
دنیا آج جس مرحلے سے گزر رہی ہے، وہاں ترقی کا تصور صرف پیداوار، صنعت اور تجارت تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اصل سوال یہ ہے کہ انسانی معاشرہ وسائل کو کس حد تک ذمہ داری، دانش مندی اور پائیداری کے ساتھ استعمال کر رہا ہے۔ ری سائیکلنگ، ویسٹ مینجمنٹ اور سرکلر اکانومی آج کے دور کے وہ اہم موضوعات ہیں جن پر پوری دنیا میں سنجیدہ غور و فکر، تحقیق، پالیسی سازی اور عملی اقدامات جاری ہیں۔
اسی تناظر میں یونیورسٹی آف کمالیہ کی جانب سے انٹرنیشنل کانفرنس آن ری سائیکلنگ 2026 کا انعقاد ایک نہایت شاندار، بروقت اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔ خاص طور پر یہ بات خوش آئند ہے کہ یہ کانفرنس 10 جون 2026 کو سیرینا ہوٹل فیصل آباد جیسے اہم مقام پر منعقد کی جا رہی ہے، جہاں ملکی اور غیر ملکی ماہرین، محققین، صنعت کار، پالیسی ساز اور طلبہ ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے۔ یہ صرف ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت، ماحولیات، زراعت، صنعت اور معاشرتی پائیداری سے جڑا ہوا ایک سنجیدہ علمی مکالمہ ہے۔
یونیورسٹی آف کمالیہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب اس اقدام پر بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی بصیرت، جدید موضوعات کے انتخاب کی صلاحیت، اور اکیڈیمیا کو صنعت و معاشرے کے عملی مسائل سے جوڑنے کا وژن قابلِ تحسین ہے۔ ایک نو قائم شدہ پبلک سیکٹر یونیورسٹی کی جانب سے اس نوعیت کی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر قیادت باصلاحیت، متحرک اور وژنری ہو تو تعلیمی ادارے محدود وسائل کے باوجود قومی سطح پر نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نظامِ فطرت اور ری سائیکلنگ کا فلسفہ
حقیقت یہ ہے کہ قدرت نے کوئی مادہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ انسان ہو، حیوانات ہوں، چرند پرند ہوں، پودے ہوں یا زمین کے اندر موجود وسائل، ہر چیز نظامِ فطرت کا حصہ ہے۔ فطرت کا اپنا ایک پائیدار نظام ہے جس میں کچھ بھی مکمل طور پر ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک مرحلہ ختم ہو کر دوسرے مرحلے کا آغاز بن جاتا ہے۔ پتوں کا زمین میں مل کر کھاد بن جانا، جانوروں کے فضلے کا زمین کی زرخیزی میں کردار، پانی کا بخارات بن کر دوبارہ بارش کی صورت واپس آنا، یہ سب قدرتی ری سائیکلنگ کے روشن نمونے ہیں۔
انسانی معاشرے نے صنعتی ترقی کے سفر میں جب اس فطری توازن کو نظر انداز کیا تو آلودگی، فضلے، موسمیاتی تبدیلی، زمین کی کمزوری، پانی کی آلودگی اور خوراک کے عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ آج دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ ترقی کا پرانا ماڈل، جس میں وسائل کو استعمال کر کے ضائع کر دیا جاتا تھا، زیادہ دیر تک قابلِ عمل نہیں رہ سکتا۔ اب ترقی یافتہ ممالک کی معیشت سرکلر اکانومی کے فلسفے پر آگے بڑھ رہی ہے، جہاں فضلہ بوجھ نہیں بلکہ ایک نیا خام مال، نئی صنعت، نئی تحقیق اور نئی معیشت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے ویسٹ مینجمنٹ کی اہمیت
پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ موضوع اور بھی اہم ہے۔ ہمارے شہروں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ایک بڑا مسئلہ ہے، صنعتوں کا فضلہ ماحول اور پانی کے لیے خطرہ بن رہا ہے، زرعی باقیات کو اکثر ضائع یا جلا دیا جاتا ہے، جبکہ فوڈ ویسٹ بھی ایک سنگین معاشی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔ اگر ہم ری سائیکلنگ، بائیو ڈی گریڈیشن، ویسٹ ویلیورائزیشن، بائیو انرجی، ایگرو فوڈ ویسٹ مینجمنٹ اور اسمارٹ ویسٹ سسٹمز پر سنجیدہ کام کریں تو یہی فضلہ قومی معیشت، زراعت، توانائی اور صنعت کے لیے ایک قیمتی وسیلہ بن سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کمالیہ کی یہ کانفرنس اسی سوچ کو آگے بڑھانے کی ایک مضبوط علمی کوشش ہے۔ اس میں درج ذیل اہم موضوعات شامل ہیں
- ٹیکسٹائل اور پلاسٹک ویسٹ
- فوڈ ویسٹ اور زرعی فضلہ
- بائیو میٹریلز اور بائیو انرجی
- ماحولیاتی بحالی اور سرکلر اکانومی پالیسی فریم ورکس
یہ وہ شعبے ہیں جن پر پاکستان کو فوری اور منظم تحقیق کی ضرورت ہے۔ فیصل آباد جیسے صنعتی و زرعی مرکز میں اس موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں ٹیکسٹائل انڈسٹری، زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور لائیوسٹاک سیکٹر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
جامعات کا کردار اور مستقبل کا لائحہ عمل
یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی دیگر یونیورسٹیاں بھی یونیورسٹی آف کمالیہ کے اس اقدام کی تقلید کریں۔ ہماری جامعات کو صرف ڈگریاں دینے والے ادارے نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں قومی مسائل کے حل، پالیسی سازی، صنعت کی رہنمائی، کسان اور عام شہری کی آگاہی، اور پائیدار ترقی کے لیے عملی تحقیق کے مراکز بننا ہوگا۔ ری سائیکلنگ اور سرکلر اکانومی جیسے موضوعات کو نصاب، تحقیق، انڈسٹری لنکیج، اسٹارٹ ابس اور پبلک پالیسی کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ویٹرنری، لائیوسٹاک اور زرعی شعبوں کے لیے بھی یہ موضوع نہایت اہم ہے۔ جانوروں کا فضلہ، پولٹری لیٹر، ڈیری فارم ویسٹ، سلاٹر ہاؤس ویسٹ، فیڈ انڈسٹری کے ضمنی اجزا، اور زرعی باقیات اگر سائنسی بنیادوں پر استعمال کیے جائیں تو یہ بائیو گیس، نامیاتی کھاد، فیڈ اجزا، توانائی اور ماحول دوست مصنوعات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے ری سائیکلنگ صرف شہری فضلے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ خوراک، زراعت، لائیوسٹاک، ماحولیات اور دیہی معیشت سے براہِ راست وابستہ ایک جامع قومی ایجنڈا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب اور ان کی ٹیم نے ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا ہے جو آنے والے وقت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی بقا اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ کانفرنس علم، تحقیق، صنعت اور پالیسی کے درمیان ایک بامعنی پل ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے نتائج کو صرف کانفرنس ہال تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں عملی سفارشات، پالیسی تجاویز، صنعتی اشتراک، طلبہ کے تحقیقی منصوبوں اور مقامی سطح کے پائلٹ پراجیکٹس میں تبدیل کیا جائے۔
قدرت کا نظام ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ہر شے کا ایک مقصد، ایک کردار اور ایک تسلسل ہے۔ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نظام کو سمجھے، اس سے سیکھے اور اپنی ترقی کو فطرت کے اصولوں کے مطابق ڈھالے۔ ری سائیکلنگ کا فلسفہ دراصل فطرت کے اسی سبق کی جدید سائنسی تعبیر ہے۔ یونیورسٹی آف کمالیہ کا یہ قدم قابلِ ستائش ہے اور امید ہے کہ یہ کانفرنس پاکستان میں پائیدار ترقی کے حوالے سے ایک نئی علمی و عملی تحریک کا آغاز ثابت ہوگی۔