، توانائی اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں بدل کر پاکستان کا پولٹری سیکٹر سرکلر اکانومی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر خالد محمود شوق
چیف ایڈیٹر، دی ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز
اہم نکات
- پولٹری ویسٹ کو صرف فضلہ نہیں بلکہ معاشی وسیلہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
- پولٹری لیٹر سے کمپوسٹ، آرگینک فرٹیلائزر اور بائیو گیس بنائی جا سکتی ہے۔
- پر، خون اور دیگر بائی پراڈکٹس سے پروٹین ریکوری اور صنعتی خام مال تیار ہو سکتا ہے۔
- ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، ری سائیکلنگ اور فارم لیول مینجمنٹ ماحول اور پیداوار دونوں کے لیے ضروری ہیں۔
- صنعت، یونیورسٹیز، حکومت اور فنانسنگ اداروں کے تعاون سے نئی ویلیو چین بن سکتی ہے۔
پاکستان کا پولٹری سیکٹر ملک کی فوڈ سکیورٹی، روزگار، دیہی معیشت اور سستی حیوانی پروٹین کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گوشت اور انڈوں کی شکل میں غذائیت فراہم کرنے والا یہ شعبہ لاکھوں افراد کے روزگار سے بھی جڑا ہوا ہے۔ تاہم ہر ترقی پذیر صنعت کی طرح پولٹری سیکٹر کو بھی ماحولیاتی مینجمنٹ، ویسٹ کنٹرول اور پائیدار پیداوار کے چیلنجز کا سامنا ہے۔
پولٹری فارمز، ہیچریز، فیڈ ملز، پروسیسنگ یونٹس اور مارکیٹنگ چین کے مختلف مراحل میں پولٹری لیٹر، پر، ویسٹ واٹر، پیکجنگ ویسٹ، مردہ پرندے، فیڈ ویسٹ اور دیگر بائی پراڈکٹس پیدا ہوتے ہیں۔ ماضی میں انہیں صرف ویسٹ سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا انہیں وسائل، توانائی، کھاد، پروٹین اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ بہتر ہے کہ پولٹری ویسٹ کو بوجھ کے بجائے ایک معاشی موقع سمجھا جائے۔
پولٹری ویسٹ کو بوجھ نہیں بلکہ ایک معاشی ویلیو چین کے طور پر دیکھنے کا وقت آ گیا ہے۔
پولٹری سیکٹر پہلے سے کیا کر رہا ہے؟
پاکستان کا پولٹری سیکٹر پہلے ہی کئی سطحوں پر ویسٹ مینجمنٹ کے اقدامات کر رہا ہے۔ زیادہ تر کمرشل فارمز پر پولٹری لیٹر کو کھیتوں میں نامیاتی کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسان اسے فصلوں، سبزیوں اور باغات کے لیے مفید نامیاتی ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس سے زمین میں نامیاتی مادہ بہتر ہوتا ہے اور کیمیائی کھادوں پر انحصار جزوی طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
کئی جدید فارمز بائیو سکیورٹی، وینٹی لیشن، پانی کے بہتر استعمال، فیڈ مینجمنٹ اور صفائی کے نظام پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ ویسٹ کی مقدار کم ہو اور بیماریوں کے خطرات قابو میں رہیں۔ بڑے پروسیسنگ یونٹس میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، صفائی کے معیارات، کولڈ چین، پیکجنگ کنٹرول اور فوڈ سیفٹی کے تقاضوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔
ویسٹ سے وسائل اور توانائی تک
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ویسٹ مینجمنٹ ابھی مکمل طور پر منظم، سائنسی اور کاروباری بنیادوں پر نہیں آئی۔ زیادہ تر ویسٹ مقامی سطح پر استعمال ہو جاتا ہے، مگر اس سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات بنانے، توانائی پیدا کرنے یا صنعتی سطح پر ری سائیکلنگ کے مواقع ابھی پوری طرح استعمال نہیں ہو سکے۔
