
ڈاکٹر خورشید خان
جامعہ کے تناظر میں لکھی ایک پروفیسر کی کہانی، جسے اپنی سے آدھی عمر کی ایک عورت اچھی لگتی تھی۔
اس کا پورا نام عاتکہ اصفہانی تھا جسے پروفیسر واصفی پیار سے عاتی کہہ کر پکارتے تھے۔ جب پروفیسر واصفی کی اس سے پہلی ملاقات ہوئی تو وہ ان کے ڈیپارٹمنٹ میں بطور طالبہ آئی تھی۔ تب وہ بیس سال کی ایک نوخیز لڑکی تھی، جو نہایت ہی محنتی اور ہنس مکھ تھی۔ سفید چاندی جیسا رنگ اور ہلکی نیلی آنکھیں، وہ کانچ کی بنی کوئی گڑیا لگتی تھی۔ اس کے اجداد برسوں پہلے اصفہان سے پاکستان چلے آئے تھے۔ عاتی نے چار سال پروفیسر واصفی کے شعبے میں بڑی لگن سے ڈگری مکمل کی اور پھر اپنے شہر اسلام آباد چلی گئی۔
ایک دن ڈین صاحب نے پروفیسر واصفی کو بتایا کہ عاتی کی نوکری کے لیے درخواست آئی ہے اور انہوں نے اسے ملازمت دے دی ہے۔ وہ جلد لیبارٹری جوائن کر لے گی۔ پروفیسر واصفی کو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ایک محنتی بندے کا اضافہ ہو جائے گا۔ جلد ہی عاتی نے پھر سے پروفیسر واصفی کا ڈیپارٹمنٹ جوائن کر لیا اور ان کے ساتھ کئی سال اکٹھے کام کیا۔ کام کے بوجھ کی وجہ سے کبھی بھی پروفیسر واصفی نے عاتی کو بگڑتے یا خفا ہوتے نہیں دیکھا، جیسا کہ عموماً دوسرے لوگ ہو جاتے ہیں۔
ایک دن پروفیسر واصفی نے اس سے پوچھا، "تمہیں کون سی بات اپ سیٹ کرتی ہے یا تمہیں کس بات پر غصہ آتا ہے؟”
اس نے جواب دیا، "مجھے کبھی غصہ نہیں آتا۔”
ان سالوں میں وہ ڈھیروں باتیں کرتے رہے۔ بارش برستے دنوں میں وہ کینٹین سے قیمے بھرے سموسے اور پکوڑے منگواتے۔ وہ اقبال کی شاعری پر گفتگو کرتے۔ گوگوش، ابراہیم حامدی، داریوش اقبالی، مہدی حسن، نور جہاں، مائیکل جیکسن، بونی ٹیلر، سیلین ڈیان اور دعا لیپا کے گانوں پر تبصرہ کرتے۔ امریکہ، انگلینڈ، یورپ اور کینیڈا کی یاترا کے قصے ایک دوسرے کو سناتے۔ عاتی اور پروفیسر واصفی ایک دوسرے کو اپنے خواب بھی سناتے کان۔ پروفیسر واصفی نے اسے کھانسی کا علاج دیسی قہوے سے کرنا سکھایا، جبکہ عاتی نے پروفیسر واصفی کو فسنجان اور چلو کباب پکانے کا طریقہ بتایا۔ اس نے پروفیسر واصفی کو یہ بھی بتایا کہ اس کے ابو زلزلے کے دوران متاثرہ لوگوں کی بحالی کے لیے آزاد کشمیر اور مانسہرہ بھی گئے تھے۔
عاتی کی عمر اور پروفیسر واصفی کی عمر میں تیس سال کا فرق تھا مگر ان کی بے تکلفی میں یہ فرق کبھی رکاوٹ نہ بنا۔ وہ پروفیسر واصفی کو کہتی، "پروفیسر واصفی یو آر ویری فنی۔”
