
پاکستان کی پولٹری انڈسٹری نے گزشتہ تین دہائیوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ آج جدید جینیٹکس، معیاری فید، بہتر بائیو سیکیورٹی اور جدید فارم انفراسٹرکچر کی بدولت ہماری پیداوار پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ لیکن اس تمام ترقی کے باوجود ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
آخر کیوں ایک ہی مارکیٹ میں کام کرنے والے دو فارم مختلف نتائج دیتے ہیں؟
دونوں ایک ہی کمپنی کی فیڈ استعمال کرتے ہیں، ایک ہی نسل کے پرندے پالتے ہیں، ویکسینیشن بھی تقریباً یکساں ہوتی ہے، پھر ایک فارم مسلسل پرافٹ کماتا ہے جبکہ دوسرا بار بار لاس کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس کا جواب صرف مارکیٹ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج پولٹری فارمنگ صرف پروڈکشن کا نہیں بلکہ ڈیسیژن میکنگ کا بزنس بن چکی ہے۔
کامیابی صرف مارکیٹ پر منحصر نہیں
ہم اکثر سنتے ہیں کہ اس دفعہ مارکیٹ خراب تھی یا ڈی او سی مہنگا مل گیا یا فیڈ بہت مہنگی ہو گئی تھی۔ یہ تمام عوامل یقیناً اہم ہیں، لیکن اگر صرف یہی کامیابی یا ناکامی کا معیار ہوتے تو ایک ہی وقت میں تمام فارمز کا رزلٹ بھی ایک جیسا ہونا چاہیے تھا۔
حقیقت اس سے مختلف ہے۔
کچھ فارم مشکل مارکیٹ میں بھی مناسب پرافٹ حاصل کر لیتے ہیں جبکہ بعض فارم اچھی مارکیٹ ہونے کے با وجود خاطر خواہ منافع نہیں کما پاتے۔
یہ فرق زیادہ تر بروقت فیصلوں، لاگت پر کنٹرول اور ڈیٹا کے مؤثر استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔
ہر فلوک روزانہ ایک نئی کہانی لکھتا ہے
یک بروائلر فلوک صرف پرندے نہیں پالتا بلکہ روزانہ قیمتی معلومات بھی پیدا کرتا ہے۔ ڈی او سی کی قیمت، فیڈ کنزمپشن، ایف سی آر، مورٹیلٹی، باڈی ویٹ، ادویات، بجلی، ڈیزل، لیبر اور مارکیٹ
ریٹ یہ سب مل کر اس فلوک کی مالی تصویر بناتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر یہ معلومات صرف ریکارڈ رکھنے تک محدود رہتی ہیں۔ جب فلوک فروخت ہو جاتا ہے تب پروفٹ یا الس کیلکولیٹ کیا جاتا ہے، لیکن اس وقت تک ہر اہم فیصلہ ہو چکا ہوتا
ہے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ یہی ڈیٹا فلوک کے دوران استعمال ہو تاکہ بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔
پرافٹ فروخت والے دن نہیں بنتا
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی فلوک کا مالی نتیجہ صرف اس دن طے نہیں ہوتا جب مرغی مارکیٹ میں
فروخت ہوتی ہے۔ پرافٹ یا الس کی بنیاد اس وقت رکھ دی جاتی ہے جب ڈی او سی فارم پر آتا ہے۔
اگر چوزے مہنگے خریدے گئے ہوں، فیڈ کی خریداری مناسب وقت پر نہ ہوئی ہو، ایف سی آر مسلسل خراب جا
ر ہی ہو، مورٹیلٹی بڑھ رہی ہو یا مارکیٹ کے رجحان کو سمجھے بغیر پلیسمنٹ کی گئی ہو تو بعد میں اچھی قیمت
بھی تمام نقصانات پورے نہیں کر سکتی۔ اسی لیے کامیاب فارم صرف پیداوار پر نہیں بلکہ ہر روز ہونے والے فیصلوں پر توجہ دیتے ہیں۔
ڈیجیٹلائزیشن صرف سافٹ ویئر نہیں، ایک سوچ ہے
جب ڈیجیٹلائزیشن کا ذکر ہوتا ہے تو اکثر لوگوں کے ذہن میں مہنگے ای آر پی سسٹمز یا پیچیدہ سافٹ ویئر آتے ہیں۔ حقیقت میں ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد سافٹ ویئر خریدنا نہیں بلکہ بہتر تیز اور درست فیصلے کرنا ہے۔
سوچیں اگر کسی فارم مینیجر یا اونر کے پاس ایسا ڈیش بورڈ ہو جو روزانہ یہ بتائے کہ:
- موجودہ ڈی او سی ریٹ پر فلوک لگانا فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔
- موجودہ کاسٹ کے مطابق بریک ایون ریٹ کیا بنتا ہے۔
