
تحریر ڈاکٹر الطاف گوہر
فارملڈیہائڈ اور اس کا آبی محلول فارملین جدید طب، ویٹرنری سائنس، حیاتیاتی تحقیق اور مختلف صنعتوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کیمیکل حیاتیاتی نمونوں کو محفوظ رکھنے، جراثیم پر قابو پانے اور صنعتی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔
ان کے فوائد کے باوجود غیر تربیت یافتہ افراد کی جانب سے غلط استعمال انسانی صحت، جانوروں، خوراک اور ماحول کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ فارملڈیہائڈ کے بخارات آنکھوں، ناک، گلے، جلد اور نظام تنفس کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسے انسانی سرطان کا سبب بننے والے مادوں کے گروپ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
فارملڈیہائڈ اور فارملین میں کیا فرق ہے
بہت سے لوگ فارملڈیہائڈ اور فارملین کو ایک ہی نام سمجھتے ہیں، لیکن سائنسی طور پر دونوں میں فرق موجود ہے۔
فارملڈیہائڈ
فارملڈیہائڈ ایک بے رنگ، تیز بو رکھنے والی اور آتش گیر گیس ہے۔ اس کا کیمیائی فارمولا سی ایچ ٹو او ہے۔ یہ عام درجہ حرارت پر گیس کی صورت میں موجود ہوتی ہے اور صنعتی خام مال، جراثیم کش مصنوعات اور لیبارٹری کے مختلف کاموں میں استعمال کی جاتی ہے۔
فارملین
فارملڈیہائڈ کو پانی میں حل کرنے سے حاصل ہونے والا محلول فارملین کہلاتا ہے۔ تجارتی فارملین میں عموماً فارملڈیہائڈ کے ساتھ پانی اور اسے مستحکم رکھنے کے لیے میتھانول شامل ہو سکتا ہے۔
فارملین کی مقدار اور ترکیب مصنوعات اور مطلوبہ استعمال کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے کسی بھی محلول کو استعمال کرنے سے پہلے اس کا لیبل، سیفٹی ڈیٹا شیٹ اور متعلقہ ادارے کی ہدایات پڑھنا ضروری ہے۔
فارملین حیاتیاتی نمونوں کو کیسے محفوظ کرتا ہے
فارملین بافتوں میں موجود پروٹینز کے درمیان کیمیائی رابطہ پیدا کرکے خلیات اور بافتوں کی ساخت کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے ہسٹولوجی، پیتھالوجی اور اناٹومی میں نمونوں کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کا استعمال جراثیم کشی کے بعض مخصوص اور منظور شدہ طریقوں میں بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم اسے عام صفائی کے لیے بلا ضرورت استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کے بخارات صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
میڈیکل سائنس میں استعمال
طبی تعلیم اور تشخیصی تحقیق میں فارملین طویل عرصے سے استعمال ہو رہا ہے۔
اناٹومی کی تعلیم
میڈیکل اداروں میں تشریح اعضا کی تعلیم کے لیے انسانی جسم اور اعضا کو محفوظ رکھنے کے منظور شدہ طریقوں میں فارملین شامل ہو سکتا ہے۔
بایوپسی اور پیتھالوجی
مریض سے حاصل کیے گئے بافتوں کے نمونوں کو پیتھالوجی لیبارٹری بھیجنے سے پہلے مخصوص فارملین محلول میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس سے خلیات کی ساخت برقرار رہتی ہے اور بیماری کی درست تشخیص میں مدد ملتی ہے۔
محلول کی مقدار، ارتکاز، نمونے کے حجم اور اسے محفوظ رکھنے کے وقت کا تعین لیبارٹری پروٹوکول کے مطابق کیا جانا چاہیے۔
ویٹرنری سائنس اور لائیوسٹاک میں استعمال
فارملین ویٹرنری تشخیص اور بعض بائیو سیکیورٹی سرگرمیوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
تشخیصی نمونوں کا تحفظ