ڈیپارٹمنٹ میں دو نوجوان اسسٹنٹ پروفیسر بھی کام کرتے تھے جو بڑے ہی پروفیشنل اور دلجمعی کے ساتھ کام کیا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک تو اتنا مذہبی تھا کہ وہ ہر وقت قرآن پڑھنے کی طرف مائل رہتا تھا اور دوسرا فرہاد تیمور نامی نوجوان بھی بے حد نفیس تھا۔ پروفیسر واصفی سوچتے کہ عاتی اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی پسند کر لے تو وہ نوجوان خوش قسمت ہوگا، مگر وہ کسی اور کو دل دے بیٹھی تھی اور کچھ سالوں پہلے اس سے شادی کر کے اس کے ساتھ رہ رہی تھی۔
ایک دن پروفیسر واصفی نے پوچھا، "تمہاری نئی گاڑی کی قسط کتنی ہے؟”
بولی، "مجھے نہیں پتا، میرا شوہر قسط ادا کرتا ہے۔”
پروفیسر واصفی نے کہا، "تم نے شوہر کیا صرف گاڑی کی قسطوں کی ادائیگی کے لیے رکھا ہوا ہے؟”
اس پر وہ ہنس پڑی اور بولی، "نہیں۔۔۔ اور بھی بہت سے کام لے لیتی ہوں۔” اور پروفیسر واصفی بھی ہنس دیے۔
ایک سال پہلے کی بات ہے وہ پروفیسر واصفی سے کہنے لگی، "میں نے اشوگندھا کے کیپسول کھانے شروع کیے ہیں۔”
پروفیسر واصفی نے پوچھا، "وہ کیوں؟”
کہنے لگی، "سکون کے لیے، تاکہ رات کو نیند آ سکے۔” پروفیسر واصفی نے سوچا یہ تو بظاہر ایک پرسکون زندگی گزار رہی ہے، پھر اسے اشوگندھا کی کیا ضرورت پڑ گئی۔
اسسٹنٹ پروفیسر فرہاد تیمور اور عاتی ایک ہی آفس میں بیٹھتے تھے جبکہ پروفیسر واصفی کا دفتر الگ تھا۔ ایک دن پروفیسر واصفی ان کے کمرے میں داخل ہوئے تو فرہاد تیمور کہنے لگا، "سر، آپ کا کوئی نوجوان کزن یا بھانجا فارغ ہے، تاکہ عاتی اس کے ساتھ کسی شام باہر ڈنر پر جا سکے؟”
پروفیسر واصفی نے کہا، "اس کی کیا ضرورت ہے، باہر ڈنر پر تو یہ اپنے شوہر کے ساتھ جا سکتی ہے۔”
وہ بولی، "ناٹ اینی مور سر۔۔۔ وہ احمق تھا، چلا گیا۔”
"چلا گیا مگر کیوں؟” پروفیسر واصفی نے پوچھا۔
عاتی نے جواب دیا، "میں نے اسے گھر سے نکال دیا۔”
پروفیسر واصفی نے پوچھا، "تم نے اس کے ساتھ کتنا عرصہ گزارا؟”
عاتی نے جواب دیا، "تقریباً دس سال۔”
"اب اکیلی رہتی ہو یا کوئی بیٹی یا بیٹا وغیرہ ہے؟” پروفیسر واصفی نے پوچھا۔
وہ بولی، "کوئی نہیں، اکیلی ہوں۔”
پروفیسر واصفی نے کہا، "عاتی، تمہارے دس سال رائیگاں چلے گئے۔”
وہ بولی، "سچ کہا آپ نے، میرے دس سال رائیگاں چلے گئے۔”
پروفیسر واصفی نے مسکرا کر کہا، "عاتی، سچی بات ہے تم لیٹ ہو گئی۔ اگر تم پچیس سال پہلے پیدا ہو جاتی اور آج تم پچاس پچپن کی ہوتیں، تو میں تمہارے ساتھ باہر ڈنر کرتا، تمہارے ساتھ ڈیٹ پر بھی جاتا اور شاید شادی بھی کر لیتا۔”
وہ مسکرائی اور اس نے پروفیسر واصفی کا شکریہ ادا کیا مگر نجانے کیوں اس کی نیلی آنکھوں میں پانی اتر آیا۔
اسسٹنٹ پروفیسر فرہاد تیمور مذاق میں بولا، "پروفیسر واصفی، یہ اب نانی ہی نظر آتی ہے، آپ اس کو ڈنر پر لے جا سکتے ہو۔”