- موجوده ایف سی آر پرافٹ پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔
- کون سے مہینے تاریخی طور پر زیادہ رسک رکھتے ہیں۔
- کون سا فارم مسلسل بہتر پرفارمنس دے رہا ہے۔
- کس فلوک پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہ معلومات صرف رپورٹس نہیں بلکہ بہتر بزنس فیصلوں کی بنیاد بنتی ہیں۔
ڈیٹا صرف ریکارڈ نہیں، ایک اثاثہ ہے
زیادہ تر فارم پہلے ہی کافی مقدار میں ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ ڈیٹا کی کمی نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے۔
جب پروڈکشن فنانشل کاسٹ فیڈ، ایف سی آر، مورٹیلٹی، مارکیٹ ریٹ اور دیگر معلومات کو ایک ساتھ اینالیٹکس کے ذریعے دیکھا جائے تو ایسے ٹرینڈز سامنے آتے ہیں جو عام ریکارڈ سے نظر نہیں آتے۔
یہی معلومات مستقبل کی بہتر پلاننگ رسک کم کرنے اور پرافٹ بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔
دنیا آگے بڑھ چکی ہے
ترقی یافتہ پولٹری انڈسٹری میں اب صرف ریکارڈ رکھنا کافی نہیں سمجھا جاتا۔ آج وہاں ریئل ٹائم ڈیش بورڈز، پریڈ کٹیو اینالیٹکس اے ،آئی موبائل ایپس اور فورکاسٹنگ ماڈلز کے ذریعے فارم مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔
فارم مینیجر روزانہ دیکھ سکتے ہیں کہ کون سا فلوک مطلوبہ سمت میں جا رہا ہے، کہاں رسک بڑھ رہا ہے اور کس جگہ فوری ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ یعنی فیصلے اندازوں پر نہیں بلکہ ڈیٹا پر کیے جاتے ہیں۔
پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کے لیے اگلا قدم
پاکستان نے جینیٹکس، فیڈ، ویکسینیشن اور بائیو سیکیورٹی میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ڈیجیٹل فارم مینجمنٹ کو بھی اسی سنجیدگی سے اپنائیں۔ یہ صرف بڑی انٹیگریٹڈ کمپنیوں کی ضرورت نہیں۔
درمیانے اور چھوٹے فارمر بھی ساده ویب سسٹمز، ڈیجیٹل ریکارڈنگ، ڈیش بورڈز، پروفٹ کیلکولیٹرز اور اینالیٹکس کی مدد سے اپنے فیصلوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد انسان کی جگہ لینا نہیں بلکہ انسان کو بہتر فیصلے کرنے کے قابل بنانا ہے۔
مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو ڈیٹا کو سمجھیں گے
آنے والے برسوں میں کامیاب فارم صرف وہ نہیں ہوں گے جن کے پاس بہترین شید، جدید آلات یا اعلیٰ نسل کے پرندے ہوں گے۔ اصل کامیابی ان فارموں کو ملے گی جو اپنے ڈیٹا کو سمجھیں گے، اس کا اینالیسس کریں گے اور اسی بنیاد پر بروقت اور درست فیصلے کریں گے۔
فید، جینیٹکس اور ادویات کی طرح ڈیٹا بھی ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس اثاثے کی قدر ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ جو فارم آج اپنے ڈیٹا کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا سیکھ لیں گے، وہ کل نہ صرف زیادہ پرافٹ کمائیں گے بلکہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ بڑھتی ہوئی لاگت اور غیر یقینی حالات کا بھی زیادہ اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے۔
پولٹری انڈسٹری اب ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں صرف تجربہ کافی نہیں۔ تجربے کو ڈیٹا، اینالیٹکس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنا ہی مستقبل کی کامیابی کا راستہ ہے۔ آج کی پولٹری فارمنگ میں سب سے قیمتی اثاثہ صرف فارم نہیں، بلکہ وہ ڈیٹا ہے جو ہر روز فارم پیدا کرتا ہے۔
جو اسے سمجھ لے گا، مستقبل اسی کا ہوگا۔
تحریر:
فرحان مرتضی
سی ای او
انسائیت اوین