جانوروں کے پوسٹ مارٹم یا بایوپسی کے دوران حاصل کیے گئے بافتوں کو ہسٹوپیتھالوجی کے لیے محفوظ رکھنے میں فارملین استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تشخیصی نمونے محفوظ کرتے وقت مناسب کنٹینر، درست لیبلنگ، محفوظ پیکنگ اور لیبارٹری کی ہدایات پر عمل ضروری ہے۔
فارم بائیو سیکیورٹی
بعض حالات میں فارملڈیہائڈ پر مبنی مصنوعات جراثیم کشی کے مخصوص پروگراموں کا حصہ ہو سکتی ہیں۔ ان کا استعمال صرف ویٹرنری ماہر، بائیو سیکیورٹی افسر یا تربیت یافتہ عملے کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔
جانوروں، پرندوں، خوراک، فیڈ یا غیر محفوظ عملے کی موجودگی میں اس کی گیس یا محلول کا غیر محتاط استعمال شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
حیاتیاتی اور تعلیمی تحقیق میں اہمیت
مائیکروبیالوجی، ہسٹولوجی، پیتھالوجی اور حیاتیاتی تحقیق میں فارملین کا استعمال عام ہے۔
سائنسی عجائب گھروں اور تعلیمی اداروں میں بعض حیاتیاتی نمونوں کو مخصوص محلول میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔ نمونوں کی نوعیت کے مطابق مختلف کیمیکل اور ارتکاز استعمال ہو سکتے ہیں، اس لیے ہر شفاف جار میں موجود محلول کو لازماً فارملین نہیں سمجھنا چاہیے۔
صنعتی شعبے میں فارملڈیہائڈ
فارملڈیہائڈ مختلف صنعتی مصنوعات کی تیاری میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
فرنیچر اور تعمیراتی مصنوعات
پلائی ووڈ، پارٹیکل بورڈ، ایم ڈی ایف اور بعض دوسری لکڑی کی مصنوعات میں استعمال ہونے والے ریزنز اور چپکنے والے مواد کی تیاری میں فارملڈیہائڈ استعمال ہو سکتا ہے۔
ٹیکسٹائل، پلاسٹک اور کاغذ
یہ بعض کپڑوں، پلاسٹک، ربڑ، کاغذ، پینٹ، کوٹنگز اور صنعتی ریزنز کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
گھروں یا کام کی جگہوں پر بعض تعمیراتی مصنوعات سے کم مقدار میں فارملڈیہائڈ خارج ہو سکتا ہے۔ مناسب وینٹیلیشن اور کم اخراج والی معیاری مصنوعات کا انتخاب خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
خوراک میں فارملین کا استعمال ناقابل قبول ہے
فارملین کو مچھلی، جھینگوں، گوشت، دودھ، پھلوں یا سبزیوں کو تازہ رکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
کسی کیمیکل کا صنعتی، طبی یا لیبارٹری استعمال اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اسے براہ راست خوراک میں شامل کیا جائے۔ خوراک میں صرف وہی مادے استعمال کیے جا سکتے ہیں جو متعلقہ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مخصوص مقدار اور مقصد کے لیے منظور شدہ ہوں۔
بعض ممالک میں مچھلی اور دیگر غذائی اشیا کو مصنوعی طور پر تازہ ظاہر کرنے کے لیے فارملڈیہائڈ کے غیر قانونی استعمال کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ویٹرنری لیبارٹری دستاویزات بھی بعض ممالک میں اسے غیر قانونی فوڈ پریزرویٹو کے طور پر استعمال کیے جانے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
خوراک میں کسی مشتبہ کیمیکل کی موجودگی کا فیصلہ صرف بو، رنگ، سختی یا ظاہری شکل کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے مستند لیبارٹری ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔
فارملین کے فوری صحت کے خطرات
فارملڈیہائڈ گیس یا فارملین محلول سے رابطے کے بعد درج ذیل علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
- آنکھوں میں جلن اور پانی آنا
- ناک اور گلے میں چبھن
- کھانسی اور سانس لینے میں دشواری
- سینے میں جکڑن یا گھرگھراہٹ
- جلد کی سوزش اور الرجی
- زیادہ مقدار نگلنے کی صورت میں متلی، الٹی اور نظام ہاضمہ کو نقصان