پروفیسر واصفی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئے۔ اگلے دو دن ہفتہ اتوار کی چھٹی تھی اور جامعہ مکمل بند تھی۔ ایک سوال پروفیسر واصفی کے ذہن میں چھپکلی کی طرح چپک گیا تھا کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ عاتی کا شوہر ایسی خوبصورت اور عمدہ خاتون کو اتنے سال بعد چھوڑ گیا۔
پیر کے دن لنچ بریک کے وقت وہ لیبارٹری کے باہر بالکونی میں، سی ایم ایس ڈیپارٹمنٹ کی طرف جانے والی سڑک پر نگاہیں جمائے اکیلی کھڑی تھی۔
پروفیسر واصفی نے کہا، "برا نہ مانو تو ایک سوال پوچھوں جو میرے ذہن میں دو دن سے چپکا ہوا ہے؟”
وہ بولی، "ہاں ہاں کیوں نہیں۔”
پروفیسر واصفی نے پوچھا، "تمہارے شوہر نے تمہیں کیوں چھوڑا؟”
عاتی بولی، "اس نے نہیں، میں نے اس احمق کو چھوڑ دیا۔”
پروفیسر واصفی نے پوچھا، "کیا وہ کسی دوسری عورت کے چکر میں تھا؟”
وہ بولی، "نہیں، اس نے ڈرگز یعنی منشیات کا استعمال شروع کر دیا تھا اور مجھے بھی مجبور کرتا تھا کہ میں ڈرگز لوں، اور مجھے ڈرگز سے نفرت ہے۔”
پروفیسر واصفی نے کہا، "تم نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔”
بولی، "فیصلہ تو اچھا ہے مگر میرے دس سال رائیگاں چلے گئے۔” اور وہ دل گرفتہ ہو کر وہیں دیوار کے ساتھ پڑے اسٹول پر بیٹھ گئی۔
پروفیسر واصفی بھی آہستہ سے اس کے قریب پڑے اسٹول پر بیٹھ گئے اور دھیمی آواز میں بولے، "عاتی، زندگی کے کچھ سال رائیگاں نہیں جاتے۔ وہ ہمیں یہ سکھا جاتے ہیں کہ ہمیں آئندہ کن راستوں پر نہیں چلنا۔”
عاتی خاموش رہی۔ اس کی نیلی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں۔
پروفیسر واصفی نے پھر کہا، "تم نے دس سال نہیں کھوئے، تم نے اپنے آپ کو بچا لیا۔ بعض لوگ پوری عمر غلط لوگوں کے ساتھ گزار دیتے ہیں اور انہیں یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ آہستہ آہستہ اندر سے مر رہے ہیں۔”
عاتی نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور بولی، "مگر اب بہت دیر ہو گئی ہے۔”
پروفیسر واصفی مسکرائے اور کہا، "زندگی میں نئے آغاز کی کبھی دیر نہیں ہوتی۔”
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر ہلکا سا مسکرائی، شاید کئی مہینوں بعد۔
پروفیسر واصفی اسٹول سے اٹھ کھڑے ہوئے، "چلو، کافی پینے چلتے ہیں۔ آج تم لنچ نہیں، صرف مسکرانے کی مشق کرو گی۔”
عاتی بے اختیار ہنس پڑی، "آپ واقعی بہت فنی ہیں۔”
وہ دونوں مین لائبریری کے سامنے والے کیفے کی طرف چل پڑے۔ عاتی کے چہرے پر ایک ہلکی سی حیا کی روشنی اتر آئی تھی اور پروفیسر واصفی نے دل ہی دل میں سوچا کہ کبھی کبھی انسان کسی کی زندگی میں صرف محبت بن کر نہیں، امید بن کر آتا ہے اور تیس سال کا فاصلہ لمحوں میں کٹ جاتا ہے۔