سب سے زیادہ گنجائش پولٹری لیٹر، پروسیسنگ ویسٹ، پر، ویسٹ واٹر اور پیکجنگ ویسٹ میں موجود ہے۔ یہ تمام ویسٹ اسٹریمز اگر سائنسی طریقے سے جمع، الگ، پروسیس اور مارکیٹ کی جائیں تو پولٹری سیکٹر کے لیے ایک نئی معاشی بنیاد بن سکتی ہیں۔
پولٹری لیٹر: سب سے بڑا موقع
پولٹری لیٹر پاکستان کے لیے سب سے اہم ویسٹ اسٹریم ہے۔ اس میں نامیاتی مادہ، نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسے اجزا موجود ہوتے ہیں۔ اگر اسے سائنسی طریقے سے پروسیس کیا جائے تو یہ اعلیٰ معیار کی کمپوسٹ، آرگینک فرٹیلائزر اور سوائل کنڈیشنر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس وقت بہت سی جگہوں پر لیٹر کو براہ راست کھیتوں میں استعمال کیا جاتا ہے، مگر بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسے کنٹرولڈ کمپوسٹنگ، خشک کرنے، جراثیم کشی، پیلیٹائزنگ اور پیکنگ کے بعد مارکیٹ میں لایا جائے۔ اس سے کسان کو محفوظ کھاد، فارم مالک کو اضافی آمدنی اور ماحول کو بہتر تحفظ مل سکتا ہے۔
پولٹری لیٹر سے بائیو گیس بھی بنائی جا سکتی ہے۔ اگر فارم کلسٹرز کی سطح پر بائیو گیس پلانٹس لگائے جائیں تو گیس، بجلی یا حرارت حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ توانائی بروڈر ہیٹنگ، لائٹنگ، پانی گرم کرنے اور دیگر فارم ضروریات کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
VNV Insight
پولٹری ویسٹ مینجمنٹ صرف ماحولیات کا موضوع نہیں بلکہ فوڈ سکیورٹی، فارم اکانومی، بیماریوں کے کنٹرول، بائیو سکیورٹی اور سرکلر اکانومی کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر صنعت، اکیڈیمیا، حکومت اور سرمایہ کاروں کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا۔
پروٹین ریکوری اور ویلیو ایڈیشن
پولٹری پروسیسنگ کے دوران پر، خون، آنتیں اور دیگر بائی پراڈکٹس پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں ان سے رینڈرنگ کے ذریعے فیڈر میل، بلڈ میل، پروٹین اجزا، پالتو جانوروں کی خوراک، صنعتی خام مال اور دیگر مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی اس شعبے میں بہت گنجائش موجود ہے۔
پر خاص طور پر کیراٹین پروٹین کا ذریعہ ہیں۔ مناسب ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں ہائیڈرو لائز کر کے فیڈر اجزا، بائیو فرٹیلائزر یا صنعتی استعمال کی مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ کام غیر منظم طریقے سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ فوڈ سیفٹی، فیڈ سیفٹی، بیماریوں کے کنٹرول اور ماحولیاتی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔
ویسٹ واٹر اور پانی کا بہتر استعمال
پولٹری پروسیسنگ یونٹس میں پانی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ویسٹ واٹر مینجمنٹ نہایت اہم ہے۔ جدید پلانٹس میں ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ، فلٹریشن، سیٹلنگ، بائیولوجیکل ٹریٹمنٹ اور پانی کے دوبارہ استعمال کے نظام اپنائے جا سکتے ہیں۔
فارم لیول پر نپل ڈرنکرز، لیکیج کنٹرول، باقاعدہ لائن صفائی اور پانی کے معیار کی مانیٹرنگ سے نہ صرف ویسٹ کم ہوتا ہے بلکہ بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ صاف پانی، خشک لیٹر اور بہتر وینٹی لیشن فارم کی صحت، پیداوار اور ماحول تینوں کے لیے ضروری ہیں۔
پیکجنگ ویسٹ: ری سائیکلنگ کی ضرورت
پولٹری فیڈ بیگز، کارٹن، پلاسٹک کریٹس، انڈوں کی ٹرے اور پروسیسنگ پیکجنگ بھی ایک اہم ویسٹ اسٹریم ہے۔ اس کے لیے الگ کلیکشن، ری یوز، ری سائیکلنگ اور ماحول دوست پیکجنگ کی طرف جانا ضروری ہے۔ فیڈ ملز اور پروسیسنگ کمپنیاں ری سائیکلنگ پارٹنرشپ کے ذریعے اس مسئلے کو موقع میں بدل سکتی ہیں۔