- شدید یا زیادہ مقدار میں بخارات کی نمائش جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔
طویل عرصے تک نمائش کے اثرات
فارملڈیہائڈ والے ماحول میں بار بار یا طویل عرصے تک کام کرنے والے افراد میں نظام تنفس کی تکالیف، جلدی حساسیت اور الرجی پیدا ہو سکتی ہے۔
کچھ افراد معمولی مقدار سے بھی حساس ہو جاتے ہیں اور بعد میں کم نمائش پر بھی انہیں آنکھوں، جلد یا سانس کی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔
جگر، گردوں، اعصابی نظام یا یادداشت پر مخصوص اثرات کا تعین نمائش کی مقدار، دورانیے، دوسرے کیمیکلز اور متاثرہ فرد کی صحت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ ایسی علامات کو خود تشخیصی نتیجہ بنانے کے بجائے طبی معائنے اور پیشہ ورانہ صحت کی جانچ سے دیکھا جانا چاہیے۔
کیا فارملڈیہائڈ سرطان کا سبب بن سکتا ہے
بین الاقوامی ادارہ تحقیق برائے سرطان نے فارملڈیہائڈ کو انسانوں میں سرطان پیدا کرنے والے مادوں کے گروپ ون میں شامل کیا ہے۔ امریکی اوکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایڈمنسٹریشن بھی اسے انسانی سرطان کا خطرہ قرار دیتی ہے۔
پیشہ ورانہ ماحول میں طویل عرصے تک زیادہ نمائش خصوصاً ناک اور حلق کے بعض سرطانوں سے منسلک پائی گئی ہے۔ سرطان کا انفرادی خطرہ نمائش کی مقدار، دورانیے، حفاظتی انتظامات اور دوسرے عوامل کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
پولٹری انڈسٹری میں ذمہ دارانہ استعمال
فارملڈیہائڈ پر مبنی جراثیم کشی کے طریقے تاریخی طور پر ہیچری، انکیوبیشن اور بعض فارم تنصیبات میں استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم اس کے بخارات انسانوں اور پرندوں دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
فومیگیشن یا گیس بنانے کا عمل عام کارکن یا غیر تربیت یافتہ فارم مالک کو خود نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے لیے متعلقہ ملک کے قوانین، مصنوعات کے لیبل، ویٹرنری منظوری، خطرے کی جانچ اور تربیت یافتہ عملہ ضروری ہے۔
پرندوں، چوزوں یا غیر محفوظ افراد کی موجودگی میں کسی بھی قسم کی فارملڈیہائڈ فومیگیشن نہ کی جائے۔ جہاں کم خطرے والے منظور شدہ متبادل دستیاب ہوں وہاں انہیں ترجیح دی جانی چاہیے۔
کام کی جگہ پر ضروری حفاظتی اصول
- فارملین استعمال کرنے والے ادارے کیمیکل سیفٹی کا باقاعدہ نظام قائم کریں۔
- تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے
- محلول کا لیبل اور سیفٹی ڈیٹا شیٹ دستیاب ہو
- کیمیکل سے مزاحمت رکھنے والے مناسب دستانے استعمال کیے جائیں
- آنکھوں کے تحفظ کے لیے کیمیکل سیفٹی گوگلز استعمال کیے جائیں
- کام کی جگہ پر مؤثر وینٹیلیشن یا مقامی ایگزاسٹ نظام موجود ہو
- ریسپیریٹر صرف خطرے کی جانچ، درست فلٹر، فٹ ٹیسٹنگ اور پیشہ ورانہ نگرانی کے تحت استعمال کیا جائے
- کیمیکل کو خوراک، ادویات اور جانوروں کی فیڈ سے الگ محفوظ کیا جائے
- کنٹینر کو واضح لیبل کے ساتھ بند رکھا جائے
- غیر تربیت یافتہ افراد اور بچوں کی رسائی روکی جائے
- کام کی جگہ پر ہنگامی شاور اور آنکھیں دھونے کا مناسب انتظام موجود ہو
او ایس ایچ اے نے فارملڈیہائڈ کے لیے پیشہ ورانہ نمائش کی حدود اور کارکنوں کے تحفظ کے تقاضے مقرر کیے ہیں۔ مختلف ممالک میں قانونی حدود مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے مقامی قانون کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔
ہنگامی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے
آنکھوں سے رابطہ
آنکھ کو فوراً صاف پانی سے مسلسل دھوئیں۔ کانٹیکٹ لینز آسانی سے نکل سکتے ہوں تو انہیں نکال دیں۔ فوری طبی مدد حاصل کریں۔
جلد سے رابطہ
آلودہ کپڑے اتار کر متاثرہ جلد کو پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔ جلن، سرخی یا درد برقرار رہنے کی صورت میں طبی معائنہ کرائیں۔
بخارات سانس میں جانے کی صورت میں
متاثرہ شخص کو اپنی حفاظت یقینی بناتے ہوئے فوراً تازہ ہوا میں منتقل کریں۔ سانس لینے میں دشواری، بے ہوشی یا شدید کھانسی کی صورت میں ہنگامی طبی امداد طلب کریں۔
نگلنے کی صورت میں
خود سے الٹی کرانے کی کوشش نہ کریں۔ فوری طور پر طبی مرکز یا زہر سے متعلق ہنگامی رہنمائی فراہم کرنے والے ادارے سے رابطہ کریں۔
کسی بھی شدید نمائش میں متاثرہ شخص کی مدد کرتے ہوئے امدادی کارکن کو خود کیمیکل کی زد میں آنے سے بچنا چاہیے۔
ماحول اور آبی حیات کے لیے خطرات
فارملین کے فضلے کو نالی، کھلے پانی، کھیت یا مٹی میں نہیں بہانا چاہیے۔ غیر ذمہ دارانہ اخراج آبی جانداروں، مٹی کے مفید جرثوموں اور ماحول کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
فضلے کی تلفی صرف مجاز ماحولیاتی ادارے، خطرناک فضلہ سنبھالنے والے تربیت یافتہ عملے اور مقامی قانون کے مطابق کی جائے۔ کیمیکل کو خود سے بے اثر کرنے یا دوسرے مادوں کے ساتھ ملانے کی کوشش خطرناک ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔
ماحول اور آبی حیات کے لیے خطرات
فارملین کے فضلے کو نالی، کھلے پانی، کھیت یا مٹی میں نہیں بہانا چاہیے۔ غیر ذمہ دارانہ اخراج آبی جانداروں، مٹی کے مفید جرثوموں اور ماحول کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
فضلے کی تلفی صرف مجاز ماحولیاتی ادارے، خطرناک فضلہ سنبھالنے والے تربیت یافتہ عملے اور مقامی قانون کے مطابق کی جائے۔ کیمیکل کو خود سے بے اثر کرنے یا دوسرے مادوں کے ساتھ ملانے کی کوشش خطرناک ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔
خوراک محفوظ رکھنے کے قانونی طریقے
خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے درج ذیل منظور شدہ طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
- پاسچرائزیشن
- کیننگ
- چِلنگ
- فریزنگ
- مؤثر کولڈ چین
- صفائی اور حفظان صحت
- منظور شدہ فوڈ گریڈ پریزرویٹوز
- محفوظ پیکنگ
ہر فوڈ پریزرویٹو کی قانونی حیثیت اور قابل اجازت مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف متعلقہ فوڈ اتھارٹی سے منظور شدہ مادہ مقررہ مقدار میں استعمال کیا جائے۔
نتیجہ
فارملڈیہائڈ اور فارملین طب، ویٹرنری میڈیسن، تشخیصی تحقیق اور صنعت کے لیے اہم کیمیکلز ہیں۔ ان کے فوائد اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب انہیں قانونی مقصد، درست ماحول اور تربیت یافتہ عملے کے ذریعے استعمال کیا جائے۔
خوراک کو مصنوعی طور پر تازہ رکھنے کے لیے فارملین کا استعمال ناقابل قبول اور صحت عامہ کے لیے خطرناک ہے۔ اسی طرح لیبارٹری، فارم، ہیچری اور صنعتی اداروں میں غیر تربیت یافتہ عملے کے ذریعے استعمال حادثات، بیماری اور ماحولیاتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
عوامی آگاہی، مؤثر فوڈ انسپیکشن، لیبارٹری نگرانی، کارکنوں کی تربیت اور پیشہ ورانہ حفاظتی معیارات پر عمل کے ذریعے اس کیمیکل کے جائز فوائد حاصل کرتے ہوئے انسانوں، جانوروں اور ماحول کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