سرکلر اکانومی کی طرف عملی قدم
پولٹری ویسٹ کو سرکلر اکانومی میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مکمل ماڈل کی ضرورت ہے۔ اس ماڈل میں فارم سے ویسٹ جمع ہو، اسے سائنسی طریقے سے الگ کیا جائے اور پھر کمپوسٹ، بائیو گیس، آرگینک فرٹیلائزر، توانائی، پروٹین ریکوری یا دیگر مصنوعات میں تبدیل کیا جائے۔
بڑے فارمز، فارم کلسٹرز اور پروسیسنگ زونز میں مشترکہ ویسٹ مینجمنٹ یونٹس قائم کیے جا سکتے ہیں۔ چھوٹے فارمرز کے لیے انفرادی طور پر پلانٹ لگانا مشکل ہے، مگر کسی علاقے میں کئی فارمز مل کر مشترکہ کمپوسٹ یا بائیو گیس یونٹ بنائیں تو یہ معاشی طور پر قابل عمل ہو سکتا ہے۔
اس موضوع کو پاکستان میں سرکلر اکانومی کی وسیع بحث سے بھی جوڑا جانا چاہیے۔ اسی تناظر میں ری سائیکلنگ اور سرکلر اکانومی پر ہونے والی تعلیمی و صنعتی سرگرمیاں بھی اہم ہیں۔ مزید پڑھیں: ری سائیکلنگ اور سرکلر اکانومی پر یونیورسٹی آف کمالیہ کانفرنس 2026
تعاون، پالیسی سپورٹ اور آگاہی
پائیدار پولٹری پروڈکشن صرف فارم مالک کی ذمہ داری نہیں۔ اس کے لیے پوری ویلیو چین کو ساتھ چلنا ہوگا۔ پولٹری فارمز، پروسیسنگ یونٹس، انڈسٹری ایسوسی ایشنز، یونیورسٹیز، تحقیقی ادارے، ماحولیات کے محکمے، لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ، مقامی حکومتیں اور فنانسنگ ادارے سب کا کردار اہم ہے۔
حکومت ٹیکنیکل گائیڈ لائنز، آسان فنانسنگ، ٹیکس سہولت اور ریگولیٹری سپورٹ دے تو پولٹری ویسٹ ایک نئی معاشی ویلیو چین بن سکتا ہے۔ یونیورسٹیز کو بھی ایسے ماڈلز پر عملی تحقیق کرنی چاہیے جو پاکستان کے موسم، فارم سائز، لاگت، توانائی کی ضروریات اور کسان کی معاشی حالت کے مطابق ہوں۔
ماحولیاتی اخراج کم کریں، پیداوار بڑھائیں
ماحولیاتی اخراج کم کرنے کے لیے فارم لیول پر بہتر فیڈ فارمولا، متوازن غذائیت، پانی کا درست استعمال، خشک لیٹر، مناسب وینٹی لیشن، امونیا کنٹرول، بائیو سکیورٹی، بیماریوں کی روک تھام اور مردہ پرندوں کی محفوظ تلفی بنیادی اقدامات ہیں۔
جب پرندہ صحت مند ہوگا، فیڈ بہتر استعمال ہوگی، پانی ضائع نہیں ہوگا اور لیٹر خشک رہے گا تو پیداوار بھی بہتر ہوگی اور ویسٹ بھی کم ہوگا۔ اس لیے ماحولیاتی مینجمنٹ کو اضافی خرچ نہیں بلکہ بہتر پیداوار، کم بیماری، کم لاگت اور بہتر مارکیٹ ساکھ کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔
ویسٹ سے ویلیو چین تک: پاکستان کا مستقبل
پاکستان کے پولٹری سیکٹر کو اب ویسٹ مینجمنٹ کے روایتی طریقوں سے آگے بڑھ کر سرکلر اکانومی کی طرف جانا ہوگا۔ پولٹری لیٹر کھاد بن سکتا ہے، ویسٹ توانائی بن سکتا ہے، پر پروٹین کا ذریعہ بن سکتے ہیں، ویسٹ واٹر ٹریٹ ہو کر دوبارہ استعمال ہو سکتا ہے اور پیکجنگ ری سائیکل ہو سکتی ہے۔
اس کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں: ٹیکنالوجی، تعاون اور پالیسی سپورٹ۔ اگر یہ تینوں چیزیں اکٹھی ہو جائیں تو پولٹری ویسٹ پاکستان کے لیے ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ ایک نئی معاشی ویلیو چین بن سکتا ہے۔
پولٹری سیکٹر ملک کو خوراک فراہم کر رہا ہے۔ اب وقت ہے کہ یہی سیکٹر پائیدار پیداوار، ماحول دوست طریقوں اور سرکلر اکانومی کے ذریعے پاکستان کی گرین اکانومی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔
مختصر نکتہ
پولٹری ویسٹ کو بوجھ نہیں، مواقع میں بدلنے کی منصوبہ بندی درکار ہے۔